بی آر ٹی مکمل ہو کر بھی نا مکمل

خیبر پختونخوا حکومت نے بالآخر دعویٰ تو کردیا ہے کہ بی آر ٹی مکمل ہوگئی ہے لیکن اس کے باوجود اس کے افتتاح کی تاریخ کا اعلان کرنے میں لیت ولعل سے کام لیا جارہا ہے کہ پشاور بس ریپڈ ٹرانزٹ منصوبہ مکمل کرلیا گیا ہے تاہم کورونا کے پھیلائوکے پیش نظر اب تک اس کا افتتاح نہیں کیا جا سکتا۔ ٹرانسپورٹ کے صوبائی وزیرکے مطابق منصوبہ اپنے مقررہ وقت سے ایک سال قبل مکمل ہوا ہے۔بی آرٹی کی تعمیر اور اس پر آنے والی لاگت،مخالفین کی تنقید اور بی آرٹی کرپشن بارے تحقیقات وحکم امتناع سارے سوالات اور مسائل کا حل بی آرٹی کے بسوں کے مسافر ڈھونے میں ہے۔ اس منصوبے کا افتتاح کر کے جہاں حکومت بہت سے مسائل وتنقید کی گرفت سے نکل سکتی ہے وہاں دوسری جانب اس منصوبے کی تکمیل کیساتھ تحقیقات کے آغاز کے مشکل کا سامنا حکومت کیلئے بڑا چیلنج ہے۔ اس قسم کی صورتحال میں حکومت گویم مشکل ونہ گویم مشکل کی صورتحال کا شکار ہے لیکن دیر یا بدیر اس کا افتتاح تو ہونا ہے۔ اگر اس کی تکمیل ہوچکی ہے تو افتتاح میں تاخیر نہیں ہونی چاہئے، بی آرٹی کیلئے جو بھاری بھر کم قرضہ لیا گیا ہے غالباً اس ماہ سے اس کے اقساط کی ادائیگی کا سلسلہ بھی شروع ہونا ہے، حکومت اگر سروس شروع نہیں کرے گی تو قسط کی رقم پلے سے دینا پڑے گی۔ بجٹ میں سبسڈی کیلئے بھی رقم رکھی گئی ہے، بی آر ٹی کی کمرشل عمارتوں کی تکمیل کی صورت میں سبسڈی کی رقم ان عمارتوں کی آمدنی سے حاصل ہوسکے گی۔ عوام بھی اس انتظار میں ہے کہ صوبے کی معیشت پر بوجھ اور بھاری قرضے لیکر جو منصوبہ شروع کیا گیا ہے آخر وہ اس سے کب مستفید ہوں گے۔ حکومت کو چاہیے کہ وہ جلد سے جلد بی آرٹی کا افتتاح کر کے عوام کو سفر کی مناسب سہولت فراہم کرے۔
مارگئی مہنگائی
کورونا وائرس کے باعث لاک ڈائون کے دوران مہنگائی کے سیلاب نے عوام کی جو درگت بنائی وہ کسی سے پوشیدہ نہیں۔ ملک بھر میں کہیں بھی سرکاری نرخ پر اشیائے ضرورت کی فروخت کی بجائے ہر جگہ مرضی کے نرخ پر اشیاء فروخت ہونے کی شکایات ہیں۔ ملک میں ایک طرف کورونا کی وباء سے صورتحال ابتر ہے تو دوسری طرف مہنگائی کا کورونا ہے۔ ستم بالائے ستم یہ ہے کہ ملک میں کاروبار شروع ہونے پر چھوٹے بڑے شہروں سے یہ شکایات موصول ہورہی ہیں کہ پھلوں اور اشیائے خوراک سے لیکر اشیائے صرف تک ہر چیز کی قیمتوں میں بلاوجہ اضافہ کر دیا گیا ہے، یہ صورتحال تشویشناک ہے۔ بدقسمتی سے ہمارے ملک میں کسی بھی مشکل صورتحال میں ہم وطنوں سے تعاون کی بجائے انہیں دونوں ہاتھوں سے لوٹنے کا مرض زیادہ پختہ ہے۔ فقط یہ کہہ دینا کافی نہیں کہ حکومتیں اپنی ذمہ داری پوری نہیں کرتیں، تلخ حقیقت یہ ہے کہ ہمارا معاشرہ انفرادی احساس ذمہ داری کے فقدان کا شکار ہے، ہر شخص بس اپنے بارے میں سوچتا ہے، اپنی زندگی کو بہتر رکھنے کیلئے جائز وناجائز کو درست خیال کرتا ہے، اس سوچ سے نجات حاصل کرنے کی ضرورت ہے۔ صوبائی حکومت کو انتظامیہ کو اس امر کا پابند بنانا چاہئے کہ مجسٹریٹس مسلسل صبح تا شام مارکیٹوں میں جائیں اور گرانفروشوں کیخلاف برموقع جرمانہ وگرفتاری کی کارروائی کریں اور اشیائے صرف کی قیمتوں کو اعتدال میں لانے کا اپنا کردار ادا کریں۔
پولیس کے خلاف بڑھتی شکایات
خیبر پختونخوا میں عوام کی جانب سے پولیس کیخلاف روزانہ38شکایات اعلیٰ حکام کو موصول ہونے لگیں، گزشتہ5ماہ کے دوران صوبہ بھر سے پولیس کیخلاف 5ہزار 777شکایات موصول ہوئیں،سب سے زیادہ 548 شکایات پشاور سے درج کرائی گئی ہیںجن میں501شکایات کا ازالہ کرنے کا بتایا گیا ہے۔ عوامی شکایات کی روشنی میں اس سال 56پولیس اہلکاروں کو بڑی سزائیں اور 1پولیس اہلکار کو معمولی سزا دی گئی ہے ۔پولیس کیخلاف روزانہ کی بنیاد پر اڑتیس رپورٹ آنا اور پورے سال میں صرف چھپن کو سزا ملنا جزاوسزا کے عمل کی تاخیر اور ناقص ہونے پر دال ہو نہ ہو حقیقت یہ ہے کہ عام آدمی تو کیا متوسط طبقے کا کوئی شخص بھی پولیس کیخلاف تحقیقات کروانے اور شکایت کرنے کا تو سوچ بھی نہیں سکتا اس کی بنیادی وجہ ہی یہ ہے کہ پولیس کیخلاف شکایات کا کچھ حاصل نہیں ہوتا اور بالآخر شکایت کنندہ کو ہی کسی نہ کسی صورت میں بھگتنا پڑتا ہے۔ تہکال میں ایک شخص کو تھانے میں برہنہ کرنے کے حالیہ واقعے ہی کو لے لیں، پولیس بااثر خاندانوں کی وساطت سے مظلوم خاندان کو جرگہ کے نام پر صلح پر مجبور کر رہی ہے اور بعید نہیں کہ جرگہ کامیاب ہو جائے بہرحال اس سے قطع نظر افسوسناک امر یہ ہے کہ ہمارا معاشرہ اولاً جذبات میں نہیں آتا اور جذبات میں آئے تو اس کا دورانیہ ایک دو دن ہی کا ہوتا ہے، اس کے بعد مظلوم کو تنہا چھوڑ دیا جاتا ہے جسے انصاف کم ہی ملتا ہے۔ جہاں اسی طرح کی صورتحال کے باوجود اتنی تعداد میں شکایات ریکارڈ ہورہی ہیں تو سوچنا چاہئے ایک عام آدمی کو پولیس سے کس قدر شکایات ہونگی۔ پولیس میں جب تک کالی بھیڑیں موجود ہیں عوام کی شکایات میں کمی ممکن نہیں، پولیس کی اصلاح کا آغاز کالی بھیڑوں کیخلاف کارروائی سے ہو تو بہتری کی موہوم اُمید ہے دوسری کوئی صورت نظر نہیں آتی۔