پیالی میں طوفان کا حاصل؟

حزب اختلاف کی دھڑا دھڑا ہوائی فائرنگ اور بجٹ منظور نہ ہونے دینے کے دعوئوں کے برعکس حکومت کو بجٹ پاس کرنے کا موقع دیا گیا یا موقع ملا اگرچہ حکومت نے فنانس بل کی منظوری تو حاصل کر لی اس کے باوجود حکومت کی ایوان میں عددی اکثریت کا سوال بدستور موجود ہے ان دونوں امور سے قطع نظر ملک میں بروقت سیاسی بحران کی طنابیں کسنے اور ڈھیلی کرنے کی جو کیفیت قوم کے اعصاب پر سوار کرنے کا رویہ ہے وہ ایوانوں اور سیاستدانوں کیلئے مشغلہ ہو یا سنجیدہ اس سے عوام اور قوم جس غیر یقینی کی کیفیت سے دوچار رہتی ہے اور خاص طور پر بیرونی سرمایہ کاری اور ملک میں سرمایہ کاری جس طرح متاثر ہوتی ہے اس کا یہ ملک مزید متحمل نہیں ہوسکتا۔ہم سمجھتے ہیں کہ ملک میں اچھی حکمرانی اور مربوط پالیسیاں حصول اقتدار شراکت اقتدار اور حزب اختلاف کا کردار نبھانے کا ایک سلیقہ اور طریقہ کار ہونا چاہیئے ہروقت پیالی میں طوفان آنے کی پیشگوئی اور حکومت کو کمزور وشکستہ اور ایوان کا اعتماد کھودینے جیسے پراپیگنڈے سے اجتناب کرنے کی ضرورت ہے تاکہ ملک میں کوئی پالیسی اور منصوبہ بندی ممکن ہو سکے اور اس پر عملدرآمد کی نوبت آئے ایوان سے بجٹ کی منظوری حکومت پر اعتماد سمجھی جاتی ہے اور بجٹ کا مسترد کیا جانا وزیراعظم کے ایوان کا اعتماد کھو دینے کا مترادف ہوتاہے اب جبکہ بجٹ کی منطوری میں حزب اختلاف نے حکمت عملی کے ساتھ تعاون کا مظاہرہ کیا تو تحریک عدم اعتماد کے آپشن کا شوشہ چھوڑنے کی ضرور ت نہیں جاری حالات میں ملک جس نہج پر ہے اس سے نمٹنا تنہا حکومت کے بس میں نظر نہیں آتا ان حالات میں قومی مفاہمت کی ضرورت ہے جو اس طرح کی بیان بازی اور کشمکش میں ممکن نہیں۔بہتر ہوگا کہ حکومت اور حزب اختلاف کو محاذ آرائی کی بجائے باہم مل بیٹھنے اور تعاون کی راہ اپنانی چاہیئے اور ملکر ملک کو بحران سے نکالنے کی سعی کرنی چاہیئے۔
سمارٹ لاک ڈائون کی بجائے امتیازی لاک ڈائون
کورونا کے خطرے کے پیش نظر صوبائی دارالحکومت پشاور کے مزید علاقوں میں سمارٹ لاک ڈائون لگادیا گیا حکومتی حکمت عملی کتنی کامیاب ومئوثر ہے اور دنیا میں اس کے نتائج کیا نکلے اس سے قطع نظر مشکل امر یہ ہے کہ نہ تو ملکی وصوبائی لاک ڈائون میں اس کے حقیقی تقاضے پورے کئے گئے سمارٹ لاک ڈائون کی تو مذاق سے زیادہ کی حقیقت نہیں انتظامیہ نے جہاں جہاں لاک ڈائون کا اعلان کیا ہے یا اس وقت جن علاقوں میں لاک ڈائون ہے اولاً ان علاقوں میں امتیازی لاک ڈائون دیکھنے