طاقت کا عدم توازن

یورپ میں ''انقلاب فرانس'' پرتشدد واقعات کی لہر میں بیٹھ گیا تھا اور پھر نپولین بوناپارٹ کی قیادت میں بحال ہوا تھا۔ انیسویں صدی میں ساری طاقت چند صنعتکاروں کے ہاتھوں میں سمٹ چکی تھی، جو کمزور سیاسی لبرل تصورات کو للکار رہے تھے۔ یورپ میں جرمن فلسفی کارل مارکس نے دلیل دی کہ سرمایہ دارانہ نظام کی نمایاں خاصیت دولت کا چند ہاتھوں تک مرتکز ہوجانا ہے جو محنت کش کی پیداوار کی دگنی چوگنی قدر خود ہتھیا لیتے ہیں۔ صنعتکاروں نے نہ صرف عوام کو ظالمانہ اور جابرانہ نظام میں جکڑ رکھا ہے، بلکہ جمہوری عمل کو بھی رشوت ستانی اور ناجائز ہتھکنڈوں سے مجروح کیا ہے، اور منڈی کو بے ضابطگیوں سے خراب کیا ہے۔
مارکس کے تجزئیے نے اپنے وقت کی قومی ریاستوں کے مقبول رہنماؤں کو متاثرکیا۔ روس، چین، ویت نام، گھانا اور کیوبا وغیرہ نے کمیونزم کو معاشی اور معاشرتی متبادل کے طور پر اختیارکیا۔ اس دوران سرمایہ دار امریکہ نے ''غلامی'' کو منسوخ کیا تاکہ طاقت کے عدم توازن کی تھوڑی بہت تلافی ہوسکے اور دولت کے ارتکاز سے پہنچنے والے نقصانات کا کچھ ازالہ ہوسکے۔ دیگر اصلاحات میں وفاقی حکومت نے ''اجارہ داریوں'' کی روک تھام کیلئے کئی قوانین متعارف کروائے، مزدوروں کے کام کے اوقات کم کئے گئے، بچوں سے مزدوری پر پابندی لگائی گئی اور انکم ٹیکس اصلاحات نافذ کی گئیں۔ بیسویں صدی کی ابتدا میں یہ واضح ہوچکا تھا کہ سرمایہ دارانہ نظام اپنی خالص نظریاتی شکل میں باقی نہ رہا تھا اور اب بہت کم ہی باقی رہ گئے تھے جو اس کی پسندیدگی پر بات کر رہے تھے۔
دوسری عالمی جنگ کے بعد زیادہ تر غیرکمیونسٹ ریاستوں نے ''ملی جلی'' معیشتیں تشکیل دیں، جن میں کارپوریٹ اور فرد دونوں کو مناسب شرح سے آزادی اور اہمیت دی گئی جبکہ کمیونزم، جو یوروایشیا، افریقا کے چند علاقوں اور لاطینی وجنوبی امریکہ میں پھیل چکا تھا، سرمایہ دارانہ نظام کے مقابلے میں زیادہ بڑی ناکامیوں سے دوچار ہو رہا تھا۔ کمیونسٹ معیشتیں تجارتی سامان کی ترسیل اور خدمات کی ادائیگی میں نااہل ثابت ہوئی تھیں۔ سیاسی طور پر یہ ''عوامی'' کے بجائے ''ظالمانہ آمریت'' بنتی چلی گئیں۔ جوزف اسٹالن کے سوویت یونین میں کروڑوں لوگ سیاسی purges میں مارے گئے، جبراً اجتماعی زرعی نظام میں جھونک دئیے گئے اور دیگر داخلی فسادات کی نذر ہوگئے۔
نیولبرلزم مفکرین کے ایک گروہ کی اختراع تھی، آسٹرین فریڈرخ وان ہائیک اور امریکی ملٹن فرائڈمین پیشرو تھے۔ یہ حضرات جابرانہ وفاقی نظام حکومت کے معاملے میں بہت حساس تھے۔ انہوں نے دو کلیدی کام کئے، وان ہائیک کی Road to serfdom اور فرائڈمین کی Capitalism and Freedom منظر پر اُبھریں، یوں نیولبرلزم کے اہم عناصر سامنے آئے، یہ خیال کہ آزاد منڈی کا نظام واحد معاشی نظام ہے، جو فرد کی آزادی خطرے سے دوچار نہیں کرتا۔ ابتدا میں نیولبرلزم ایک اقلیت کا نظریہ تھا۔1950ء کی دہائی میں مغرب نے مجموعی طور پر معاشی ترقی کا تجربہ کیا اور قوموں نے اپنے اپنے ثقافتی سیاق وسباق میں ملی جلی معیشتوں سے استفادہ کیا۔ ستّر اور اسّی کی دہائیوں میں معاملات بدلنے شروع ہوئے، جب مغربی معیشتیں منجمد محسوس ہوئیں اور نیولبرل نظریات پرکشش لگنے لگے۔ یہ وہ وقت تھا جب رہنما اپنے اپنے ملکوں میں گرتی ہوئی معاشی کارکردگی سے پریشان تھے، جیسا کہ انگلینڈ میں مارگریٹ تھیچر اور امریکہ میں رونالڈ ریگن۔ فرائڈمین ریگن کا مشیر بن گیا تھا۔ 1991ء میں، وان ہائک نے صدر جارج بش سے صدارتی ایوارڈِ آزادی وصول کیا۔ فریڈرک وان ہائک سائنسی کارگزاریوں کا بہت احترام کرتا تھا اور انہیں پسند کرتا تھا اور اسے سرمایہ دارانہ نظام کے تاریخی رفیق کے طور پر دیکھتا تھا۔ تجارت میں فروغ کے ذریعے، وان ہائک نے خیال پیش کیا، سائنس اور صنعت کا قریبی تعلق سرمایہ دارانہ نظام کی ترقی میں معاون ثابت ہوا اور اس طرح سیاسی آزادی میں خوب ترقی ہوئی۔ یہ خیال بیسویں صدی کے وسط میں خاصی شہرت پاگیا اور اسے سائنسی تحقیق میں حکومتی کردار کی توسیع کیلئے استعمال کیا گیا۔ تاہم جب ماحولیاتی سائنس نے دکھایا کہ فطری ماحول کے تحفظ کیلئے حکومتی ''ایکشن'' کی ضرورت ہے، تب کاربن کمبشن کمپلیکس نے سائنس کو دشمن کے طور پر دیکھا اور اس سے نمٹنے کیلئے ہر ضروری ہتھکنڈہ استعمال کیا۔ وہ سائنس جو دوسری عالمی جنگ میں امریکہ کو جیت تک لے گئی تھی اور سرد جنگ میں غالب قوت بنارہی تھی، وہ اب شک وشبہ کی نظر سے دیکھی جارہی تھی اور اس پرحملے کئے جارہے تھے۔ انہی وجوہات کے سبب کمیونسٹ ریاستوں میں بھی سائنس ناراضی کا نشانہ بنی، کیونکہ یہ سیاسی نظرئیے سے ٹکرا رہی تھی
مغرب میں بہت سے مبصرین کیلئے سوویت یونین کا انہدام ایک انتہائی ناقابل تنقید ''سرمایہ دارانہ عروج'' پروان چڑھا رہا تھا، اس کی مطلق بالادستی سامنے لارہا تھا۔ کچھ لوگ اس سے بھی آگے چلے گئے، (باقی صفحہ 7)