گرتوں کو تھام لے ساقی

نوجوان نسل ہمارا بہت بڑا سرمایہ اور قیمتی اثاثہ ہے، ان کی تعلیم وتربیت ہم سب کی مشترکہ ذمہ داری ہے۔ ہم نے انہیں وقت دینا ہے، اپنے قریب لانا ہے، ان کی مصروفیات پر نظر رکھنی ہے، کہیں ایسا تو نہیں ہے کہ ہم اپنی نوجوان نسل سے محبت کے رشتے توڑ چکے ہیں، انہیں ہماری محبت، رہنمائی، تربیت اور صحبت میسر نہیں ہے؟ تیزی سے بدلتے ہوئے حالات اور زندگی نے جنریشن گیپ میں اضافہ تو نہیں کر دیا؟ نوجوان نسل بڑی متحرک اور توانائی سے بھرپور ہوتی ہے، ان کے اندر موجود صلاحیتیں انہیں پل بھر چین نہیں لینے دیتیں، یہ ہر وقت کچھ نہ کچھ کرنا چاہتے ہیں۔ ہم اپنی منصوبہ بندیوں میں سے انہیں دیس نکالا نہیں دے سکتے ان کی بہترین تعلیم وتربیت، ان کیلئے مثبت مصروفیت، روزگار کے مواقع اور تفریح ہماری سب سے پہلی ترجیح ہونی چاہئے اور یہ سب کچھ صرف سرکاری اداروں تک محدود نہیں ہونا چاہئے۔ اس میں والدین اور اساتذہ کرام کا کردار بھی بڑا اہم ہے، ہمارے ایک اُستاد محترم نوجوان نسل کے حوالے سے کہا کرتے تھے کہ انہیں اپنے قریب لانے کی ضرورت ہے، انہیں اپنے سینے سے لگانا ہے، محبت اور حکمت سے ہی ان کی مناسب تربیت ممکن ہے۔ آج کے حالات دیکھتے ہوئے کہا جاسکتا ہے کہ ہم سے یقینا کوتاہی ہوئی ہے، کیا ہم انہیں وہ ماحول مہیا نہیں کرسکے جس میں ان کی صلاحیتوں کو پھلنے پھولنے اور پروان چڑھنے کا موقع ملتا؟ یہ بہت بڑا لمحہ فکریہ ہے کہ آج ہماری نوجوان نسل نہ صرف آئس کے نشہ میں مبتلا ہے بلکہ ان کی تعداد میں روزبروز اضافہ ہوتا چلا جارہا ہے۔ صرف پشاور کے تین بحالی مراکز میں تقریباً 600لڑکیاں لائی گئی ہیں، ہمارے صوبے میں نوجوان نسل اور بالخصوص طلباء وطالبات کی کثیر تعداد نشہ آور اشیاء کی طرف مائل ہونے لگی ہے، قانون بھی موجود ہے اور قانون نافذ کرنے والے ادارے بھی موجود ہیں لیکن اس سب کچھ کے باوجود ایک منظم نیٹ ورک کی جانب سے بڑی سہولت اور آرام کیساتھ منشیات کی فراہمی کا سلسلہ بھی جاری ہے۔ صرف پشاور ہی سے منشیات کی عادی 600لڑکیوں اور خواتین کا رپورٹ ہونا بہت بڑا لمحہ فکریہ ہے۔ یہ تعداد گزشتہ سالوں کی نسبت بہت زیادہ ہے اور اس میں زیادہ تر ٹین ایجرز شامل ہیں۔ پشاور میں منشیات کے عادی افراد کیلئے بحالی مراکز بھی موجود ہیں، قانون نافذ کرنیوالے ادارے بھی ہیں، کمی کوتاہی کا عنصر بھی اپنی جگہ موجود ہے اور ہم سب یہ بھی جانتے ہیں کہ ہم اپنی ذمہ داریوں کو کس حد تک پورا کرتے ہیں؟ سوچنے والی بات یہ ہے کہ اس برائی کا آغاز کہاں سے ہوتا ہے اور وجوہات کیا ہوتی ہیں؟ بچے کی پہلی درسگاہ تو ماں کی گود ہے پھر گھر کا ماحول، اگر گھر کا ماحول مناسب نہیں ہے یہاں نامناسب ماحول سے یہی مراد ہے کہ سب اپنی اپنی زندگی جی رہے ہیں، والدین کے پاس بچوں کیلئے وقت نہیں ہے، سب کی اپنی اپنی مصروفیات ہیں اپنا اپنا لیپ ٹاپ اور اپنا اپنا سیل فون ہے۔ بچے بچیوں کو ماں باپ کی طرف سے جس توجہ، دیکھ بھال اور تربیت کی ضرورت ہوتی ہے وہ مفقود ہے، تو پھر یوں کہئے کہ بچوں کی شخصیت میں ایک بہت بڑا خلا پیدا ہو جاتا ہے۔ محبت اور توجہ کی کمی سے پیدا ہونے والا یہ خلا اب مختلف حوالوں سے پر کرنے کی کوشش کی جاتی ہے۔ اس قسم کے بچے اور بچیوں کو سکول، کالج اور یونیورسٹی میں کس قسم کے ماحول کا سامنا کرنا پڑتا ہے ان پر کن لوگوں کی توجہ مرکوز ہوتی ہے؟ ان کی شخصیت میں موجود بہت سی محرومیاں انہیں وہ سب کچھ قبول کرنے پر بہت جلد آمادہ کر دیتی ہیں جو ان کی شخصیت کیلئے زہرقاتل کے مصداق ہوتا ہے۔ آئس نشے کے سائیڈ افیکٹس بہت زیادہ خطرناک ہوتے ہیں، اس کا نشہ کرنے کے بعد مریض کئی دنوں تک نیند سے محروم ہوجاتا ہے، اس کی نیند اُڑ جاتی ہے جو جسم میں بہت سی خطرناک بیماریوں کا ایک سبب ہے۔اگر انجکشن لگانے کیلئے مختلف لوگوں پر ایک ہی سوئی (needle) استعمال کی جائے تو ہیپاٹائٹس بی، سی اور ایڈز جیسے موذی امراض کے لگنے کا خطرہ ہوتا ہے۔ اب تک بہت سے لوگ اس جان لیوا نشے کے ہاتھوں موت کے گھاٹ اُتر چکے ہیں، اپنی نوجوان نسل کو اس جان لیوا نشے سے بچانا ہم سب کی ذمہ داری ہے۔