ہلکا پھلکا کالم

پچھلے ایک ہفتہ کے دوران مہنگائی کی شرح 2.29فیصد سے بڑھ کر 9.77فیصد ہوگئی، پرائس کنٹرول کمیٹیوں کا دور دور تک پتہ نہیں۔ بازاروں میں صارفین اور دکانداروں کے درمیان تلخ کلامی معمول بن چکی۔ یہ بجا ہے کہ اس کی کچھ کچھ ذمہ داری صوبائی حکومتوں پر ہے مگر ذخیرہ اندوزوں اور منافع خوروں کیساتھ من مانی قیمتوں پر پرچون میں اشیاء فروخت کرنے والے بھی مجرم ہیں۔ ان مجرموں کیخلاف بڑے پیمانے پر مؤثر اقدامات اور انہیں مسلسل جاری رکھنے کی ضرورت ہے۔ ادھر اسلام آباد ہائیکورٹ کے حکم کے باوجود چینی کی قیمت میں کمی نہیں ہوسکی بلکہ یوٹیلیٹی سٹورز کی طرف سے لاکھوں ٹن چینی 78روپے سے زائد قیمت پر شوگر ملوں سے خریدے جانے کا معاملہ سامنے آگیا۔ یوٹیلٹی سٹور کارپوریشن کا مؤقف ہے ساری خریداری قانون کے مطابق ہوئی ممکن ہے ایسا ہی ہوا ہو لیکن 36روپے کی بجائے 78روپے فی کلو خریدی گئی اور حکومتی سبسڈی کیساتھ صارفین کو فروخت کی جائے گی۔ حساب کتاب کا گورکھ دھندہ یہ ہے کہ حکومت کی مجموعی سبسڈی میں سے 15روپے فی کلو شوگر مل مالکان کی جیبوں میں گئے اور 10روپے کلو کی رعایت صارفین کے حصہ میں آئے گی۔ زیادہ مناسب یہ ہوتا کہ اس سبسڈی کے تمام ثمرات صارفین تک پہنچ جاتے۔
سابق وزیراعظم میاں نواز شریف کو العزیزیہ سٹیل ریفرنس میں سزا اور فلیگ شپ ریفرنس میں بری کرنے والے احتساب عدالت کے سابق جج ارشد ملک کو ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی کرنے پر ملازمت سے برطرف کر دیا گیا۔ لاہور ہائیکورٹ کی انکوائری کمیٹی کا فیصلہ سامنے آتے ہی نون لیگ دھمال ڈال رہی ہے اور جناب شہزاد اکبر جنہیں آج کل لوگ محبت سے احتساب اکبر بھی کہہ کر بلاتے ہیں ''وجد'' میں ہیں۔ لیگی رہنما کہتے ہیں کہ برطرف جج کے فیصلوں پر سوال اُٹھ گئے ہیں، نواز شریف اب سزایافتہ نہیں رہے۔ بعض قانونی ماہرین کی رائے ہے کہ دونوں ریفرنسز کی ازسرنو سماعت ضروری ہے کیونکہ متنازعہ صرف سزا کا فیصلہ نہیں ہوگا بلکہ بریت بھی متنازعہ ہوگئی ہے۔ یہاں ایک دلچسپ نکتہ جسے لیگی شیر جوان اور ان کے میڈیا منیجر نظرانداز کر رہے ہیں وہ یہ ہے کہ میاں صاحب کو جب ایک احتساب عدالت نے سزا دی تھی تو ان کے وکلاء نے اس وقت درخواست دے کر اپنے دو ریفرنس جج ارشد ملک کی عدالت میں منتقل کروائے تھے، اس لئے اب ایک سوال یہ بھی ہے کہ کیا ساری نون لیگ بھولپن کا شکار ہے ۔ لیگی رہنمائوں کے اس مؤقف پر کہ جج کی برطرفی سے فیصلے ختم۔ ہمارے فقیر راحموں پوچھ رہے ہیں کہ کیا یہ اصول ان جج صاحبان کی برطرفی پر بھی لاگو ہوگا جنہیں ایک وقت کے پی سی او جج (بعدازاں سپریم کورٹ کے چیف جسٹس بننے والے) افتخار چودھری کی عدالت نے پی سی او جج قرار دیکر برطرف کر دیا تھا مگر فیصلوں کو تحفظ دیدیا تھا؟۔
صوبائی حکومت (خیبر پختونخوا) نے پشاور میں باچا خان چوک کا پرانا نام بحال کرتے ہوئے دوبارہ چرگانوں چوک رکھ دیا ہے۔ حکومت کو حق ہے جو فیصلہ کرے لیکن بعض فیصلے اگر سماج میں تقسیم کا باعث بننے کا سبب بن رہے ہوں تو ان سے اجتناب بہتر ہے۔ خان عبدالغفار خان المعروف باچا خان متحدہ ہندوستان اور پھر پاکستان کے بلند قامت سیاسی رہنما تھے۔ خدائی خدمتگار تحریک کے بانی خان عبدالغفار خان نے برطانوی سامراج کیخلاف آزادی کی جدوجہد میں جوانمردی کیساتھ حصہ لیا۔ ان کے سیاسی افکار وخیالات سے کسی کو بھی اختلاف ہوسکتا ہے مگر ان کی ممتاز رہنما پُرعزم جدوجہد پشتونوں سمیت خطے کے جمہوریت پسندوں میں ان کیلئے موجود احترام پر دو آراء نہیں۔ تحریک انصاف پچھلے سات سالوں سے صوبے میں اور اب دو برسوں سے وفاق میں بھی برسراقتدار ہے۔ کیا حکومت کے ذمہ داران یہ بتانا پسند کریں گے کہ سات سال بعد ان پر ایسا کیا منکشف ہوا کہ اس نے ''باچا خان چوک'' کا نام تبدیل کر دیا؟ زندہ قومیں نظریات کے اختلاف کے باوجود اپنے بزرگوں اور تاریخی اہمیت کی حامل شخصیات کا احترام کرتی ہیں بلکہ ان شخصیات کی جدوجہد اور زندگی کے مختلف پہلوؤں سے نئی نسلوں کو آگاہ کرتی رہتی ہیں۔ یہ فیصلہ کسی بھی طور مناسب نہیں، وزیر اعلیٰ اور دیگر حکام اس پر نظرثانی کریں۔ بزرگ کہا کرتے تھے اختیارات کا حسن لوگوں کو جوڑ کر رکھنا ہوتا ہے۔
چند اختلافی خبروں پر ایک نجی چینل کا لائسنس معطل کرنے کے حوالے سے پیمرا کا فیصلہ افسوسناک ہے چینل سے سینکڑوں قلم مزدور منسلک ہیں، بدترین مہنگائی اور دیگر مسائل کا سب کو سامنا ہے۔ ویسے اگر چند اختلافی خبروں پر انتہائی قدم اُٹھانے کے اس فیصلے کو انصاف کی علامت مان لیا جائے تو کیا پیمرا سے یہ نہیں پوچھا جانا چاہئے کہ اس کی آنکھوں کے سامنے جو کچھ اینکرز وچینل پاکستان میں مسلسل مذہبی منافرت پھیلا رہے ہیں ان کیخلاف کارروائی کیوں نہیں کی گئی؟ ملکی یکجہتی' امن اور بھائی چارہ اہم ہے یا محض حکومت کی خوشنودی؟ پیمرا نہ صرف اپنا ظالمانہ فیصلہ واپس لے بلکہ دونوں آنکھیں بھی کھلی رکھے۔