گندم کی امدادی قیمت بڑھانے اور کھاد کی کم کرنے کی ضرورت

کابینہ کی اقتصادی رابطہ کمیٹی(ای سی سی)نے گندم کی آنے والی فصل کیلئے 40کلوگرام کم سے کم سپورٹ پرائس (ایم ایس پی) کی منظوری دے دی۔ ای سی سی کے اس اجلاس میں روس سے3لاکھ 20 ہزار ٹن گندم کی درآمد کو رواں سال کی تمام درآمدات کی اعلیٰ ترین قیمت پر درآمد کرنے کی بھی اجازت دی گئی، ایک جانب زرعی ملک میں گندم کی پیداوار میں کمی آئی ہے اور محکمہ زراعت کسانوں کو گندم کی پیداوار بڑھانے کیلئے قائل کرنے میں مصروف عمل ہے، قلت کی صورتحال یہ ہے کہ ہم روس سے گندم درآمد کرنے لگے ہیں، دلچسپ بات یہ ہے کہ درآمدی گندم کی کھیپ کی آمد پر اپنے ہی خریدی گئی گندم کے پہنچنے کو خوشخبری گردانتے ہیں، ہونا تو یہ چاہئے تھا کہ گندم کی پیداوار میں اضافے کیلئے کسانوں کو اتنی رعایت دی جاتی اور گندم کی سرکاری قیمت اتنی حوصلہ افزاء رکھی جاتی کہ کسان گندم اُگانے کو منافع بخش سمجھ کر خود ہی گندم اُگاتے اور گندم کی پیداوار میں اضافہ ہوتا اس طرح کے عملی اقدامات کئے جاتے کہ کسان خود راغب ہوتے مگر حیرت انگیز امر یہ ہے کہ پاکستان میں گندم کی سرکاری قیمت سولہ سو روپے من رکھی گئی ہے جو پڑوسی ممالک کے مقابلے میں کافی کم ہے ، بھارت میں یہی قیمت سترہ سو چالیس روپے اور بنگلہ دیش میں اکیس سوتیس روپے ہے۔ بھارت میں یوریا 'کھاد' کی قیمت فی بوری چھ سو پچاس روپے جبکہ ڈی اے پی دو ہزار چھ سو پچاس روپے کی بوری ملتی ہے جبکہ اس کے مقابلے میں پاکستان میں یوریا کھاد فی بوری قیمت سولہ سو ستر اور ڈی اے پی چار ہزار ایک سو روپے میں دستیاب ہے، کھاد کی قیمتوں میں کمی اور گندم کا سرکاری نرخ میں اضافہ کی بجائے حکومت تقریباً گیارہ اعشاریہ سات فیصد فی من کے حساب سے درآمد کرتی ہے جو تقریباً انیس سو روپے سے زائد ہے اگر گندم کی سرکاری قیمت انیس سو روپے کی جائے تو کسانوں کو فائدہ ہونے کیساتھ ساتھ قیمتی زرمبادلہ کی بھی بچت ہوسکتی ہے لیکن یہ فیصلہ حیرت انگیز طور پر کابینہ کی اقتصادی رابطہ کمیٹی کو شاید منظور نہیں۔ حکومت کو اس طرح کی پالیسیاں مرتب کرنے کی ضرورت ہے کہ کم از کم ایک زرعی ملک ہونے اور گندم میں نہ صرف خود کفیل ہونے بلکہ ریکارڈ رکھنے والے ملک کم ازکم اپنی ضرورت کے مطابق گندم تو اُگا سکے۔ روس سے مہنگی گندم خرید کر افغانستان سمگل کرنے کے عمل کا بھی تدارک ہونا چاہئے، پوری منصوبہ بندی اور منڈی کو معیشت کے اصولوں کے مطابق چلانے کے اقدامات کرکے ملکی گندم کی ضرورت پوری کرنا مشکل نہیں، اگر گندم برآمد نہ بھی کرسکیں تو کم ازکم ملکی ضرورت کے مطابق تو گندم کی پیداوار کا ہدف حاصل کرنا زیادہ مشکل نہیں۔
مہنگائی، الزام دینا مسئلے کا حل نہیں
وزیراعظم عمران خان کی زیرصدارت ہونے والے وفاقی کابینہ کے اجلاس میں شامل اراکین ملک میں مہنگائی پر پھٹ پڑے۔ کابینہ اجلاس میں تمام وزراء نے مہنگائی پر بات کی اور اڑھائی گھنٹے تک کابینہ اجلاس میں صرف مہنگائی کے جِن کو قابو کرنے کے اقدامات پر بحث ہوئی۔ وفاقی وزیر دفاع پرویز خٹک کا کہنا تھاکہ مہنگائی پر قابو نہ پانا بیورو کریسی کی ناکامی ہے، بروقت اقدامات کیوں نہیں اُٹھائے گئے؟وزیر آبی وسائل فیصل واوڈا کاکہنا تھاکہ بیوروکریٹس کے روایتی ہتھکنڈے بے نقاب ہونے چاہئیں۔ سیکرٹری فوڈ سکیورٹی نے اجلاس میں جواب دیتے ہوئے کہا کہ ہم 30 ،30 سال سروس کرچکے ہیں، ساری ذمہ داری ہم پر نہ ڈالی جائے۔وزیراعظم اور کابینہ کا بار بار اسی مسئلے کا جائزہ لینا اقدامات کی ہدایت اورنتیجہ مکمل ناکامی کی صورت میں سامنے آنا حکومت اور عوام دونوں کیلئے یکساں تشویش کی بات ہے۔ مہنگائی پر قابو پانے میں ناکامی پر بیوروکریسی کو ذمہ دار ٹھہرانا بھی معقول امر نہیں۔ سمجھ سے بالاتر امر یہ ہے کہ طویل اجلاسوں اور وجوہات کا علم ہونے کے باوجود مہنگائی کے جن کو قابو کرنے میں ناکامی کی آخر وجہ کیا ہے۔ معمول کی مہنگائی کی روک تھام تو ناممکن ہے اور یہ ایک عالمی مسئلہ ہے اور اس کی عالمی وجوہات بھی ہیں جو ہماری حکومت کے دائرہ اختیار میں نہیں آتا لیکن بروقت فیصلے اور ٹھوس منصوبہ بندی، مافیا کیخلاف کارروائی، مارکیٹ اور منڈی کو اعتدال میں رکھنے کے اقدامات جیسے امور میں کوشش کے باوجود بہتری نہ آنا سنگین مسئلہ ہے۔ بجائے اس کے کہ پوری ذمہ داری بیوروکریسی پر ڈالی جائے حکومت کو بھی اپنے فیصلوں، اقدامات اور منصوبہ بندی کی ذمہ داری لینی چاہئے۔ مشترکہ اقدامات ہی سے اس مسئلے پر کسی حد تک قابو پانا ممکن ہوگا، مہنگائی پر قابو پانے میں ناکامی کی ذمہ داری کسی ایک فریق پر عائد نہیں ہوتی، ہر فریق اس کا ذمہ دار ہے خواہ جس فریق کی بھی کوتاہی، غلط فیصلے اور منصوبہ بندی کا فقدان اور اقدامات مناسب نہ ہوں بالاخر اس کا بوجھ حکومت کو اُٹھانا ہے اور حکومت ہی عوام کو جوابدہ ہے۔