نوشہرہ میں مدرسے کے طالبعلم کو اجتماعی زیادتی کے بعد موت کے گھاٹ اُتارنے والوں کو عدالت نے 35،35 سال قید بامشقت کی سزا سُنا دی

نوشہرہ: بعدالت ملک محمد حسنین ایڈیشنل سیشن ججVIنوشہرہ نے بارہ سالہ مدرسہ کے طالبعلم کو اجتماعی زیادتی کے بعد پھانسی دیکر موت کے گھاٹ اتارنے کے مقدمہ سنادیا، دو گرفتار ملزمان کو35،35سال قید بامشقت تین لاکھ روپے جرمانے کی سزا کا حکم سنادیا،

مقدمہ کا مفرور ملزم زیشان کو اشتہاری قرار دیکر دائمی وارنٹ جاری کردئے، عدالتی فیصلے کے بعد دونوں مجرموں کو نوشہرہ  جوڈیشنل لاک آپ سے سینٹرجیل ہری پور منتقل کردیاگیا، 20اکتوبر2017 کو تین سفاک جنسی درندوں  بارہ سالہ طالبعلم عادل خان اجتماعتی زیادتی کے بعد موت کے گھات اتاردیا تھا،

مکی کے کھیتوں میں اجتماعی جنسی درندگی کے بعد بھانسی دیکر موت کے گھاٹ اتار تھا، ملزمان کھیتوں میں عادل کی نعیش  بھینک کر فرار ہوگئے، دونوں نامزد گرفتار ملزمان ابرار عرف طوطی اور زبیر خان کو جرم ثابت ہونے پر زیردفعہ PPC 302میں پچس پچس سال عمر قید بامشقت دو لاکھ روپے جرمانے سنادیا،جنسی درندگی کی دفعہPPC 377کا جرم ثابت ہونے پر مزید دس دس سال قید بامشقت ایک ایک لاکھ روپے جرمانے کی سزا کا حکم سنادیا۔