سرائیکی صوبہ’ وعدہ کچھ اور اقدام کچھ اور

2018ء کے انتخابی عمل سے قبل پنجاب کے سرائیکی بولنے والے علاقوں کی اشرافیہ سے تعلق رکھنے والے درجنوں ارکان قومی وصوبائی اسمبلی ایک ایک کرکے نون لیگ کی گاڑی سے اُترنا شروع ہوگئے، اسمبلیوں کی مدت ختم ہوتے ہی مشاورت کے بعد ان جاگیر داروں' مخدوموں' شوگر مل مالکان' قبائلی سرداروں اور چند دیگر نے ''جنوبی پنجاب صوبہ محاذ'' کے نام سے اپنی سیاسی جماعت بنالی۔ اسلام آباد اور لاہور میں دھوم دھڑکے سے پریس کانفرنسیں ہوئیں، مخدوم خسرو بختیار اس پارٹی کے صدر منتخب ہوئے۔ یہ جنوبی پنجاب صوبہ محاذ قیام کے بعد چند قدم ہی چل پایا کہ پھر ایک دن یہ نئی پارٹی تحریک انصاف میں ضم کردی گئی، بظاہراس انضمام کے کردار جہانگیر ترین تھے لیکن کچھ پس پردہ قوتیں ہی اس نیک کام میں پیش تھیں۔ تحریک انصاف اور جنوبی پنجاب صوبہ محاذ کے درمیان نئے صوبے کے قیام کیلئے معاہدہ ہوا، اس معاہدہ کے مطابق پی ٹی آئی نے برسراقتدار آنے کے بعد 100دن کے اندر نئے صوبے کے قیام کیلئے روڈ میپ دینا تھا۔ تقریباً دو سال بعد صوبہ کی بجائے یکم جولائی 2020ء سے سرائیکی علاقوں کیلئے ایک سب سیکرٹریٹ دیا گیا۔ یہ سب سیکرٹریٹ دنیا کا عجیب وغریب سیکرٹریٹ ہے، ایڈیشنل آئی جی پولیس ملتان میں جلوہ افروز ہوں گے اور ایڈیشنل چیف سیکرٹری 100کلو میٹر دور بہاولپور میں۔ اس تقسیم کی وجہ خود تحریک انصاف اور اس کی اتحادی ق لیگ ہے۔ ق لیگ کے وفاقی وزیر سرائیکی صوبہ کے ازلی مخالف ہیں، وہ سابق ریاست بہاولپور کو صوبہ بنوانا چاہتے ہیں۔ سادہ لفظوں میں یہ کہہ لیجئے کہ مقامی آبادی اور آباد کاروں سے تعلق رکھنے والے لیڈروں کے نخرے اُٹھانے کے چکر میں دو سال بعد تقسیم شدہ سب سیکرٹریٹ ''عطا'' کر دیا گیا ہے۔
2018 میں نون لیگ سے الگ ہوئے بعض سرائیکی ارکان اسمبلی نے الیکشن جیپ کے نشان پر بھی لڑا، یہ جیپ کانشان کیا تھا کہانی یا کوئی منصوبہ اسے کسی اور وقت کیلئے اُٹھا رکھتے ہیں۔ تقسیم شدہ سب سیکرٹریٹ کے دونوں بڑے افسر غیرسرائیکی ہیں، مقامی تہذیب وتمدن، تاریخ و روایات سے ناآشنا لیکن خیر یہ حکومت کے معاملے ہیں۔ یہ سیکرٹریٹ پنجاب کے تین ڈویژنوں کیلئے ہوگا۔ ملتان' بہاولپور اور ڈیرہ غازی خان کیلئے، باقی کے سرائیکی اضلاع حسب سابق دو صوبوں میں تقسیم رہیں گے۔ یہی وہ نکتہ ہے جس کی بنیاد پر کسی دل جلے نے پھبتی کسی ''یہ سب سیکرٹریٹ کم اور احساس پروگرام کا لنگرخانہ زیادہ لگتا ہے'' پاکستان کے چاروں صوبوں کے وسط میں موجود سرائیکی بولنے والے اضلاع پر ایک حملہ لارڈ کرزن نے کیاجس نے ڈیرہ اسماعیل خان کو سرائیکی وسیب سے الگ کرکے اسے اس وقت کے تشکیل پانے والے صوبہ این ڈبلیو ایف پی کا حصہ بنا دیا۔ اس سے قبل رنجیت سنگھ نے ملتان پر حملہ کرکے اس پر قبضہ کیا اور ریاست ملتان کو پنجاب کا حصہ بنا لیا گیا۔ پاکستان بننے کے کچھ عرصہ بعد قائم ہونے والے ون یونٹ میں مغربی پاکستان کہلوانے والے حصہ میں موجودہ چاروں صوبے اور ریاستیں شامل کر دی گئیں۔ سرائیکی بولنے والی ریاست بہاولپور بھی پہلے مغربی پاکستان کا حصہ بنی پھر جب جنرل یحییٰ خان کے دور حکومت میں ون یونٹ ختم اور صوبے بحال ہوئے، ریاست بہاولپور کو صوبہ پنجاب کا حصہ بنا دیا گیا یوں تقریباً ڈیڑھ سو سال میں سرائیکی وسیب کا قومی تاریخی تشخص بالکل ختم کر دیاگیا۔ پچھلی لگ بھگ نصف صدی سے سرائیکی بولنے والے اضلاع سرائیکی صوبہ کے قیام کیلئے تحریک چلا رہی ہے، اس تحریک کی بنیاد ریاض ہاشمی ایڈووکیٹ' تاج محمد خان لنگاہ، سیٹھ عبیدالرحمن اور دوسرے بزرگوں نے رکھی تھی۔ یہ بزرگ اب اس دنیا میں نہیں لیکن صوبہ تحریک بہرطور موجود ہے۔
بلا شبہ تحریک انصاف نے پنجاب کے سرائیکی بولنے والے علاقوں سے دو ہزار اٹھارہ میں سرائیکی صوبہ کے نام پر ووٹ لئے مگر اب پچھلے دو سالوں کے دوران پہلے تو اپنے وعدے کے ایفا پر توجہ نہ دی، کوئی قدم اُٹھایا بھی تو یہ عجیب وغریب سب سیکرٹریٹ ہے جس کے دو ابتدائی دفاتر کے درمیان فاصلہ 100کلو میٹر کا ہے۔ یہ تقسیم عوام کیلئے نہیں بلکہ اتحاد بچانے اور لاڈلوں کو خوش کرنے کیلئے ہے۔ عوام تو کہہ رہے ہیں کہ سب سیکرٹریٹ ہی اگر ابتدائیہ ہے تو ملتان یا بہاولپور میں سے کسی ایک جگہ بنا دیں، کام ہونا چاہئے بات آگے بڑھنی چاہئے بدقسمتی سے ایسا لگتا ہے کہ سنجیدہ اقدامات کی بجائے بہلانے کو زیادہ ضروری خیال کیاگیا، اس سے زیادہ یہ کہ 6کروڑ سرائیکی آبادی پر ایک آباد کار ایم این اے کو جو وفاقی وزیر بھی ہے ترجیح دی گئی۔ اندریں حالات یہ عرض کرنے میں امر مانع نہیں کہ اس سب سول سیکرٹریٹ کے قیام کا فائدہ کم اور نقصان زیادہ ہوگا۔ غیرمقامی افسروں کی تقرری اور تقسیم شدہ سیکرٹریٹ پر رائے عامہ خوش نہیں ماسوائے ان چند بستہ برداروں کے جو ہر حکومت کی بس میں سوار ہوتے ہیں۔ ایک رائے یہ بھی ہے کہ پچھلے دو سالوں کے دوران بہاولپور ڈویژن میں غیرمقامی آبادی کو الاٹ کی گئی اراضی گزشتہ 20سالوں کے مقابلہ میں زیادہ ہے، ایڈیشنل چیف سیکرٹری کو بہاولپور بٹھانے کا مقصد اراضی کے قبضہ جات کو مستحکم کروانا ہے۔ حرف آخر یہ ہے کہ سرائیکی وسیب کے لوگ اس فیصلے سے نا خوش ہیں حکومت کو اپنا اصل وعدہ پوراکرنا چاہئے۔