قدیم پشاور کی نشانی کو فوری بچایا جائے

صوبائی دارالحکومت بننے سے قبل کے وادی پشاور میں1850ء سے قائم قدیم سخی چشمہ کا ماحول تو پہلے ہی تجاوزات کے باعث نہیں تھا چشمے کے تقریباً آثار ہی باقی تھے جس کے اب قبضہ گروپ درپے ہے۔ اس عوامی مقام سے اہل پشاور کی کتنی یادیں وابستہ تھیں اور یہ چشمہ پشاور کے قدیم تفریحی مقامات میں کس حد تک ممتاز تھا اس سے گرمی کے مارے شہری کس طرح فیضیاب ہوتے تھے، وہ سب باتیں پرانی ہوگئیں۔ دکھ کی بات یہ ہے کہ صوبائی دارالحکومت کی قدیم شناخت کے حامل مقامات مٹتی جارہی ہیں بلکہ مٹ چکی ہیں۔ کسی دور حکومت میں ان کو بچانے کی کوشش نہیں کی گئی اور نہ ہی اب اس کی توقع ہے۔ ایک جانب حکومت سیاحتی مقامات اور سیاحت کے فروغ کیلئے اقدامات کی تگ ودو میں ہے اور دوسری جانب شہر کی شناخت ایک ایک کر کے مٹائی جارہی ہے مگر ان کی حفاظت پر توجہ نہیں۔ شہر کے قدیمی قبرستان نہیں رہے، شہر کی چاردیواری گرادی گئی، قدیم عمارتوں کے تحفظ اور ان کو مسمار کرنے سے بچانے کا کوئی انتظام نہیں، ایسے میں پشاور کی ثقافت کا تحفظ کیسے ہواور قدیم شہر کے باقی حصے دیکھنے سیاح کہاں سے آئیں؟ قدیم چشمہ جہاں گرمیوں میں خوب رونقیں لگی رہتی تھیں، اہل پشاور بڑی تعداد میں یہاں آتے تھے اور پورا پورا دن یہاںنہایا کرتے تھے، بچے بزرگوں کے ہمراہ سیر کیلئے آیا کرتے تھے، اب امتداد زمانہ کے ہاتھوں اور قبضہ گروپوں کی زد میں ہے۔کہا جاتا ہے کہ 30،40سال قبل یہاں خوب رونقیں ہوا کرتی تھیں، یہاں تک کہ بیرون ممالک سے آئے ہوئے سیاح بھی یہاں پر سوئمنگ کرنے آتے تھے جب آبادی بڑھتی گئی توتفریح کیلئے آنیوالوں نے بھی یہاں کا رخ کرنا چھوڑ دیا۔ افسوس کی بات یہ ہے کہ سخی چشمہ کے تالاب میں اتنا گند پھینکا گیا ہے کہ اس کا پانی خشک ہونے کے قریب ہے۔ اس کی اچھی طرح صفائی کی جائے اور ضروری تعمیر ومرمت کی جائے تو اس کی بحالی ہو سکتی ہے۔ اسے اہل پشاور کی ایک نشانی کے طور پربحال کیا جائے تو پشاور کا ایک تاریخی چشمہ محفوظ ہو سکتا ہے۔ اس قدیم چشمے کی جتنی جلد صفائی کی جائے اور اس کے ارد گرد سے قبضہ چھڑا کر اسے بحال کیا جائے تو اتنا ہی بہتر ہوگا۔
بھارت کا مذموم منصوبہ
بھارت نے کشمیر یو ں کے آبادیاتی تناسب کو بدلنے اور مقبوضہ کشمیر میں ہندوؤں کی آبادکاری کیلئے دس علیحدہ علاقے مختص کر کے اپنے مذموم منصوبے کو خود ہی طشت ازبام کر دیا ہے ۔ بھا رتی ذرا ئع ابلا غ کے مطا بق بی جے پی کی قیادت میں ہندوتوا حکومت ، نازی نظریہ سے متاثر ہوکر مقبوضہ کشمیر میں آبادیاتی تناسب کو بدلنے کیلئے ہر حد کو عبور کر چکی ہے۔ مقبوضہ کشمیر کی آبادی کا تناسب تبدیل کرنے کی طرف یہ پہلا قدم ہے۔اس سے قبل ہندوستان غیرکشمیری سرمایہ کاروں کیلئے 60000کنال اراضی پہلے ہی فراہم کرچکی ہے۔ جموں میں مسلمانوں سے 4ہزار کنال سے زیادہ اراضی ہتھیائی گئی ہے۔