سید علی گیلانی حریت کانفرنس سے کیوں الگ ہوئے؟

سید علی گیلانی نے حریت کانفرنس کے اپنے دھڑے کی سربراہی سے مستعفی ہونے کا اعلان کرکے گویا کہ کشمیر کی سیاست کے تالاب میں تادیر جاری رہنے والا ارتعاش پیدا کر دیا۔ ان کے خط میں اس فیصلے کی کئی وجوہات بیان کی گئی ہیں اور سوشل میڈیا اور اخبارات میں اس فیصلے کے مضمرات واثرات پر تجزیوں اور بحث کا نہ تھمنے والا ایک سلسلہ شروع ہو گیا ہے۔ کسی کو اس میں تقسیم کشمیر کی بو نظر آرہی ہے، کسی کو اس فیصلے کے پیچھے سید علی گیلانی کی کوئی اور ناراضگی جھلکتی دکھائی دے رہی ہے۔ کچھ آوازیں تو یہ بھی اُٹھ رہی تھیں کہ سید علی گیلانی انتہائی علیل اور نجانے کس ذہنی کیفیت میں ہیں اور ان کے گرد چند افراد ا یک گروہ سید علی گیلانی کے نام پر فیصلے کر رہا ہے ان کا حریت کانفرنس سے الگ ہونے کے اعلان پر مبنی خط بھی ایسی ہی واردات ہے۔ سید علی گیلانی کے ایک عزیز نے بتایا کہ وہ بستر علالت پر ضرور ہیں مگر ان کی ذہنی حالت صحت مند لوگوں سے زیادہ بہتر ہے اسلئے ان کو بے خبری میں رکھ کر فیصلے کرانے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔ سید علی گیلانی نے مختصر آڈیو پیغام جاری کرکے اس خط اور اس کے مندرجات کو مکمل اوون کر کے پھیلائی جانے والی خبروں اور تاثر کی نفی کی۔ سید علی گیلانی کشمیر کی مزاحمت کے سب سے مقبول اور سب سے سربرآوردہ قائد ہیں۔ نائن الیون کے بعد تیزی سے بدلتے ہوئے عالمی حالات میں یوں لگ رہا تھا کہ کشمیر میں عسکریت کا دور اختتام کو پہنچنے والا ہے۔ کشمیر میں عسکریت کی جگہ ''پیس پروسیس'' اور ''ہیلنگ ٹچ''جیسی اصطلاحات کا چرچا تھا اور صاف دکھائی دے رہا تھا کہ یہ مہم اب کے کامیاب ہوگی اور کشمیر پر پاکستان اور بھارت کے درمیان کوئی قابل عمل سمجھوتہ ہوجائے گا جس میں کشمیر پر اقتدار اعلیٰ بھارت کا ہوگا مگر اس کے نیچے کشمیریوں کو نقل وحرکت کی آزادی ہوگی اور وہ کنٹرول لائن کے دونوں طرف اور پاکستان اور بھارت کے درمیان آسانی سے آمد ورفت جاری رکھ سکیں گے۔ اس منصوبے کو امریکہ کی حمایت حاصل تھی اور پاکستان میں جنرل مشرف بھی اس فارمولے کو قبول کرتے جا رہے تھے۔ اس منصوبے کو کشمیر کے اندر بھارت نواز کیمپ کی حمایت تو حاصل ہی تھی مگر حریت کانفرنس کے کیمپ سے بھی حمایت دلانے کی مہم جاری تھی۔ سید علی گیلانی نے جب یہ دیکھا کہ اس منصوبے میں کشمیر پر حتمی اقتدار اعلیٰ بھارت کا ہی رہنا ہے اور پاکستان کو اس صورتحال کو بادل نخواستہ سہی حقیقت کے طور پر تسلیم کرنا ہی ہے تو انہوں نے اس عالمی سکیم کیخلاف اُٹھ کھڑے ہونے کا مشکل فیصلہ کیا۔ انہوں نے خود کو ''پیس پروسیس'' سے الگ کر دیا اور یوں حریت کانفرنس دو دھڑوں میں بٹ گئی۔ سید علی گیلانی نے کشمیری عوام سے رجوع کر لیا اور انہوں نے اپنے مؤقف کی حمایت میں وادی کے طول وعرض میں عوام سے رابطہ شروع کیا۔ انہوں نے بچی کچھی عسکریت کی کھل کر حمایت کی اور دیکھتے ہی دیکھتے عوام ان کے گرد جمع ہوتے چلے گئے۔ وہ کسی جنازے کے جلوس میں ہوں یا کسی گھر میں تعزیت کررہے ہوں نوجوان پروانوں کی طرح ان کے گرد جمع ہوتے چلے جاتے۔ سید علی گیلانی نے کشمیری نوجوانوں کے جذبات کی زیادہ شدت سے ترجمانی شروع کی اور یوں وہ کشمیر کی فضا میں آگ لگا دینے والے لیڈر کی حیثیت سے اُبھرے۔ رواں عشرے میں کشمیر میں جو نیا انقلاب اُبھرا اس میں سیدعلی گیلانی مرکزی حیثیت کے حامل تھے اور اس انقلاب میں حریت کانفرنس کے دونوں دھڑے بے اثر ہو کر رہ گئے تھے اور ان کی جگہ تین بااثر سیاسی شخصیات سید علی گیلانی، میرواعظ عمر فاروق اور محمد یاسین ملک پر مشتمل ''مشترکہ مزاحمتی فورم'' نے سیاسی مزاحمت کی کمان سنبھال لی۔ یہ حریت کانفرنس کی جگہ ایک نئے فورم کا ہی اُبھار تھا اور اس میں جماعتوں کی بجائے تین شخصیات کی اہمیت تھی۔ مشترکہ مزاحمتی فورم نے برہان وانی کی شہادت کے بعد کے حالات پر اپنا کنٹرول قائم کیا۔ پانچ اگست کے بعد بھارت نے کشمیر کی ساری قیادت کو جیلوں میں ڈال کر بے اثر کر دیا۔ سید علی گیلانی دس سال سے نظربندی کا شکار ہیں۔ محمد یاسین ملک کو جن مقدمات میں پھنسایا گیا ہے انہیں دوسرا مقبول بٹ اور افضل گورو بنانا نہایت آسان ہے۔ میرواعظ ایک بڑا دینی اور سماجی نیٹ ورک رکھتے ہیں۔ جامع مسجد ان کا مرکز ہے اور جامع مسجد کو خاردار تاروں میں محصور کرکے اور تالہ بندی کر کے بھارت نے میرواعظ کیخلاف آخری انتہا تک جانے کا اشارہ دیا۔ یہ کشمیر میں اُبھرنے والی یکسر نئی صورتحال ہے جہاں کوئی اصول، قاعدہ ضابطہ نہیں بلکہ طاقت ہی آخری زبان ہے۔ حریت کانفرنس تیزی سے کشمیر کے حالات میں غیرمتعلق ہو کر رہ گئی ہے۔ ایسے میں سید علی گیلانی کا اس ٹریڈ مارک سے الگ ہونا اچنبھے کا باعث نہیں۔ حریت کانفرنس سے الگ ہونے کا مطلب تحریک آزادی سے الگ ہونا نہیں۔ سید علی گیلانی تحریک کا معتبر حوالہ ہیں اور رہیں گے۔ انہوں نے ایک نازک دور میں مزاحمتی تحریک کی قیادت کرکے شاندار کردار ادا کیا بلکہ آنے والی نسلوں کیلئے اپنا نقش قدم چھوڑا ہے۔ وہ کشمیریوں کے مقبول جذبات کے ترجمان ہیں اور رہیں گے۔ سیاسی اتحادوں کا بننا ٹوٹنا اس راہ میں معمول کی سرگرمی ہوتی ہے۔