حکمران قیادت اپنے اصل فرائض پر توجہ دے

وزیراعظم عمران خان کی دو حالیہ تقاریر میں مائنس ون کے تذکرہ کے بعد شروع ہونے والی بحث سے نظام ہائے حکومت کے حوالے سے منفی تاثر پیدا ہوا، بحرانوں اور مسائل سے دو چار نظام اور حکومت کی کارکردگی ہی نہیں بلکہ اس پر بھی بحث شروع ہوگئی کہ کیا اندرون خانہ کوئی کھچڑی پک رہی ہے۔ وزیراعظم تک کسی سازش کی اطلاع پہنچی ہے، کیا خود وزیراعظم یہ سمجھتے ہیں کہ ان کے رفقا کی کارکردگی بہتر نہیں اور کئے گئے وعدے پورے نہ ہونے کی وجہ سے تبدیلی یا مائنس ون کا دروازہ کھل سکتا ہے؟ سیاسی نظام حکومت میں اس طرح کے سوالات اور امکانات کے دروازے بہرطور بند نہیں ہوتے، خصوصاً اس صورت میں جب بعض مسائل گمبھیر ہوں اور نظام کو چلانے والی ٹیم کا قائد ساتھیوں کی کارکردگی سے مطمئن نہ ہو۔ بظاہر تو وزیراعظم ایک سے زیادہ بار اپنی کابینہ کی کارکردگی پر اطمینان ظاہر کرکے اسے مزید بہتر بنانے کی ہدایت دے چکے ہیں مگر ان کے حالیہ دو بیانات میں ایک جملہ کی تکرار نے سیاست کے بازار میں ہلچل پیدا کردی ہے۔ وزیراعظم کے ذاتی دوست اور وفاقی وزیر ریلوے شیخ رشید نے گزشتہ روز کہا ''ہم آخری چوائس ہیں نا ہی مائنس ون' اگر مائنس کی بات ہوئی تو پھر مائنس تھری ہوگا''۔ شیخ رشید کے بیان کو ان کے مزاج کا حصہ یا خبروں میں رہنے کی خواہش قرار نہیں دیا جاسکتا البتہ مائنس تھری والی بات کچھ عجیب ہے۔ اس بیان کے بعد سے کچھ حلقے یہ کہہ رہے ہیں کہ کہیں ''کاکڑ فارمولہ'' وضع کیا جا رہا ہے۔ ایسا ہے تو یہ ناصرف نظام بلکہ رائے عامہ کے حق رائے دہی پر ڈاکہ مارنے کی کوشش ہی ہوگی۔ یہ امر بجاطور پر درست ہے کہ تحریک انصاف اور اس کے اتحادیوں کی حکومت اپنے وعدے پورے کرنے میں ناکام رہی، تعلیم یافتہ نئی نسل کو لاکھوں ملازمتیں دینے کا وعدہ کرنے والی قیادت نے وفاقی محکموں میں ڈیڑھ دو سال سے خالی گریڈ ایک سے سولہ تک کی پچاس ہزار سے زیادہ آسامیوں کو ختم کرنے کا فیصلہ کرلیا۔ اسی طرح بعض دیگر اقدامات سے بھی سوالات نے جنم لیا اور مایوسی بڑھی۔ یہ کہنا غلط نہ ہوگا کہ پچھلے بارہ برسوں کے دوران مائنس ون' ٹو اور تھری کی باتوں نے حکومتوں کو یکسوئی کیساتھ کام نہیں کرنے دیا۔ اسی طرح یہ بھی حقیقت ہے کہ اگرروزمرہ کے امور و مسائل اور دیگر معاملات کے حوالے سے موجودہ حکومت کو ناکام قرار دیا جاتا ہے تو حزب اختلاف نے بھی کوئی ٹھوس متبادل پروگرام نہیں دیا بلکہ یہ کہنا زیادہ مناسب ہوگا کہ موجودہ حکومت کی خوش قسمتی ہے کہ اسے منتشر حزب اختلاف ملی۔ فکری اختلافات کیساتھ مفادات کے تحفظ میں اُلجھی اپوزیشن حکومت کیلئے بڑا خطرہ ہر گز نہیں مگر یہ کہ آنے والے دنوں میں کیا ہوگا اس بارے قبل ازوقت کچھ کہنا ممکن نہیں۔ یہ امر بھی بجاطور پر درست ہے کہ موجودہ صورتحال میں کسی بھی ایڈونچر یا تجربے کی ضرورت نہیں۔ درپیش مسائل کے حل کیلئے حکومت یکسوئی سے حکمت عملی وضع کرے، اپنے پروگرام اور وعدوں پر عمل کا راستہ اپنائے اور اس امر کو یقینی بنائے کہ سیاسی و سماجی انارکی پیدا نہ ہو اور ملک میں معاشی استحکام آئے۔ حزب اختلاف کی سیاست یقینا مروجہ سیاسی عمل کے رویوں سے عبارت ہے یہی رویہ پچھلے ادوار میں موجودہ حکمران قیادت کا تھا۔ اس تلخ حقیقت کے باوجود یہ عرض کرنا ضروری ہے کہ رائے دہندگان نے جس قیادت کو مقررہ دستوری مد ت کیلئے حکومت کرنے کا حق دیا ہے اس قیادت کو خود بھی بالغ نظری کا مظاہرہ کرنا چاہئے۔ تقاریر وبیانات میں ایسی باتوں سے اجتناب برتا جائے جس سے منفی تاثر پیدا ہو۔ تحریک انصاف کی قیادت بڑے ولولوں اور وعدوں کیساتھ اقتدار میں آئی تھی خود اس کی صفوں کے اندر سے مائنس اور ہمارا متبادل کوئی نہیں کی باتیں درحقیقت یہ ظاہر کرتی ہیں کہ کسی نہ کسی سطح پر گھبراہٹ موجود ہے۔ بہرطور افواہوں' بیانات اور فارمولوں کے حوالے سے جاری بحثوں کے باوجود یہ امر مسلمہ ہے کہ وطن عزیز میں تعمیر وترقی کے اہداف کے حصول طبقاتی خلیج کوکم کرنے، روز گار کے مواقع فراہم کرنے اور دیگر مسائل کے حوالے سے حکومت وقت کو مؤثر اقدامات اُٹھانے چاہئیں یہ اس کا فرض بھی ہے وقت کی ضرورت بھی۔ یہاں اس امر کو بھی نظرانداز نہیں کیاجاسکتا کہ بعض مسائل کی شدت میں اضافہ کورونا وباء کی وجہ سے ہوا۔ حکومت کے ناقدین عمومی صورتحال کو نظرانداز ہر گز نہ کریں۔ حزب اقتدار اور حزب اختلاف میں کھینچا تانی سیاسی عمل کا ہی حصہ ہے، ایسی کھینچا تانیوں سے بہرطور گریز کیا جانا چاہئے جس سے نظام یا حالات کو بہتر بنانے کی پالیسیوں کو نقصان پہنچے۔ یہاں ہم وزیراعظم اور ان کے رفقاء سے بھی یہ درخواست کریں گے کہ وہ اپنی تقاریر اور بیانات میں الفاظ کے چنائو کو بطور خاص مد نظر رکھیں۔ حکومتی قیادت اپنی توجہ نظام کے استحکام، عوامی مسائل کے حل اور تعمیر وترقی کے اہداف کے حصول پر مرکوز رکھے۔ مسائل و مشکلات سے کونسا ملک محفوظ ہے؟ نظام کو چلانے والی قیادت کے تدبر کا امتحان کبھی ختم نہیں ہوتا، اُمید واثق ہے کہ حکمران قیادت کو یہ بات بطریق احسن سمجھ میں آجائے گی اور وہ اپنے فرائض پر توجہ دیتے ہوئے اصلاح احوال میں کوئی کسر نہیں اُٹھا رکھے گی۔