ٹرین حادثہ، اہالیان شہر کا مثالی طرزعمل

پشاور کی اقلیتی برادری کے بیس افراد کا حادثے میں ہلاک ہونے کے واقعے سے صرف ان کے خاندان ہی غمزادہ نہیں بلکہ اہالیان شہر بھی سوگوار ہیں۔ صوبائی دارالحکومت میں کوہاٹی چرچ واقعہ کے بعد اقلیتی برادری کیلئے یہ دوسرا بڑا المناک واقعہ ہے۔ اہالیان شہر کا بلاامتیاز سکھ برادری کا غم بانٹنے اور افسوس کے اظہار کیلئے جانا اور سوگوار خاندانوں کا غم بانٹنا اس شہر کی روایات کا حصہ ہے۔ تمام مذاہب کے افراد کا بڑی تعداد میں سکھ کمیونٹی سے اظہار ہمدردی ہی معاشرتی ہمدردی کا تقاضا تھا جس کا اعتراف سکھ کمیونٹی نے کیا ہے۔ یہ غم اتنا معمولی نہیں کہ تسلی کے دوبول کافی ہوں لیکن انسان کے بس میں اظہار ہمدردی اور تسلی کے دو بول ہی ہوتے ہیں جس میں اہالیان شہر نے بخل سے کام نہ لیا۔ معاشرے میں ہم آہنگی اور بھائی چارے کا یہ مظاہرہ ہر مذہب وبرادری کیلئے تسلی کا باعث امر ہے اور یہ معاشرتی ہم آہنگی ہی شہر کے مختلف الخیال ومختلف المذاہب عناصر کی ضرورت ہے جس پر کاربند رہنے اور اس جذبے سے نئی نسل کو روشناس کرانے اور نئی نسل کو منتقل کرنے کی ضرورت ہے۔ کوہاٹی چرچ کے المناک واقعے میں ہر برادری خصوصاً مسلم برادری نے عیسائی برادری کا غم بانٹنے اور متاثرین کی فوری امداد میں جو کردار ادا کیا اس کا کھلے دل سے اعتراف مسیحی برادری کے زعماء نے اسی وقت کیا تھا اور آج ایک اور بڑے واقعے میں اس کا اعادہ کر کے ہر برادری کے افراد نے ثابت کیا کہ بدلتے زمانے اور اقدار نے اس صحت مند روایت کو بالکل بھی متاثر نہیں کیا بلکہ کورونا کی وباء کے باوجود بھی لوگوں نے اقلیتی برادری کی دل جوئی کر کے ثابت کیا کہ پورا معاشرہ سوگوارخاندانوں کا شریک غم اور غمگسار ہے۔جہاں تک ٹرین حادثے کا تعلق ہے ابتدائی رپورٹ کے مطابق یہ ڈرائیور کی عجلت اور بے صبری کے باعث پیش آیا جنہوں نے پھاٹک بند ہونے پر غیرمعروف راستے سے عجلت میں نکلنے کی کوشش کی اور گاڑی ٹرین کے نیچے آگئی۔ اس واقعے کی تحقیقات کا حکم دے دیا گیا ہے اور متعلقہ ڈویژنل انجینئر کو معطل کردیا گیا ہے، پاکستان میں حالیہ ماہ وسال میں ٹرین کے بدترین حادثات کی شرح میں غیرمعمولی اضافہ ہوا ہے، ہر بار ان حادثات کی تحقیقات کا اعلان ہوتا ہے رسمی کارروائی بھی پوری ہوتی ہے لیکن ٹرین کے سفر کو محفوظ بنانے اور حادثات سے بچنے کی سنجیدہ سعی کی پھر بھی فقدان ہے۔ اس حادثے میں پھاٹک کے بند ہونے کے بعد اگر متبادل گزرگاہ کی کوئی سبیل نہ ہوتی تو حادثے سے بچنا ممکن تھا، بار بار کے اس طرح کے حادثات کے پیش آنے کے باوجود پھاٹک کے آس پاس غیرقانونی کراسنگز بند کرنے اور پھاٹک سے کسی جانب مڑنے کو رکاوٹیں کھڑی کر کے بند کرنے پر توجہ نہ دینا محکمے اور خصوصاً متعلقہ ڈویژن کے حکام کی ذمہ داری ہے جس پر آئندہ اس قسم کے واقعات کے اعادے سے بچنے کیلئے توجہ دینے کی ضرورت ہے۔
