انصاف کا امتحان

سپریم کورٹ نے اپنے ایک جج کیخلاف بدنیتی پر مبنی صدارتی ریفرنس کو خارج کر کے عدلیہ کی آزادی کیخلاف ایک سازش کو ناکام تو کر دیا ہے، البتہ خطرہ ابھی بھی مکمل طور پر ٹلا نہیں ہے۔ اگرچہ عدالت عظمیٰ نے جسٹس فائز عیسیٰ کو بددیانتی کے الزامات سے بری کر دیا ہے مگر جنگ اب بھی باقی ہے۔ جسٹس عیسیٰ کیس نے ان فاش طریقہ ہائے کار کی قلعی کھول کر رکھ دی ہے جو ایک دیانتدار اور کھرے جج کو پھنسانے کیلئے استعمال کئے گئے تھے۔اس بات میں کوئی شبہ باقی نہیں رہا کہ یہ صدارتی ریفرنس جسٹس عیسیٰ کی شہرت کو داغدار اور عدالت عظمیٰ کو بدنام کرنے کی ایک مذموم کوشش تھی۔جسٹس عیسیٰ پر یہ الزام کہ ان کا خاندان بیرون ملک بے نامی جائیدادوں کا مالک ہے، ان کی اہلیہ کے وضاحتی بیان کے بعد یکسر بے جان ہوکر رہ گیا تھا۔ جسٹس عیسیٰ کے فیض آباد دھرنا کیس میں فروری 2019 کے تاریخی فیصلے کے چند ماہ بعد ہی ان کیخلاف ریفرنس کا دائر ہونا محض اتفاق نہیں ہو سکتا۔ ایک مذہبی رجعت پرست گروہ کے اس غیرقانونی اقدام کے سبب دارلحکومت میں نظام زندگی دو ہفتوں تک مکمل طور پر مفلوج رہا اور اس دوران کہیں بھی قانون کی عملداری دیکھنے کو نہ ملی۔ اس فیصلے میں سیکورٹی اداروں کو اپنی ذمہ داری ٹھیک سے ادا نہ کرنے پر موردالزام ٹھہرایا گیا اور حکم نامے میں اصغرخان کیس کی مثال دیکر ان اداروں کی شمولیت کی طرف نشاندہی کی گئی تھی۔ اگرچہ اس فیصلے میں قصوروار ٹھہرائے گئے عوامل کو عوامی اور سیاسی حلقوں کی جانب سے پہلے تنقید کا نشانہ بنایا جاتا رہا تھا البتہ عدالت عظمیٰ کی جانب سے سیاسی معاملات میں مداخلت پر اس قدر شدید انتباہ کی پہلے کوئی مثال خال خال ہی نظر آتی ہے۔ جسٹس عیسیٰ کی جانب سے مقتدر حلقوں کیخلاف سخت فیصلوں کی یہ کوئی پہلی مثال نہیں۔ سال2016 میںدرجنوں وکلا کو لقمۂ اجل بنا دینے والے کوئٹہ دہشتگرد حملے پر تشکیل کردہ سپریم کورٹ کمیشن کا رکن ہوتے ہوئے بھی انہوں نے اس وقت کے وزیرداخلہ چودھری نثار اور ان کے معاون سیکورٹی اداروں کو دہشتگرد تنظیموںکیخلاف سخت کارروائی نہ کرنے پر قصوروار ٹھہرایا تھا۔ فیض آباد دھرنا کیس پر ناصرف وزارت دفاع بلکہ پاکستان تحریک انصاف اور متحدہ قومی موومنٹ نے بھی نظرثانی کی اپیل کی تھی اور اسی دوران کچھ ٹی وی چینلوں اور سوشل میڈیا پر جسٹس عیسیٰ کیخلاف ایک منظم تحریک کا آغاز کر دیا گیا تھا۔ سپریم کورٹ کے کسی بھی جج کو اس کے دئیے گئے فیصلے کی بنیاد پر اس قدر بیدردی سے میڈیا ٹرائل کا نشانہ بنانے کی مثال اس سے پہلے موجود نہیں۔ اس سب کے کچھ ہی عرصہ بعد جسٹس صاحب کے کیخلاف کچھ غیرظاہر شدہ اثاثوں کے حوالے سے ایک صدارتی ریفرنس دائر کیا جانا حکومت کی بدنیتی کا منہ بولتا ثبوت تھا۔ دلچسپ بات یہ کہ جسٹس فائز عیسیٰ اور ان کے خاندان کے برطانیہ میں جائیدادیں رکھنے کے حوالے سے بنایا گیا پورا کیس حال ہی میں تشکیل کردہ ایسٹ ریکوری یونٹ کی ایک تفتیش پر منتج تھا جس کی سربراہی وزیراعظم کے معاون خصوصی برائے احتساب، شہزاد اکبر کرتے ہیں۔ شہزد اکبرکے حوالے سے یہ کہا جاتا ہے کہ انہیں ان اثاثوں کے حوالے سے ابتدائی معلومات ایک صحافی سے موصول ہوئیں ۔یہ بات اس ساری تحقیق کو مزید مشکوک بنا دیتی ہے۔ مزید برآں اس ایسٹ ریکوری یونٹ کے دائرہ اختیار کے حوالے سے بھی متضاد آراء پائی جاتی ہیں۔ ماہرین کے مطابق یہ ادارہ ایک سپریم کورٹ کے جج کیخلاف ایسی تحقیقات کرنے کا قانونی طور پر مجاز ہی نہیں ہے۔ ایسے اقدامات سے سپریم کورٹ کے ججوں کی جاسوسی کا پہلو بھی منکشف ہوتا ہے۔ ملک کی اعلیٰ ترین عدالت کے جج کیخلاف ایسی کارروائی کو ہم جداگانہ حیثیت میں نہیں دیکھ سکتے۔ اگرچہ یہ بات درست ہے کہ جسٹس عیسیٰ کو ان کی بے باکی کے سبب ان نتائج کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے البتہ مجموعی طور پر یہ عدلیہ کے پورے ادارے کو ہی دباؤ میں لانے کیلئے کیا گیا ہے۔ یوں معلوم ہوتا ہے کہ حکومت اور کچھ ادارے خود پر عدالتی نگرانی کو برداشت کرنے کی تاب نہیں رکھتے۔ عدالتی فیصلے کے باوجود بھی جسٹس عیسیٰ کیخلاف میڈیا میں ایک منظم تحریک اب بھی جاری ہے۔ بہت سے ماہرین کی رائے ہے کہ یہ سب انہیں 2023 میں سپریم کورٹ کا چیف جسٹس بننے سے روکنے کیلئے کیا جا رہا ہے۔ ایسے مذموم مقاصد ملک میں قانون کی بالادستی کیلئے تباہ کن ثابت ہو سکتے ہیں۔ کوئی ادارہ چاہے کتنا ہی طاقتور کیوں نہ ہو، قانون سے اوپر نہیں ہو سکتا۔ہمیں ملک میں سیاسی استحکام اور جمہوریت کی مضبوطی کی خاطر جسٹس عیسیٰ کی پچھلے سال اپنے فیصلے میں کی گئی انتباہ پر توجہ دینا ہوگی۔ اس ملک نے ماورائے آئین اقدامات کی بہت بھاری قیمت چکائی ہے اور ہمیں یہ تاریخی سبق کسی صورت فراموش نہیں کرنا چاہیے۔ ریاست کے تمام ہی اداروں کو آئین کی پاسداری یقینی بنانا ہوگی اور یہ یاد رکھنا ہوگا ایک مضبوط اور خودمختار عدلیہ ہی ایک مستحکم جمہوریت کی بنیاد ہوتی ہے۔
(بشکریہ ڈان، ترجمہ: خزیمہ سلیمان)