میں آتا ہے اس کے ساتھ ساتھ جزوی اور ایک دو دن بعد لاک ڈائون کو مذاق بنادیا جاتا ہے اس طرح کی لاک ڈائون کر کے مقاصد کا حصول ممکن نہیں سمارٹ لاک ڈائون کی بس اتنی تشریح کافی ہے کہ ٹیکسی اور چھوٹی یاپبلک ٹرانسپورٹ میں عام آدمی کی آمدورفت پر پابندی زیادہ سے زیادہ ناکے پر ماسک دیکھا جاتا ہے لیکن اس عمل کیلئے سڑک پر رکاوٹ کھڑی کر کے ٹریفک جام اور رش کی جو کیفیت بنادی جاتی ہے اس سے تو لاک ڈائون وسماجی فاصلے واحتیاطی تدابیر کی ہونے والی خلاف ورزی سے لاک ڈائون کا مقصد ہی فوت ہوجاتا ہے حکومت کو چاہیئے کہ جہاں سمارٹ لاک ڈائون کیا جائے وہاں اس کی مدت کے اندر مکمل طور پر آمدورفت بند کی جائے اور بااثر کیلئے نرمی اور عوام کیلئے سختی کا امتیازی رویہ نہ اپنایا جائے۔
بجلی وگیس کے یکمشت اضافی بل
بجلی اور گیس کے بلوں کی تین ماہ بعد یکمشت ادائیگی صارفین کی اکثریت کی اسطاعت سے باہر ہونا اس لئے فطری امر ہے کہ اس دوران زندگی کا ہر طبقہ متاثر ہوا ہے اور معاشی مشکلات کا شکار ہے محکموں کو چاہیئے کہ قسط وار وصولی کرے اور جو اضافی یونٹ ڈالے گئے ہیں ان کو کم کر کے میٹر ریڈنگ کے مطابق کرے۔پیسکوکے بل کا نظام اس قدر مضحکہ خیز بن گیا ہے کہ ایک ہی سب ڈویژن کے ایک گلی کے صارفین کو تو ایک ماہ کی عدم ادائیگی پر انقطاع کا نوٹس جاری کر رہا ہے جبکہ اسی کے ساتھ کی گلی کے مکینوںکو سٹمپ لگا کر وزیراعظم کی طرف سے ریلیف اور موخر ادائیگی کی ہدایت ملتی ہے۔ ہمارے سرکاری محکموں نے وزیراعظم کی ہدایات پر کس حد تک عمل کیا یا نہیں اس سے قطع نظر کم از کم میٹر ریڈنگ کے مطابق بلوں کی وصولی کی جائے تاکہ صارفین دوہری مشکل کا شکار نہ ہوں۔
سرکاری مشینری کی ناکامی مسائل کی بڑی وجہ
سپریم کورٹ میں ادویات کی قیمتوں میں اضافے سے متعلق مقدمے کی سماعت کے دوران عدالت عظمیٰ نے ریمارکس دیئے ہیں کہ ڈرگ ریگولیٹری اتھارٹی ادویہ ساز کمپنیوں کے نیچھے لگا ہوا ہے عدالت عظمی کے ریمارکس کی روشنی میں جائزہ لیا جائے تو تقریباً ہر اتھارٹی کی یہی صورتحال ہے۔سکولز ریگولیٹری اتھارٹی ہو یا اوگرا یا کوئی اور اتھارٹی سرکاری عمال عملی طور پر اپنے فرائض کی نفی اور مافیا کو فائد پہنچانے کی ذمہ داری نبھارہے ہیں یہ انتظامیہ اور سرکاری مشینری کی بے بسی ہی ہے جس کے باعث آج عوام ایک مشکل کے بعد دوسری مشکل کا شکار ہورہے ہیں کوئی بھی حکومت اچھی حکومت تب کہلائے گی جب عوام قانون شکنوں کے رحم وکرم پر نہ ہوں اور ریاست ان کے حقوق کا تحفظ کرے۔