جب مودی کا سامنا قوم پرست ٹرمپ سے ہوا

بھارت میں ان دنوں گرمیاں کچھ زیادہ خوشگوار نہیں گزر رہی ہیں۔ ایک طرف نیپالیوں نے رسوا کیا ہوا ہے، تو دوسری طرف چینیوں نے اس زمین پر قبضہ کرلیا ہے جسے یہ اپنا علاقہ بتاتے ہیں اور اب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے لاکھوں بھارتیوں کو ایک ہی جھٹکے میں دیوار سے لگا دیا ہے۔ گزشتہ پیر یعنی 22جون کو ڈونلڈ ٹرمپ نے ایک ایسے صدارتی حکم نامے پر دستخط ثبت کئے جس کے تحت ایچ ون بی (H-1B)، جے (J) اور ایل (L) ویزوں کے اجرا پر پابندی عائد کردی گئی ہے۔ پہلے سے نافذالعمل یہ حکم نامہ سال کے آخر میں منسوخ ہو جائے گا اور اس کے سبب سب سے زیادہ ٹیکنالوجی کے شعبے سے وابستہ بھارتی متاثر ہوں گے جو ایچ ون بی (H-1B) ویزا کے تحت امریکا آنے والے غیرملکیوں کا 70فیصد حصہ بنتے ہیں۔ کہا جا رہا ہے کہ جو افراد پہلے سے ہی ایچ ون بی(H-1B) ویزا رکھتے ہیں وہ اس حکم نامے سے متاثر نہیں ہوں گے، تاہم یہ اب تک واضح نہیں ہوسکا ہے کہ آیا ایچ ون بی(H-1B) ویزوں میں توسیع کا سلسلہ جاری رہے گا یا نہیں۔
گزشتہ دہائیوں کے دوران گوگل اور مائیکروسافٹ جیسی امریکی ٹیکنالوجی کمپینیوں نے سینکڑوں اور ہزاروں انجینئروں کو اس شعبے میں ملازمت کے مواقع فراہم کئے ہیں۔ ان کمپنیوں کے علاوہ سیلیکون ویلی میں اپنی جگہ بنانے میں کامیاب رہنے والی انفوسز اور ٹاٹا جیسی بھارتی کمپنیاں بھی ان ویزوں کو ماہرانہ صلاحیتوں کے حامل بھارتی ملازمین کو امریکا میں لانے کیلئے استعمال کر رہی تھیں۔
قصہ مختصر یہ کہ بھارت ماہرانہ صلاحیتوں کے حامل افراد کو دھڑا دھڑ امریکا لانے کیلئے اس ویزا درجہ بندی میں غالب رہا اور پھر وہی ہوا جس کی توقع تھی، یعنی اس حکم نامے نے بھارت میں ہنگامہ کھڑا کر دیا۔ بھارتی ٹی وی چینلوں پر تجزیہ نگار اس بات پر زور دیتے نظر آئے کہ یہ ایک عارضی اقدام ہے اور تمام ویزے جلد ہی دوبارہ دستیاب ہوں گے۔
ایک دوسرے تجزیہ نگار نے ان کی مشترکہ بڑی ریلیوں اور ٹرمپ کے دورہ بھارت کو فضول قرار دیتے ہوئے خوب مذاق اُڑایا۔ ایک تجزیہ نگار نے اس رائے کا اظہار کیا کہ ایچ ون بی (H-1B) ویزا کے بھارتی درخواست گزاروں کو آئندہ امریکی صدارتی انتخابات میں ٹرمپ کی ناکامی کی اُمید باندھنی چاہئے کیونکہ اس طرح ویزا پر پابندی شاید خود بخود منسوخ ہوجائے گی۔ کم ازکم بھارتیوں کو تو ایسی آرزوئیں سمجھنے میں کوئی دقت نہیں ہونی چاہئے۔ یہی وہ لوگ ہیں جنہوں نے چند ماہ قبل امتیازی شہریت بل کو منظور کیا تھا جس کا مقصد مسلمانوں اور دیگر امتیازی سلوک کے شکار گروہوں کو شہریت کے حق سے محروم رکھنا تھا۔ اگر وہ ایک ایسی ہندو قوم پرست ریاست کا خواب دیکھ سکتے ہیں جہاں اقلیتوں پر ناجائز امتیازی قوانین مسلط کئے جاتے ہیں تو پھر ٹرمپ بھی ان کے ملک کا رخ کرنے والے بھارتیوں پر نظر کیوں نہ رکھیں اور اس نظام کو کیوں نہ ختم کریں جو انہیں یہاں آنے میں مدد کرتا ہے۔ کل کو اگر بائیڈن انتظامیہ وجود میں آتی ہے تو بھی روزگار کی بنیاد پر جاری کئے جانے والے ان ویزوں کی ان کی اصل حالت میں بحالی کے زیادہ امکانات نظر نہیں آتے۔ اس کی وجہ اقتصادی صورتحال ہے۔ جب چار کروڑ پچاس لاکھ امریکی بیروزگار ہوں تو ایسے میں سینکڑوں اور ہزاروں بھارتیوں کو امریکا آنے کی اجازت دینا سیاسی طور پر ایک مقبولِ عام فیصلہ ثابت نہیں ہوگا۔ ڈیموکریٹک پارٹی میں انتہائی بائیں بازو سے تعلق رکھنے والے افراد ایسی امیگریشن اصلاحات چاہتے ہیں جن میں توجہ کا مرکز ہنرمند اور باصلاحیت سے زیادہ غریب تارکینِ وطن کو بنایا جائے۔ مختلف لیبر یونینوں کو بھی باہر سے ملازمین لانے کی روایت سے مسئلے ہیں۔ اس کیٹیگری کی ملازمتوں میں امریکیSTEM کے گریجویٹوں کو ترجیح دی جائے گی تاکہ سیاستدان یہ ظاہر کرسکیں کہ بیروزگاری کو کم کرنے کیلئے وہ حسبِ توفیق سب کچھ کر رہے ہیں۔ اب حالات مکمل طور پر ابتر بھی نہیں ہیں، زیادہ تر بھارتی اور امریکی ٹیکنالوجی کمپنیوں میں پہلے ہی ملازمین کو گھروں سے کام کرنے کی اجازت دینے کا رجحان بڑھتا جا رہا ہے۔ اس رجحان کا مطلب یہ ہے کہ ملازمین کیلئے اب امریکا میں موجود ہونا اتنا زیادہ ضروری نہیں ٹھہرے گا۔ یقینا بھارت سے کام کرنے والوں کو بہت ہی کم تنخواہ دی جائے گی البتہ اگر وہی افراد امریکا میں بیٹھ کر کام کرتے تو اس سے کہیں زیادہ تنخواہیں حاصل کرتے۔ بھارتی اپنے قوم پرست ایجنڈے کو ٹرمپ انتظامیہ کیساتھ جوڑنے میں بڑی خوشی محسوس کرتے ہیں۔ اب اسی قوم پرست ایجنڈے نے بھارتیوں کو ایسے غیروں میں شامل کر دیا ہے جن کیلئے امریکی سرزمین تنگ ہے۔ ٹرمپ اور مودی کے انتخاب کے بعد پہلی مرتبہ بھارتیوں کو اس قیمت کا اندازہ لگانا پڑجائے گا جو انہوں نے ایک ایسے امریکی صدر کی حمایت کیلئے ادا کی تھی جو انہیں نسلی طور پر ادنی تصور کرتا ہے اور انہیں اس ملک سے پاک رکھنا چاہتا ہے جسے وہ سمجھتے ہیں کہ صرف سفید فام عوام کیلئے بنایا گیا ہے۔ (بشکریہ: ڈان)