ائمہ کا پیغام محبت اور ہم

ایک عام انسان دین کو اپنے قلبی سکون کیلئے اختیار کرتا ہے۔ بے شک دین اسلام میں ایسی تاثیر ہے کہ وہ اپنے قبول کرنے والوں کو سکون دیتا ہے۔ اللہ کی یاد اور پیغمبر صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی، سیرت اور اخلاق عالیہ میں ایسا اطمینان ہے کہ انسان زندگی کی ہر مشکل کو ہنس کر جھیل جاتا ہے تاہم یہ سکون بخش دین اس وقت انسان میں زبردست اضطراب پیدا کر دیتا ہے جب مذہبی اختلافات کی داستان انسان کے سامنے آتی ہے۔ کفر کے فتوے، گمراہی کے سرٹیفکیٹ، سازشوں کی داستانیں غرض تنازعات اور اختلافات کی دنیا انسان کا ذہنی سکون درہم برہم کردیتی ہے۔ جن شخصیات کو انسان معتبر سمجھتا ہے وہ غیرمعتبر ہوجاتی ہیں۔ جس نقطۂ نظر کو انسان باعث نجات سمجھتا ہے وہ گمراہی اور ضلالت قرار پاتا ہے۔ ایسے میں انسان کسی خاص نقطۂ نظر کا اسیر ہے تواپنے نقطۂ نظر کیخلاف دو سطریں پڑھنا بھی اس کیلئے باعث اذیت ہوجاتا ہے۔
معاصر کالم نگار محمد اظہارالحق اپنے کالم ''گلہ جو حرم کو اہل حرم سے ہے'' میں اتحاد امت کے تناظر میں کیا خوبصورت لکھتے ہیں کہ ''خدا کا یہ گھر' دنیا کے تمام مسلمانوں کی پناہ گاہ ہے! یہ وہ مسجد ہے جو شیعہ ہے' نہ سنی' شافعی ہے' نہ مالکی' حنفی ہے' نہ حنبلی! یہیں آکر معلوم ہوتا ہے کہ یہ سارے مسلک' نفرت یا علیحدگی پسندی کی بنیاد پر نہیں' سہولت کی بنیاد پر وجود میں آئے تھے۔ وہ ائمہ' جن کے ناموں پر یہ مسلک ظہور پذیر ہوئے' ایک دوسرے کیساتھ محبت اور اخلاص کے رشتوں میں بندھے ہوئے تھے۔ امام شافعی نے امام مالک کے حضور زانوئے تلمذ تہہ کیا۔ پھر امام ابوحنیفہ کے تلمیذ خاص امام محمد بن حسن کے شاگرد رہے۔ امام ابوحنیفہ امام مالک سے تیرہ سال عمر میں بڑے تھے' مگر امام مالک کی مجلس میں بیٹھے تو خاموش اور سرنگوں ہو کر! امام احمد بن حنبل امام شافعی کے شاگرد رہے اور قاضی ابو یوسف کے بھی جو حنفی فقہ کے معماروں میں شامل ہوتے ہیں۔
امام ابوحنیفہ امام جعفر صادق کے تلمذ میں رہے۔ آپ نے امام باقر سے بھی اکتساب کیا۔ امام شافعی امام جعفر صادق کی خدمت میں باقاعدہ حاضری دیا کرتے۔ فرماتے تھے کہ جب بھی امام جعفر صادق کی خدمت میں حاضر ہوا تو وہ تلاوت کر رہے ہوتے یا نماز میں مصروف ہوتے! آج ان پانچوں ائمہ کے نام لیوا ایک دوسرے سے برسرپیکار نظر آتے ہیں تو ہر اس شخص کو تعجب ہوتا ہے جس نے ان ائمہ کرام کے حالات وفضائل کا مطالعہ کر رکھا ہے! ان اماموں کا ایک دوسرے سے تعلق معاندانہ تھا نہ حریفانہ! یہ تو ایک دوسرے سے استفادہ کرتے تھے۔ چاروں سنی امام' اہل بیت کے حلقہ ارادت میں شامل تھے۔ امام ابوحنیفہ نے کہ متمول تھے' ہمیشہ سادات کی تحریکوں کی خفیہ مالی مدد کی! یہی اصل سبب تھا عباسی خلفا کے اس ظلم کا جو انہوں نے امام ابوحنیفہ پر روا رکھا! ان ائمہ کرام کے شاگرد جہاں جہاں پہنچے' وہاں وہاں ان کے مسلک کا اور نکتۂ نظر کا رواج پڑا۔