بھارت کے مقبوضہ کشمیر کی خصوصی حیثیت کے خاتمے کے بعد یہودیوں کی طرز پر مقبوضہ کشمیر میں ہندئوںکی آباد کاری کیلئے دس علیحدہ جگہوں کو مختص کرنا بھارت کے اپنے اصل منصوبے کو سامنے لانا ہے جس کا مقصد مقبوضہ کشمیر پر بھارتی تسلط کو مضبوط کرنا اور مسلمانوں کی اقلیت بنانا ہے۔ہم سمجھتے ہیں کہ پاکستان کی جانب سے بھارتی قیادت کو نازی ازم کا الزام دینا کافی نہیں بلکہ ان کے ایک سخت اقدام کے بعد اگر اب بھی عالمی طور پر کوئی سخت ردعمل اختیار نہیں کیا گیا تو مقبوضہ کشمیر پر بھارت کو اپنے پنجے مستحکم کرنے میں دیر نہیں لگے گی۔ پاکستان کو اس تازہ صورتحال میں امت مسلمہ خاص طور پر ترکی اور ملائشیا کی حمایت سے عالمی سطح پر مقبوضہ کشمیر میں مسلمانوں کی نسل کشی اور ان کی شناخت کو مٹانے کے بھارتی منصوبے کو رکوانے کیلئے اقوام متحدہ سے فوری رجوع کرنا چاہیے۔ کشمیری بھائیوں کی صرف قولی مددپر اکتفا کرنے کی جو غلطی ہم کر رہے ہیں اور وہاں پر جدوجہد کی عملی مدد کو ہم جس طرح کشمیر کاز سے غداری گردان رہے ہیں اب اس پالیسی پر نظرثانی کی ضرورت ہے، ایسا نہ کیا گیا تو مقبوضہ کشمیر میں مسلمانوں کی شناخت واکثریت دونوں کو بچانا مشکل ہوگا اور بھارت کی انتہا پسند قیادت کو اپنا منصوبہ مکمل کرنے میں آسانی ہوگی۔
پی ایس ایل یا جگ ہنسائی
اکیس کروڑروپے کے خرچ سے پی ایس ایل کی تقریب کا جس انداز میں انعقاد ہوا اس پر کھیلوں کے شائقین نے سوشل میڈیا پر طوفان برپا کر رکھا ہے کہ شاید پی ایس ایل کی افتتاحی تقریب وہاں موجود افراد کے بجائے ٹیلی ویژن ناظرین کیلئے بنائی گئی تھی۔جس قسم کے میزبان اور فنکار بلائے گئے تھے ان کی کارکردگی سے قطع نظر افسوسناک امر یہ ہے کہ پی ایس ایل کا ترانہ تک ادھورا پیش کیا گیا۔ اس سے زیادہ بدانتظامی کیا ہوگی کہ تقریب کی مرکزی حیثیت کا حامل آئٹم تک ادھورا رہا۔پی ایس ایل کی افتتاحی تقریب پہلی مرتبہ پاکستان میں منعقد ہورہی تھی جس میں ناکامی اس حوالے سے ہماری تیاری اور کامیابیوں کے حوالے سے سوالیہ نشان ہے۔ اس قسم کے شور شرابا کی مانند تقریب پر کروڑوں روپے کا ضیاع چہ معنی دارد۔ پی ایس ایل تقریب کی بدانتظامی سے قطع نظر پی ایس ایل کے انعقاد پر نوجوانوں اور خصوصاً طالب علموں کو کرکٹ کا جو بخار چڑھ جاتا ہے وہ الگ سے مسئلہ ہے۔پی ایس ایل کے انعقاد پر ٹی وی سکرینوں پر ایسا سماں باندھ دیا جاتا ہے کہ جیسا لمحہ موجود کی سب سے اہم چیز پی ایس ایل ہی ہے، عام دنوں میں ایسا ہوتا تو پھر بھی گنجائش تھی ان دنوں پہلی سے لیکر میٹرک تک کے طالب علموں کے امتحانات سرپر ہیں، اس کے بعد انٹر میڈیٹ کے امتحانات ہونے ہیں، والدین کو مشکل یہ درپیش ہے کہ بچے پڑھائی کی بجائے پی ایس ایل میں مستغرق ہیں، کھیلوں کا انعقاد اور صحت مند سرگرمیوں کی مخالفت مطلوب نہیں بلکہ اس قسم کی سرگرمیاں ہمارے معاشرے کیلئے خاص طور پر ضروری ہیں۔ ان کے انعقاد کا وقت اور پوری قوم کو اس بخار میں مبتلا کرنا تکلیف دہ امر ہے، مناسب ہوگا کہ میڈیا اشتہارات کے علاوہ اس کی کوریج میچ دکھانے کی حد تک کرے اور صبح وشام اور دن بھر قوم کو اس بخار میں مبتلا رکھنے سے اجتناب کرے۔