قومی فضائی کمپنی کی بحالی کا معاملہ

پی آئی اے کے پائلٹوں کی غیر ذمہ داری کی انتہا کی تفصیل سامنے آنے پر نہ صرف شہری ہوابازی کا محکمہ اور فضائی کمپنی کو مشکلات اورخجالت کا سامنا ہے بلکہ یہ پورے پاکستانی پائلٹوں اور عوام کیلئے بھی باعث افسوس امر ہے۔ پائلٹ بہنوں کے حوالے سے جو تفصیلات سامنے آئی ہیں وہ شہری ہوابازی کی تاریخ میں شاید ہی کبھی دہرائی جائے، اس معالے سے قطع نظر بھی ملک میں شہری ہوابازی اور فضائی خدمات کے حوالے سے دنیا کے تحفظات کے دیگر بڑی اور سنجیدہ وجوہ ہیں جن کو دور کئے بغیر معطلی کے دورانئے اور خدانخواستہ مستقل پابندی کے خطرات سے نکلنا ممکن نہ ہوگا۔ واضح رہے کہ ایوی ایشن سیفٹی مینجمنٹ سسٹم ایک منظم طریقہ ہے جس کے تحت ایئرلائنز کے انتظام، معاملات اور احتساب کے حوالے سے پالیسیوں اور طریقہ کار کو مربوط کیا جاتا ہے۔ جس کا مقصد طیاروں اور عملے کے تحفظ کو بہتر بنانا ہے جو کہ نتیجتاً مسافروں کے تحفظ پر منتج ہوتا ہے۔ حفاظتی اقدامات اور پائلٹس کے جعلی لائسنس وغیر ذمہ داری کی انتہا کے واقعات کے تناظر میں قومی فضائی کمپنی کی پروازوں کے داخلے پر جو پابندی عائد کی گئی ہے ماہرین کے مطابقپی آئی اے کی اپیل اس بار اتنی آسان نہیں ہو گی کیونکہ سوالیہ نشان صرف پی آئی اے پر نہیں، سول ایوی ایشن کی نااہلی اور ریاست پاکستان کی قابلیت، اس کی نگرانی اور اس کے طرزِ عمل پر لگایا گیا ہے جس کو درست کرنے کیلئے صرف پی آئی اے کے اقدامات کافی نہیں ہوں گے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر حکومت پاکستان اس معاملے کو سدھارنے میں سنجیدہ ہے تو حکومت پاکستان کو ایک بین الاقوامی کمیشن کا اعلان کرنا چاہیے جس میں ایازا، امریکہ کی فیڈرل ایوی ایشن ایجنسی، عالمی سول ایوی ایشن کی تنظیم آئی سی اے او، عالمی ایئر ٹریول تنظیم ایاٹا اور عالمی فیڈریشن آف ایئرلائن پائلٹس ایسوسی ایشن کی نمائندگی ہو اور جو پائلٹس کے لائسنسگ کے نظام کا جائزہ لے۔اس میں موجود سقم کا جائزہ لیا جائے، اس میں کرپشن کا راستہ کھولنے والے در بند کرے اور اس معاملے پر اپنی رپورٹ کیساتھ ایک جامع شفاف منصوبہ پیش کرے۔اس صورتحال سے نکلنے کیلئے سخت اقدامات کر کے اپنے گھر کی صفائی کرنے اور ریگولیٹر (سول ایوی ایشن اتھارٹی)کی مکمل تنظیم نو کرنے کیساتھ ساتھ دنیا کوباور کرانے کی ضرورت ہے کہ خامیاں دور کی گئی ہیں، ضرورت اس امر کی ہے کہ پروازوں اور فضائی آپریشن کے تحفظ کیلئے جتنا جلد ہو مذکورہ معلومات فراہم کی جائیں جو مستند اور ہر طرح سے قابل قبول ہوں اس کے بعد ہی پی آئی اے پروازوں پر پابندی اور دنیا بھر میں کام کرنے والے پاکستانی پائلٹوں، انجینئروں اور ماہرین کی ملازمتوں کا تحفظ ممکن ہوسکے گا۔ آئندہ کیلئے شہری ہوابازی کے شعبے میں بھرتیوں اور تقرریوں کا ایساصاف شفاف اور سخت معیار اپنانے کی ضرورت ہے جو کسی طرح بھی بین الاقوامی معیار سے کم نہ ہوں۔
کابل حکومت اپنی ذمہ داری نبھائے
کراچی سٹاک ایکسچینج حملے میں ملوث دہشت گردوں کو افغانستان کے شہر قندھار سے ہدایات ملنے کا انکشاف غیر متوقع نہیں تھا، اس سے ان شکوک وشبہات کی تصدیق ضرور ہوگئی تھی جس کا اظہار کیا جارہا تھا۔افغانستان کی سرزمین ایک عرصے سے پاکستان کیخلاف استعمال ہورہی ہے جس کی روک تھام کی ذمہ داری میں ناکامی دونوں ممالک کے تعلقات پر اثرانداز ہو رہی ہے۔ حالیہ واقعہ کے ذمہ داروں کے حوالے سے معلومات کا افغانستان کی حکومت سے تبادلہ کر کے ان پر زور دیا جائے کہ وہ جلد سے جلد اس نیٹ ورک کے چلانے والوں کیخلاف کارروائی کرے اور آئندہ اس امر کو یقینی بنائے کہ افغانستان کی سرزمین پاکستان کیخلاف استعمال نہ ہو۔
پنشن میں اضافہ اطلاق کا قابل تحسین اقدام
ایمپلائز اولڈ ایج بنیفٹس انسٹی ٹیوشن (ای او بی آئی) کی پنشن میں اضافے کی باقاعدہ منظوری اور اضافہ معمر پنشنروں کی مشکلات کا ازالہ تو نہیں لیکن حکومت کی جانب سے ان مالی حالات میں اس پر عملدرآمد اور حسب وعدہ بقایاجات کی ادائیگی کارنامہ سے کم نہ ہوگا اور اس پر معمر پنشنروں کا ممنون ہونا بھی فطری امر ہوگا۔ خیال رہے کہ12دسمبر 2019 کو وزیراعظم عمران خان نے ای او بی آئی کے تحت پنشن لینے والے افراد کی کم سے کم پنشن ساڑھے 6 ہزار روپے سے بڑھا کر ساڑھے 8 ہزار روپے کرنے کا اعلان کیا تھا۔21 فروری 2020 کو ای او بی آئی بورڈ نے پنشن میں 2 ہزار روپے اضافے کی منظوری دی تھی جس کا اطلاق یکم جنوری 2020 سے ہونا تھا۔تاہم 14 اپریل 2020 کو وفاقی کابینہ نے ای او بی آئی کے پنشنرز کی پنشن میں اضافہ مؤخر کردیا تھا۔دیر آید درست آید کے مصداق معاشرے کے اس کمزور طبقے کی یہ مالی معاونت غنیمت ہے۔ حکومت کو اس فیصلے پر عملدرآمد میں مزید تاخیر نہیں کرنی چاہئے اور حسب وعدہ اضافی پنشن اور بقایاجات کی ادائیگی کا مکمل بندوبست کیا جائے۔