خود ہی خنجر بدست خود ہی لہولہان

دفتر خارجہ کے ترجمان زاہد حفیظ چوہدری نے کہا ہے کہ ملک میں فرقہ واریت پھیلانے کی کسی بھی بھارتی کوشش کوکامیاب نہیں ہونے دیا جائے گا۔ان کا کہنا تھا کہ بھارت پاکستان میں دہشت گردی اور امن خراب کرنے میں ملوث ہے۔دفتر خارجہ کے ترجمان کا یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب ملک میں فرقہ واریت کی ایک لہر اُٹھانے کی کوشش کی جا رہی ہے ۔اس حوالے سے بھارتی فوج کے میجر ریٹائرڈ کاروو آریا کی ایک وڈیو کلپ بھی میڈیا میں زیر گردش ہے ۔جس میں یہ شخص بتا رہا ہے کہ'' پاکستان میں فساد پیدا کرنا ہے تو مولوی خرید کے اس سے ایک تقریر کروا لو جس کے بعد تماشا دیکھو ۔وہ فساد بھی کریں گے اور اس کو اپنی کتابوں سے حق بھی ثابت کریں گے ''۔بھارتی خفیہ ایجنسی ''را'' سے وابستہ یہ شخص سوشل میڈیا اپنی وڈیو ز اپ لوڈ کرکے انہیںوائرل کرتا ہے اور بعد میں یہ سب واقعات پاکستان میں رونما ہوتے ہیں ۔میجر کی یہ تیسری پیش گوئی ہے جو پاکستان میں اپنا رنگ دکھا رہی ہے ۔اس سے پہلے یہ شخص عاصم سلیم باجوہ کے خاندان کے امریکہ میں اثاثوں کا ذکر کر کے اسے فوج کے خلاف استعمال کرنے کی بات بھی کر چکا ہے اور اس وڈیو کے چند دن بعد ہی یہ مسئلہ دنیا کا موضوع بن گیا ۔قبائلی علاقوں میں تشدد کو بھڑکانے کے حوالے سے بھی اس کی ایک وڈیو اپنا رنگ جما چکی ہے۔ یوں لگتا ہے کہ'' را '' جب پاکستان میں مکمل تیاری کے بعد کوئی منصوبہ لانچ کردیتی ہے تو اس کے ساتھ ہی اس شخص کے ذریعے انکشاف کرایا جاتا ہے ۔فرقہ واریت کے حوالے سے ا س کی وڈیو اس بات کا اشارہ ہے کہ بھارت پاکستان میں فرقہ وارانہ کشیدگی اور تشدد کا منصوبہ لانچ کرچکا ہے جس کا اعتراف میجر کاروو آریا کا وڈیو بیان ہے ۔اگر حقیقت یہی ہے تو یہ بہت خوفناک بات ہے ۔ گزشتہ دہائیوں میںمذہب ومسلک کے نام پر جو طوفان بپا تھااس کا مذہب او مسلک سے قطعی کوئی تعلق نہیں تھا نہ اس سے تاریخ پر کوئی اثر پڑتا تھا نہ تاریخ کا ریکارڈ درست ہورہا تھا اس سے صرف باہر بیٹھے ہوئوں کے مقاصد کی تکمیل ہوتی تھی ۔باہر والوں کو پاکستان کو ایک رستا ہوا زخم بنائے رکھنا تھا ۔اس خونیں کھیل میں مسلکی شناخت اور اعداد وشمار کا کوئی معاملہ ہی نہیں تھا بس پاکستان کا استحکام کی منزل سے دور رکھنا مقصود تھا۔ انہیں غرض نہیں تھی کس تشدد میں کس فرقے کے کتنے لوگ مرے اور زخمی ہوئے ان کی دلچسپی یہ تھی کہ پاکستان میں تشدد کا ایک اور واقعہ ہو گیا اور اس واقعے میں عدد یہ رہا ۔ اس جنگ وجدل نے پاکستان کا رواداری اور بھائی چارے کا کلچر برباد کرنے کی کوشش کی ۔ یہ سکیم کامیاب ہوتی تو ملک کے گلی محلوں میں آج بیرئر اورنوگو ایریاز ہوتے جن میں کسی دوسرے مسلک والے کیلئے پائوں رکھنا محال ہوتا ۔ہر نوگوایریا پر ایک وارلارڈ کی حکمرانی ہوتی اور ریاست اس کے آگے سرخمیدہ اور دم بخود ہوتی ۔مقام شکر ہے دنیا کے طاقتور اور باوسیلہ ملکوں کی کوشش کے باوجود مسلکی سرپھٹول عوامی سطح پر آبادیوں کی تقسیم کی شکل اختیار نہ کرسکی ۔آبادیوں میں یگانگت اور بھائی چارہ ہی غالب رہا ۔ محرم اور میلاد کے جلوس اس یگانگت کا مظہر رہے ۔پاکستان کی ریاست کو فرقہ واریت کو کنٹرول کرنے کے لئے سرتوڑ کوشش اور محنت کرنا پڑی ۔ فرقہ واریت کے جراثیم اداروں کے اندر سرایت کرگئے تھے جس کی وجہ سے اسے کنٹرول کرنے کے لئے زیادہ محنت کرنا پڑی۔ پہلے جو کام نفرت انگیز مواد سے بھری کتابوں سے لیا جاتا تھا اب سوشل میڈیا سے لیاجا رہا ہے اور اس ذریعے اور میڈیم نے نفرت انگیز مواد کی نشر واشاعت اور ابلاغ کو مزید آسان بنا دیا ہے۔ خدا خدا کرکے مسلک کی بنیاد پر قائم مسلح تنظیموں کو کنٹرول کیا گیا تھا کہ بھارت نے ایک نئی لہر اُٹھانے کی کوشش شروع کی ہے ۔گزشتہ دنوں یہ خبر یں بھی سامنے آئی تھیں کہ پاکستان میں فرقہ واریت کو ہوا دینے والے سوشل میڈیا اکاونٹس اسرائیل سے آپریٹ ہو رہے ہیں۔یہ ایک لمحہ فکریہ ہے ۔ آج پاکستان میں فرقہ پرست طبقات جن فقہی اور فکری مسائل کو حل کرنے چلے ہیںان گتھیوںکو اسلامی تاریخی کے جید علما ،فقہا اور مفسرین سلجھا نہیں سکے۔تاریخ کے بارے میں کسی کا جو بھی نقطہ نظر ہو وہ اس کا حق ہے اسے دلائل اور براہین سے ثابت کرنا بھی غلط نہیں مگر اپنے موقف کو بندوق سے کسی کے حلق سے نیچے اُتارنا اور دوسرے پر بلاجواز تنقید اور اسے چڑانے کے لئے تاریخ کے مسلمہ پسندیدہ کرداروں کی تنقیص یاتسلیم شدہ ناپسندیدہ کرداروں کو غیر ضروری طور پر رومنٹسائز کرنا غلط روش ہے ۔یہی رویے فسادکا باعث بنتے ہیں۔اب جبکہ یہ حقیقت عیاں ہو گئی ہے کہ یہ کھیل کسی اور کا ہے تو علمائے کرام کو آگے بڑھ کر اسے ناکام بنانے کے لئے اپنا کردار ادا کرنا چاہئے ۔یہ کام حکومت تنہا نہیں کر سکتی اس کے لئے معاشرے کے تمام طبقات اور معاشرے کی بارسوخ شخصیات اور موثر جماعتوں کا تعاون ناگزیر ہے۔ فرقہ وارانہ تشدد سے بھرپورماضی کا جو دور گزراہے اس پر اسی کی دہائی میں کراچی کے فسادات کے حوالے سے کہا گیا پروفیسر عنایت علی خان کا یہ شعر صادق آتا ہے۔ خود ہی خنجر بدست ہوں خود ہی لہولہان بھی ہوں ۔میری مشکل عجیب مشکل ہے میں مہاجر بھی پٹھان بھی ہوں۔