انصاف ہر صورت میں ہوتا نظر آنا چاہئے
ہمارے سپیشل رپورٹر نے اس امر کی نشاندہی کی ہے کہ عامر تہکالی نامی نوجوان کو برہنہ کر کے تشددکا نشانہ بنانے میں ملوث پولیس افسران اوراہلکار جوڈیشل کمیشن کے سامنے پیش ہونے سے بچنے کے بہانے تلاش کرنے لگے ہیں، واقعہ میں معطل ایک سابق ایس ایچ اوکورونا سے صحت یاب ہونے کے باوجود ہسپتال میں داخل ہے، دوسرا سابق ایس ایچ او کو بھی کورونا کے باعث قرنطینہ میں رکھا گیا ہے۔ دونوں سابق ایس ایچ اوز کو پولیس سروسز ہسپتال میں ہر قسم کی سہولیات فراہم کی گئی ہیں۔ قابل توجہ امر یہ ہے کہ تہکال واقعہ کیلئے جوڈیشل کمیشن تشکیل دیا جاچکا ہے جسے تحقیقات مکمل کرنے کیلئے چودہ دنوں کی مہلت دی گئی ہے، کمیشن نے تحقیقات کا باقاعدہ آغاز کردیا ہے پولیس اہلکاروں کو اس طرح سے بالواسطہ سہولت دینا ہمارے اس کلچر کا حصہ ہے جو ہر بااثر شخص کیلئے مروج ہے، یہ کوئی انوکھی بات نہیں۔ علاوہ ازیں صحت کے معاملات میں علاج واحتیاط ہر شہری کا حق ہے البتہ اس طرح کا حق ہر شہری کو بآسانی نہیں ملتا اور بااثر کو بغیر استحقاق کے بھی مل جاتا ہے اس سے قطع نظر حیلے بہانے سے عدالتی کمیشن میں بیان دینے میں رکاوٹ نہیں آنی چاہئے اور اسے تاخیر کا سبب نہیں بنانا چاہئے۔ عوام کو اس کمیشن کی رپورٹ وسفارشات سے بڑی توقعات وابستہ ہیں اور احتجاج کا خاتمہ اس کا عملی اظہار ہے۔ پولیس اگر بطور ادارہ اس واقعے سے بری الذمہ ہونے کی خواہاں ہے تو رکاوٹ کے حامل ہتھکنڈوں سے گریز کر کے عملی طور پر اس کا اظہار کرنا ہوگا تاکہ انصاف کے تقاضے ہر حال میں پورے ہوں، قانون شکنوں کو سزا اور مظلوم خاندان کو انصاف ملنا ہی عین انصاف ہوگا۔توقع کی جانی چاہئے کہ پولیس کے اعلیٰ حکام اس ضمن میں سنجیدگی کا مظاہرہ کریں گے اور انصاف کی راہ میں رکاوٹ ڈالنے کی کوششوں کی بجائے انصاف اور قانون کی بالادستی یقینی بنائیں گے۔انصاف کے تقاضوں کی تکمیل کیلئے معاشرے کے کردار اور عوام کی جانب سے شواہد پیش کرنے اور کمیشن کو حقائق سے آگاہ کرنے کی ذمہ داری نبھانا چاہئے تاکہ کسی بھی فریق کی حق تلفی نہ ہو۔ فریقین پولیس اور متاثرہ فریق کا یہ برابر کا حق ہے کہ وہ اپنے اپنے حوالے سے اپنی ذمہ داریاں پوری کریں اور کمیشن کو حقائق سے آگاہ کر کے انصاف کے حصول وفراہمی کو یقینی بنائیں۔پولیس کے اعلیٰ حکام کو بطور خاص اس معاملے میں غیر جانبدارانہ کردار ادا کرنا چاہئے اور اس امر کی احتیاط کی جانی چاہئے کہ پولیس بطور ادارہ اس معاملے پر اثر انداز نہ ہو ایسا کر کے ہی اس داغ کو دھونا ممکن ہوگا۔