کورونا’ شہریوں کا غیر ذمہ دارانہ رویہ

این سی او سی کے اعداد و شمار کے مطابق گزشتہ روز ملک میں کورونا سے 66اموات ہوئیں جبکہ 3563 نئے مریضوں کے ساتھ اس مرض کاشکار افراد کی تعداد ایک لاکھ 30 ہزار سے تجاوز کرگئی۔ اسی طرح یہ بھی بتایاگیا کہ سرکاری ہسپتالوں میں کورونا کے مریض 40فیصد رہ گئے ہیں۔ گزشتہ روز کورونا سے وفات پانے والوں میں پیپلز پارٹی کے سابق وفاقی وزیر مملکت آیت اللہ درانی بھی شامل ہیں۔ طبی ماہرین یا این سی او سی کے ذمہ داران تواتر کے ساتھ شہریوں کو حفظان صحت کے اصولوں پر عمل کرنے کی درخواست کرتے چلے آرہے ہیں یہ بھی حقیقت ہے کہ وفاقی و صوبائی حکومتیں اور متعلقہ ادارے اس موذی وبا سے شہریوں کو محفوظ رکھنے کی حکمت عملی کو تنہا کامیاب نہیں بنا سکتے۔ وباء کے کم سے کم پھیلائو کے لئے از حد ضروری ہے کہ شہری بھی اپنی ذمہ داریوں کا احساس کریں پبلک مقامات پر بھیڑ بھاڑ سے گریز کیا جائے گھروں سے روانگی کے وقت ماسک پہنا جائے۔ افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ بازاروں اوردیگر پبلک مقامات پر موجودہ شہریوں میںا س مشکل سے 25سے 30فیصد حفاظتی ہدایات پر عمل کرتے دکھائی دیتے ہیں اکثریت غیر ذمہ داری کا مظاہرہ کرتی ہے۔ شہریوں کے عدم تعاون سے اگر حکومتی کوششیں کامیاب نہ ہوسکیں تو مجبوراً سخت گیر لاک ڈائون کی طرف جانا پڑے گا ان حالات میں زیادہ مناسب یہ ہے کہ شہری انفرادی و اجتماعی ذمہ داریوں سے عہدہ برآ ہوں تاکہ آنے والے دنوں میں مشکلات سے محفوظ رہ سکیں۔
پاک افغان تعلقات میں اہم پیش رفت
خوش آئند امر ہے کہ آرمی چیف اور ڈی جی آئی ایس آئی کے حالیہ دورہ افغانستان سے نہ صرف دو طرف تعلقات میں در آئی سرد مہری دور ہوئی ہے بلکہ افغان حکومت نے پاک افغان تعلقات میں مزید بہتری لانے اور اعتماد سازی کے لئے ٹھوس اقدامات کی اہمیت کو تسلیم کیا ہے' اسی حوالے سے ایک مثبت خبر یہ ہے کہ افغان مصالحتی کونسل کے سربراہ عبداللہ عبداللہ بھی اگلے کچھ عرصہ میں پاکستان کے دورہ پر آرہے ہیں۔ امر واقعہ یہ ہے کہ پاک افغان برادرانہ تعلقات خطے میں مثبت اثرات کے ساتھ ساتھ افغانستان کی تعمیر و ترقی کے اہداف کے حصول کے لئے بھی ہمیشہ معاون رہے۔ مذہبی' ثقافتی ' تاریخی طور پر دونوں ممالک کے عوام ایک دوسرے کے ساتھ رشتوں میں بندھے ہوئے ہیں۔ حالیہ طالبان امریکہ امن معاہدہ کے بعد دو طرفہ تعلقات کو مزید بہتر کرنے اور امن کے عمل کو آگے بڑھانے کے لئے دونوں ملکوں کی قیادت کو اپنی ذمہ داریوں سے عہدہ برآ ہونے میں کوئی امر مانع نہیں ہونا چاہئے۔ ہمیں امید ہے کہ افغان قیادت کے جذبہ خیر سگالی اور جناب عبداللہ عبداللہ کے دورہ پاکستان سے نہ صرف دو طرفہ تعلقات میں مزید بہتری آئے گی بلکہ خطے اور خصوصاً افغانستان میں پائیدار امن کا قیام اور تعمیر و ترقی کے اہداف کے حصول میں بھی پیش رفت ہوگی۔
سیمنٹ کی قیمتوں میں بلا جواز اضافہ
باوجود اس کے کہ بجٹ میں سیمنٹ پر عائد محصولات میں 20پیسے فی کلو کمی ہوئی ہے لیکن سیمنٹ کی فی بوری ریٹل پرائز 500روپے سے بڑھا کر 520 روپے کر دی گئی جبکہ دور دراز کے علاقوں میں 550 روپے فی بوری قیمت وصول کرنے کی شکایات بھی موصول ہو رہی ہیں۔ وفاقی حکومت اور خصوصاً وزیر اعظم کی جانب سے تعمیراتی سرگرمیوں کی حوصلہ افزائی کامقصد روزگار کے مواقع زیادہ بہتر بنانا تھا اس طرح یہ بھی حقیقت ہے کہ سیمنٹ سمیت دوسرے تعمیراتی سامان کی قیمتوں میں ہونے والے اضافے سے تعمیراتی لاگت بڑھ گئی ہے۔ اس صورتحال کا کسی تاخیر کے بغیر نوٹس لینے کی ضرورت ہے تاکہ منافع خوروں کی سرکوبی کے ساتھ اس امر کو بھی یقینی بنایا جاسکے کہ کسی بھی طور تعمیراتی سرگرمیاں متاثر نہ ہوں۔