2 234

حزب اختلاف کے عزائم

اے پی سی ،پیپلزپارٹی اور نون لیگ منعقد کرنے جارہے ہیں مگر کڑواہٹ مسلم لیگ(فنکشنل) نے محسوس کی اور اس کے نومولود جنرل سیکرٹری محمد علی درانی پھٹ پڑے۔مسلم لیگ کا یہ گروپ وفاقی حکومت کا اتحادی ہے اور سندھ میں جی ڈی اے کا حصہ ہے۔جی ڈی اے ”بنوانے والے” اپنی کوششوں کے باوجود اس اتحاد کو پچھلے تین انتخابات میں وہ کامیابی نہ دلا سکے جسکی امید پر انوسمنٹ کی گئی۔ مہذب ملک میں اولاً تو ایسی محکمہ جاتی کوششیں ہوتی نہیں اور اگر کہیں کوئی ہاتھ پائوں مارے بھی توریاست اپنا کردار ادا کرتی ہے۔ہمارے ہاں ریاست کیا کرتی ہے یہ کوئی ڈھکی چھپی بات ہے نہ اس پر سر کھپانے کی ضرورت 2018ء کے انتخابات میں آرٹی ایس سسٹم کے”بروقت”بیٹھ جانے کے نتائج ہمارے سامنے ہیں۔خیر یہ کوئی پہلی بار نہیں ہواانتخابی عمل میں ریاست کا اولین کردار ایوب خان کے صدارتی انتخابات میں سامنے آیا تھا جب بلدیاتی اداروں کے اراکین (یہ اس وقت بی ڈی منبر کہلاتے تھے)کو ایس ایچ او صاحبان ووٹ ڈالنے کے لئے’ ‘احترام ‘ ‘ کے ساتھ پولنگ اسٹیشنوں کی طرف لے گئے اور نتیجہ ایوان صدر کی توقعات کے مطابق رہا۔ایوب خان جیت گئے۔ 1970ء کے عام انتخابات جنکی آزادی کے ڈنکے پیٹے جاتے ہیں میں بھی ریاست جماعت اسلامی اور قیوم لیگ کے علاوہ نظام اسلام پارٹی کے پیچھے کھڑی تھی لیکن دومارشل لائوں کے ستائے عوام کو پہلی بار بالغ رائے دہی کی بنیاد پرووٹ کا حق ملا تھا لہٰذا نتیجہ ریاستی توقعات کے برعکس نکلا۔ ہمارے اسلام پسند دوست1970ء کے انتخابی نتائج کے حوالے سے مغربی پاکستان میں ڈالے گئے ووٹوں کے تناسب اور پارٹیوں کو ملنے والے ووٹوں کا چسکے دار حساب لگا کر آج بھی یہ ثابت کرتے پھرتے ہیں کہ پیپلز پارٹی 33 سے 35فیصد رائے دہندگان کی نمائندہ تھی جبکہ باقی کے 65سے 67فیصد پی پی پی مخالف تھے۔یہ حساب لگاتے ہوئے وہ پی پی پی کے مخالفین کے ووٹوں کی تقسیم کا رونا روتے ہیں ساتھ ہی ووٹ نہ ڈالنے والوں کو بھی پی پی پی مخالف پلڑے میں ڈال دیتے ہیں۔
سندھ میں جی ڈی اے بنوانے کے لئے وہی طریقہ کار اختیار کیا گیا تھا جو1988ء میں اسلامی جمہوری اتحاد بنوانے کے لئے کیا گیا۔2018ء کے انتخابات سے قبل جب جی ڈی اے کا نیا جنم ہو رہا تھا تو کامیابی کی ضمانت اورنشستوں کی تعداد کے حوالے سے کون کسے یقین دہانیاں کروا رہا تھا یہ درون سینہ راز نہیں ”وہی لوگ تھے جنہوں نے پنجاب میں پی پی پی اور نون لیگ کے ساتھ ق لیگ کے کچھ”اصل” یعنی سدا بہار سیاسی خانوادوں کا تحریک انصاف کا سمت رُخ موڑ لیا تھا۔مگر کیا مجال کہ بچہ سقہ اینڈ کمپنی اس موضوع پر کبھی بات کرے۔بظاہر ایسا لگتا ہے کہ یہ”کمپنی” پیپلز پارٹی کی ہی پیداوار ہے اور دیانتداری کے ساتھ فرائض ادا کرتی ہے۔
کالم کے اس حصہ میں پی پی پی اور نون لیگ کے درمیان عید کے بعد اے پی سی بلانے پر اتفاق رائے اور نون لیگ کے سیکرٹری جنرل احسن اقبال کے پنجاب بچائو تحریک کا ڈول ڈالنے پر بات کرلیتے ہیں۔پنجاب بچائو تحریک اصل میں1988ء کے”جاگ پنجابی جاگ” کے نعرے کا جیسا ہی ہے بظاہر تو یہ پنجاب میں نون لیگ کے حق حکمرانی کی بحالی کا حکومت مخالف ایجنڈا ہے مگر درحقیقت یہ ان اقدامات کو روکنے کی شعوری،سیاسی اور جاتی امرائی کوشش ہے جو پنجاب کے سرائیکی بولنے والے علاقوں پر مشتمل نئے صوبے کے قیام کے لئے شروع ہوئے ہیں گو ان اقدامات سے خود سرائیکی وسیب کے لوگ متفق نہیں ان کے خیال میں انہیں ایک بار پھر تقسیم کرنے اور لڑانے کی سازش کی جارہی ہے ملک کی موجودہ صورتحال پر اے پی سی کے انعقاد کا فیصلہ بجا ہے مگر سوال یہ ہے کہ کیا کسی حکومت مخالف تحریک کا آغاز ہوسکے گا؟کم از کم مجھے نہیں لگتا کہ کوئی تحریک شروع ہو وجہ یہ ہے کہ جب بھی کبھی پی پی پی اور نون لیگ کے درمیان سیاسی رابطے شروع ہوتے ہیں تو بچہ سقہ اینڈ کمپنی جیسے لوگ میدان میں کود پڑتے ہیں۔پھر دونوں پارٹیوں میں کارکنوں میں پائی جانے والی بد اعتمادی بھی ہے۔کیا دونوں جماعتوں کے قائدین کے پاس اس بد اعتمادی کے خاتمہ کا کوئی نسخہ ہے؟۔ آخری بات یہ ہے کہ چلیں مان لیا دونوں جماعتیں اپنے اتحادیوں سے ملکر تحریک چلاتی ہیں اور تحریک کامیاب بھی ہو جاتی ہے تو پھر کیا ہوگا؟پچھلے دوسال کے دوران منظم انداز میں پھیلائی گئی تباہی اور مسائل سب کے سامنے ہیں۔کیا اپوزیشن پچھلے برس پینٹا گون کو کروائی گئی یقین دہانیوں پر بدلتے ہوئے حالات میں قائم رہے گی۔سب سے بڑھ کر یہ کہ مختلف محکموں اور دیگر معاملات میں فیصلہ سازوں نے جو قوت حاصل کرلی ہے اس کا تدارک کیسے ہوگا؟مناسب یہ ہے کہ اپوزیشن ان تین امور پر پہلے متبادل پروگرام عوام کے سامنے رکھے پھر اگلی بات کرے۔