قانونی ٹیم کی پھر ناکامی

جسٹس فائز عیسیٰ کیس میں سپریم کورٹ میں ایک متنازعہ بیان کے بعد اٹارنی جنرل نے ازخود استعفیٰ دیدیا ہے، ان سے حکومتی دعوے کے مطابق استعفیٰ لیا گیا ہے۔ اس سے قطع نظر آرمی چیف مدت ملازمت تو سیع کیس کے بعد حکومت کی قانونی ٹیم کی ایک اور بوکھلاہٹ اور معاملات کو حکمت وبصیرت سے حل کرانے میں ناکامی سامنے آگئی ہے۔آرمی چیف کی مدت ملازمت میں توسیع بارے مقدمے میں ممکنہ خلاء پیدا ہونے کے باعث عدالت نے حکومت اور حکومت کی قانونی ٹیم کو راستہ فراہم کیا تھا لیکن جسٹس فائز عیسیٰ کیس میں عدالت ایسا کرنے کے موڈ میں نظر نہیں آئی خاص طور پر مستعفی اٹارنی جنرل کے عدالت میں دیئے گئے بیان سے تو حکومت اور عدالت میں الزامات کے باعث دوریاں فطری امر ہیں جس کے بعد اس امر کی توقع نہیں کہ کوئی درمیانی راستہ نکل آئے۔ بنا بریں اب ریلیف ورعایت کی بجائے ٹھوس قانونی طریقے سے ہی یہ اہم ترین مقدمہ آگے بڑھتا نظر آتا ہے۔ عدالتی فیصلے اور عدالتی سرگرمی کا نتیجہ کیا سامنے آئے گا اس حوالے سے کسی قیاس آرائی کی گنجائش نہیں، ظاہر ہے قانونی وعدالتی معاملے کا فیصلہ قانون ہی کے مطابق ہونا ہے۔ البتہ اس سارے عمل میں حکومت کی قانونی ٹیم میں روابط مشاورت اورحکمت عملی کا فقدان واضح ہے۔سمجھ سے بالا تر امر یہ ہے کہ عدالت عظمیٰ میں دیئے گئے بیان کی ذمہ داری اب کوئی نہیں لے رہا ہے یہ ممکن ہی نہیں کہ اس قدر اہم معاملے پر اہم بیان پر مشاورت نہ ہوئی ہو اور اگر واقعی صورتحال ایسی ہی ہے جس کا دعویٰ وزیر قانون کر رہے ہیں تو پھر وزیراعظم کو وزیر قانون کو برطرف کردینا چاہئے جو ایک اہم مقدمے میں تومستعفی ہو کر بطور وکیل پیش ہوتے ہیں اور دوسرے اہم مقدمے میں ضروری نگرانی ومشاورت کی بھی زحمت گوارا نہیں کرتے، اگرچہ حکومت اور عدلیہ کے تعلقات قانون کے مطابق ہی ہوتے ہیں جس میں اب بھی فرق نہیں آیا ہوگا لیکن عدالت عظمیٰ کے حوالے سے ایک متنازعہ بیان پر ماحول ضرور خراب ہوا ہے۔ کچھ عرصے سے وزیراعظم اور ان کی ٹیم عدالت سے شکوہ کناں چلے آرہے تھے اور عدلیہ سے متعلق ان کے بیانات سے برہمی واضح تھی اس ماحول میں ایک اور غلط فہمی کی گنجائش نہیں تھی جو حکومت کی قانونی ٹیم کی ناقص حکمت عملی کے باعث اب سامنے آئی ہے۔واضح رہے کہ معاملات اس وقت خراب ہوئے تھے کہ18فروری کو جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کیس کی سماعت کے دوران جب اٹارنی جنرل نے اپنے دلائل کا آغاز کیا تو انہوں نے بحث سے متعلق بیان دیا جس پر بنچ کی جانب سے ردعمل سامنے آنے پر اور ایک مکالمہ کے بعد اٹارنی جنرل نے اپنا بیان واپس لے لیا تھا اور عدالت کی جانب سے اس صورتحال کو ناقابل اشاعت قرار دیکر رپورٹ کرنے سے منع کر دیا تھا۔ تاہم اس سے اگلے ہی دن کے اٹارنی جنرل نے اپنے دلائل میں ججز کے ضابطہ اخلاق پر طویل دلائل دیئے جس کے بعد عدالت نے کہا کہ وہ جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کیخلاف کیس پر بات کریں۔ بنچ کے سربراہ جسٹس عمر عطا بندیال نے کہا کہ آپ نے گزشتہ روز جو بات کی اس پر عدالت میں تحریری شواہد جمع کرائیں یا پھر بنچ سے معافی مانگے۔ اٹارنی جنرل انور منصور نے عدالت میں کہا تھا کہ وہ اس حوالے سے تحریری شواہد جمع نہیں کرا سکتے۔ اٹارنی جنرل نے جسٹس قاضی فائز کی سماعت کے دوران جو بیان دیا یا حکومت اس سے لاتعلقی اختیار کرتی ہے، عدالت اور حکومت کے معاملات میں غلطی کی گنجائش کم ہی ہوتی ہے اور غلطیوں کو بھگتنا اور ان کے نتائج کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ حکومت کو جہاں دیگر بہت سارے معاملات میں تنقید اور مشکلات کا سامنا ہے اس مسئلے سے ان میں اضافہ ہوا ہے ۔بہتر ہوگا کہ معاملات مشاورت سے طے ہوں اور جو حکمت عملی اختیار کی جائے اس کی کامیابی وناکامی اور اس کے نتائج وعواقب پر پوری طرح غور کرنے کے بعد قدم اُٹھایا جائے۔