عوامی نیشنل پارٹی کے مرکزی صدر نے تیل کی قیمتوں میں اضافے کو مسترد کردیا

پشاور: اے این پی نے تیل کی قیمتوں میں اضافہ مسترد کردیا، پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ مسترد،واپس لینے کا مطالبہ، اے این پی کے مرکزی صدر اسفندیارولی خان نے کہا کہ وبائی صورتحال میں تیل کی قیمتوں میں 66فیصد تک اضافہ شرمناک اور افسوسناک ہے، پٹرول کی فراہمی میں ناکام حکومت نے مافیا کے سامنے گھٹنے ٹیک دیے،

شیڈول سے ہٹ کر اضافے کی سمری کی منظوری نے ثابت کردیا کہ فیصلے کوئی اور کروارہا ہے، تاریخ میں شاید پہلی بار مہینہ ختم ہونے سے چار دن پہلے فوری سمری منظور کی گئی، کپتان اکثر مافیا کا ذکر کرتا رہتا ہے لیکن خود دائیں بائیں نظر ڈالیں تو مافیا ہی مافیا ہے،

حکومت پیٹرول اور ہائی اسپیڈ ڈیزل پر 47 روپے فی لیٹر تک ٹیکس وصول کررہی ہے، کوئی پوچھنے والا نہیں کہ ٹیکس کی اتنی بڑی رقم کہاں اور کن کی جیبوں میں جارہی ہیں، آئی ایم ایف کی غلام حکومت نے انہی کی ہدایات کی روشنی میں عوام کو لوٹنے کا سلسلہ جاری رکھا ہوا ہے،

ریکارڈ اضافے کیلئے آئی ایم ایف سے بھی مشاورت کی گئی، اس سے بڑی نااہلی اور نالائقی کیا ہوسکتی ہے، پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں کمی سے عوام کو کوئی فائدہ نہیں پہنچایا گیا، قیمتیں کم کی گئیں لیکن تیل دستیاب ہی نہیں تھا،دراصل ذخیرہ اندوزوں کو محفوظ راستہ دیا گیا، عدالت عظمٰی تیل کی قیمتوں میں اضافے کا ازخود نوٹس لے کر تفصیلات طلب کریں۔