بدقسمتی سے ہمارے ہاں جو لوگ خدائی فوجدار بن کر کھڑے ہوتے ہیں وہ یہ بھول جاتے ہیں کہ ان کا رائے حرف آخر نہیں ہے۔ وہ کتنے بڑے عالم کیوں نہ ہوں وہ بہرحال عام انسان ہیں۔ وہ حق وباطل کا فیصلہ نہیں سنا سکتے۔ وہ دوسروں کے کفر وضلالت کا فیصلہ نہیں سنا سکتے۔ ان کی رائے بھی غلط ہوسکتی ہے، ان کا فہم باطل ہوسکتا ہے۔ ان کی تحقیق غیرمستند ہوسکتی ہے۔ ان کا اجتہاد خطا ہوسکتا ہے، ان کا فکر حالات اور زمانے سے متاثر ہوسکتا ہے۔ ان کی سوچ خواہشات وتعصبات کی اسیر ہوسکتی ہے۔ ان کے جذبات ان کی عقل پر غالب آسکتے ہیں، انہیں یہ حق ہے کہ پورے اعتماد اور یقین کیساتھ اپنی بات لوگوں کے سامنے پیش کریں مگر اسے دین بتانے کے بجائے اپنی رائے کے طور پر پیش کریں۔ انہیں یہ حق حاصل ہے کہ جس چیز کو غلط سمجھتے ہیں اسے غلط کہیں مگر ساتھ میں دلیل بھی پیش کریں اور اس بات کو قبول کرنے کیلئے تیار رہیں کہ امکانی طور پر ان کی اپنی بات غلط بھی ہوسکتی ہے مگر بدقسمتی سے ہمارے معاشرے میں عدم برداشت فرقہ واریت کا باعث بن رہا ہے اور یہ کام وہ لوگ کرتے ہیں جن کا علم انتہائی ناقص ہوتا ہے۔ وہ بے چارے ساری زندگی صرف اپنا نقطۂ نظر پڑھتے اور سنتے ہیں۔ انہیں اپنے علما، اپنے لٹریچر، اپنے گروپ اور اپنے فرقے کے علاوہ کسی اور کی خبر نہیں ہوتی۔ وہ اسی ناقص علم، محدود دائرے، متعصبانہ سوچ اورجذبات سے بھرپور کیفیت میں دوسرے کے حق وباطل، صحیح وغلط اور حتیٰ کے کفر وایمان کا فیصلہ کرنے لگتے ہیں۔ کاش یہ لوگ جانتے کہ اس جرم کی سزا کتنی بھیانک ہے مگر یہ لوگ اپنے دائرے میں بند رہتے ہیں اور پورے یقین سے اپنے پیروکاروں کو بتاتے ہیں کہ ہم آخری سچ بیان کررہے ہیں اور ہماری فکر سے کسی صورت اختلاف ممکن نہیں ہے۔ پھر وہ آگے بڑھتے ہیں اور اختلاف کرنے والے کے کفر اور پھر اس کے قتل کا فتویٰ دینے لگتے ہیں۔ یوں خدا کی دھرتی ان کے تعصبات کے سبب ظلم اور فساد سے بھر جاتی ہے اور معصوم لوگوں کی جان ومال آبرو برباد ہونے لگتی ہے۔
پاکستان میں اتحاد واتفاق کی بحث کے تناظر میں تمام مذہبی طبقات مسالک کی موجودہ تقسیم کو حقیقت مانتے ہیں اور ان کے ادغام کو خارج ازامکان سمجھتے ہیں، اس لئے سب اس بات پر متفق ہیں کہ اپنے اپنے عقائد ونظریات پر کاربند رہتے ہوئے اتحاد واتفاق کی کوششیں کی جاسکتی ہیں، امت سے باہمی منافرت کے خاتمے کا کام صرف اسی صورت ہو سکتا ہے کہ ہم اپنے مسلک پر قائم رہتے ہوئے دیگر مسالک کے لوگوں کو بھی قبول کریں۔