صوبے میں صنعتی ترقی کی واضح اُمید

رشکئی خصوصی اقتصادی زون کے ترقیاتی کاموں کے حوالے سے باقاعدہ پیشرفت صوبے میں صنعتی ترقی اور روزگار کے مواقع میں اضافہ کے حوالے سے نہایت اہمیت کا حامل عمل ہے جس سے صوبے میں صنعتی ترقی، برآمدات میں اضافہ اور روزگار سمیت کاروبار کے وسیع مواقع میسر آئیں گے۔رشکئی اقتصادی زون میں صنعت کاروں کی دلچسپی اور وفاق کی جانب سے صنعتی زون میں بجلی وگیس کی فراہمی کیلئے تین ارب روپے کی مدد وزیراعظم عمران خان کی اس منصوبے میں خصوصی دلچسپی کا ثبوت ہے۔ اس امر کے اعادے کی ضرورت نہیں کہ سی پیک کے چار منصوبوں میں سے اس پہلے منصوبے سے نہ صرف خیبر پختونخوا بلکہ خطے کے ہمسایہ ملک افغانستان بالخصوص اور وسطی ایشیائی ریاستوں تک بھی باالعموم اس خصوصی زون میں تیارشدہ مصنوعات سے استفادہ کیا جاسکے گا، اس سے خطے میں ترقی کا نیار دور شروع ہوگا۔ خیبر پختونخوا میں اس کے علاوہ ڈیرہ اسماعیل خان میں بھی صنعتی زون کے قیام کی راہ ہموار ہو رہی ہے اور اضلاع میں بھی چھوٹے صنعتی زونز کے قیام میں پیشرفت ہورہی ہے۔ رشکئی اقتصادی زون کو اگر صوبے میں صنعتی ترقی کی ماں قرار دیا جائے تو غلط نہ ہوگا جس سے جڑے چھوٹے زونز ازخود بننا شروع ہونا فطری امر ہوگا۔ اس بڑے صنعتی زون کے قیام اور بیس فیصد چینی ماہرین کیساتھ صوبے کے اسی فیصد محنت کشوں کو ہنرمندی، چینی مہارت سے روشناس ہونے اور سیکھی ہوئی ہندرمندی سے مزید مواقع سے فائدہ اُٹھانے اور صنعتوں کو ماہر ہنرمند ضرورت کے مطابق میسر آئیں گے جس کی خیبرپختونخوا میں شدید کمی ہے اور اس مشکل کے باعث جہاں صوبے کے صنعتکاروں کو پنجاب سے ہنرمند افرادی قوت مہنگے داموں اور سخت شرائط پے لانی پڑتی ہے وہاں ہنرمندوں کی کمی کے باعث صوبے سے صنعتوں کی پنجاب اور دیگر علاقوں کو منتقلی بھی ہوتی رہی ہیں۔ ہم سمجھتے ہیں کہ خیبرپختونخوا میں دہشتگردی، بجلی وگیس کی کمی اور جن دیگر وجوہات کی بنا پر صوبے میں صنعتی زونز تباہی کا شکار ہوئے گدون کی صنعتی بستی میںصنعتکار مراعات سے فائدہ اُٹھانے کے بعد بستی ویران کر گئے اُمید ہے کہ حکومت نے ان تمام خامیوں خرابیوں اور ان تمام وجوہات کا بغور جائزہ لیکر ٹھوس منصوبہ بندی کی ہوگی کہ اس طرح کی صورتحال کا اعادہ نہ ہو۔ صوبے میں صنعتی زونز کی کامیابی تسلسل کیساتھ ایندھن کی فراہمی میں ہے۔ صوبائی حکومت نے صوبائی سطح پر بجلی کی پیداوار مقامی صنعتوں کو سستے داموں فراہمی کی جو منصوبہ بندی کی ہے اس کو یقینی بنانے کی ضرورت ہے، علاوہ ازیں صوبے میں گیس کی وافر پیداوار سے بھی اسی طرز پر فائدہ اُٹھانے کی منصوبہ بندی کی ضرورت ہے۔ صوبے میں صنعتوں کے قیام کے عمل میں دستاویزی امور اور بلاوجہ کی شرائط میں مزید نرمی لانے کا بھی جائزہ لیا جانا چاہئے۔ خیبر پختونخوا کے رشکئی اقتصادی زونز میں صنعتکاروں کی دلچسپی کے موقع سے فائدہ اُٹھاتے ہوئے سہولیات کیساتھ مزید مواقع پیدا کرنے پر توجہ دی جانی چاہئے۔ رشکئی اقتصادی زون کے حوالے سے ایک ہی دن دو مختلف وزراء کی طرف سے روزگارکے مواقع کی تعداد کے حوالے سے الگ الگ اعداد وشمار عدم ہم آہنگی کا ثبوت ہے۔ معاون خصوصی کی پریس کانفرنس اور وزیر خزانہ کی ٹویٹ میں اعداد وشمار کا واضح فرق شکوک وشبہات کا باعث ہی نہیں بلکہ سارے معاملے کو مشکوک بنادینے اور اعتماد میں کمی کا باعث امر تھے۔ اس طرح کے معاملات سے اجتناب کا بہتر طریقہ یہ تھا کہ وزیراعلیٰ کے معاون خصوصی برائے صنعت وتجارت اور معاون خصوصی برائے اطلاعات کی پریس بریفنگ کافی تھی اور یہ دونوں ہی متعلقہ حکومتی عہدیدار اور ترجمان ہیں ان کی جانب سے پیش کردہ اعداد وشمار اور صوبائی وزیر کی ٹویٹ میں فرق نہیںہونا چاہئے تھا، بہرحال اس طرح کے معاملات کی گنجائش ضرور ہوتی ہے، غلطی کا امکان بھی یکسر رہتا ہے البتہ اس سے اجتناب زیادہ مشکل نہیں تھا۔ توقع کی جاسکتی ہے کہ رشکئی صنعتی زون توقعات کے مطابق صوبے کی ترقی میں اہم ثابت ہوگا اور صوبائی حکومت اس اہم منصوبے کی تکمیل واشتراک کی ذمہ داری احسن طریقے سے نبھا کر سرخرو ہوگی۔