naghma habib 4

مغرب نے رویہ نہ بدلا تو نتائج خطرناک ہو سکتے ہیں

یورپ اور مغرب اپنے اپ کو بہت روشن خیال ،روادار اور پر امن کہتے ہیں۔ انہوں نے شدت پسندی کو اسلام سے زبردستی جوڑا ہوا ہے حالانکہ شدت پسندی جتنی مغرب میں ہے اتنی اسلامی دنیا میں نہیں۔ اسلامی دنیا میں تو فساد کا بیج ہی وہ بوتا ہے اور پھر اگر کوئی غیرت مند اٹھ کر اپنا رد عمل ظاہر کرتا ہے تو اسے دہشت گرد کہہ دیا جاتا ہے۔ ہماراالمیہ یہ ہے کہ ہم مسلمان بجائے دشمن کو اور اس کی چال کو پہنچاننے کے خود اپنے ہی ملکوں میں دہشت گردی پر آمادہ ہوجاتے ہیں اور بقول بعضے گردن بھی مسلمان ہے تو خنجر بھی مسلمان اور یہی وجہ ہے کہ غیر مسلم کھل کر اسلام اور مسلمان کے خلاف بولتے ہیں۔ بار بار ہمارے دین کی تضحیک کی جاتی ہے کیونکہ جرم ضعیفی کی سزا مرگ ِمفاجات ہی ہوتی ہے بلکہ یہاں تو مرگِ مسلسل ہے۔ایک مسلمان کے لیے اس سے بڑھ کر مرنے کا مقام کیا ہوگا کہ اُس کے پیارے نبیۖ کی شان میں گستاخی کی جائے جو مغرب مسلسل کر رہا ہے کبھی ایک ملک اور کبھی دوسرا ملک گستاخانہ خاکے شائع کرکے مسلمانوں کی غیرت کو للکارتا ہے کچھ عرصے نہیںبلکہ کچھ دن مسلم دنیا میںہیجان اٹھتا ہے اور پھر اپنی موت آپ مر جاتا ہے یہ ہیجان عوامی سطح پر احتجاج کی صورت میں ہی ہوتا ہے چند ایک حکومتوںکے علاوہ باقی ممالک منہ میں گھنگھنیاں ڈال کر بیٹھ جاتے ہیں۔وہی ممالک جو خود کو اسلام کا علمبردار اور ٹھیکیدار سمجھتے ہیںخاموشی سے موت سے بھی بڑھ کر یہ حادثہ سہہ جاتے ہیں اور اُف تک نہیں کرتے اور پھر یہی مغرب دوبارہ کسی ایسے ہی حملے کے لیے تیاری پکڑنے لگتاہے اور اس میں کسی ملک کی تخصیص نہیں، کبھی امریکہ میں نعوذباللہ قرآن شریف کو نذرِآتش کیا جاتا ہے، کبھی ہالینڈ میں کوئی قابل اعتراض فلم بنائی جاتی ہے اور ناروے اور فرانس تو سب سے آگے بڑھ کر بار بار یہ جرم کرتے ہیں۔ ہمارے پاک نبیۖ کے خاکے بنائے جاتے ہیں اور چھاپے جاتے ہیں۔ اسلاموفوبیا میں مبتلاء یہ ملک اسلامی شعائر پر پابندی لگاتے ہیں کبھی توہین آمیز خاکے شائع کرتے ہیں یعنی جیسے بھی ہومسلمانوں کی دل آزاری کی جائے اگر چہ ایسا کرنے والوں کو حکومتی تحفظ ضرور حاصل ہوتا ہے لیکن اس بار تو فرانس کے صدر ایمانیول میکرون نے انہیں حکومتی سرپرستی مہیا کی۔ کچھ دن پہلے ہسٹری اور جیوگرافی کے ایک فرانسیسی سکول ٹیچر سموئیل پاٹے نے اپنے طلباء کو پڑھاتے ہوئے چارلی ہیبڈومیگزین میںپانچ سال پہلے شائع ہونے والے پیغمبر اسلا م ۖ کے توہین آمیز خاکے کلاس میں دکھائے جس پر ایک مسلمان چیچن تارکِ وطن طالبعلم نے اگلے روز اس کو قتل کردیا۔ مقتول ٹیچر کو قومی اعزاز کے ساتھ دفن کیا گیا بلکہ قومی اعزاز بھی دیا گیا جس سے مسلمانوں کے جذبات مزید مجروح ہوئے۔ اس واقعے کے بعد فرانس میں ایک بار پھر توہین آمیز خاکے شائع کیے گئے اور فرانس کا صدر ایمانیول میکرون بھی میدان میںآگیا جس نے اعلان کیا کہ فرانس ان خاکوں کو واپس نہیں لے گا ہاں مخالفین کو ہتھیار ڈالنا پڑیںگے کہ سب کو اظہارِ رائے کی آزادی حاصل ہے اور اسے انہیںماننا پڑے گا اور یہ کہ ہم سیکولرازم لائیںگے یعنی باالفاظ دیگر مسلمانوں کو سیکولر بنائیں گے۔ فرانسیسی صدر نے یہ بھی کہا کہ وہ فرنچ سیکولرازم اور اسلام جسے اس نے فرنچ ورژن آف اسلام کہا کو ملاکر ایک روشن خیال اسلام بنائیںگے۔ کمزوری ہم مسلمانوں کی ہے اور ہمارا المیہ ہی آپس کی نااتفاقی ہے۔ مسلمان آپس میں دست و گریبان ہیں اور غیر ان کے اوپر مختلف طریقوں سے حملہ آور۔ کاش کہ ہم مسلمان جو اپنے پاک نبیۖ پر اپنی جان اور اپنے ماں باپ کو قربان کرنے کا دعویٰ کرتے ہیں اٹھ کھڑے ہوں اور ان لوگوں کے ساتھ اپنے تجارتی تعلقات پر نظرثانی کریں اور انہیں معاشی طور پر نقصان پہنچاکر یہ احساس دلائیں کہ آج کل جنگیں معاشی میدان میں لڑی جاتی ہیں لہٰذا مسلم امہ ایک بڑی آبادی ہونے کی وجہ سے ایک بڑی کنزیومرہے اور وہ ان کے لیے بغیر جنگ لڑے بھی مسائل پیدا کر سکتی ہے ۔ سفارتی سطح پر اس نکتہ ء نظر سے کام کیا جانا چاہیئے کہ مغرب کو احساس دلایاجائے کہ جب تک وہ اپنے رویے میں تبدیلی نہیں لائیںگے تب تک دہشت گردی نہیں روکی جا سکتی اور یہ بھی کہ مغرب جو کچھ کر رہاہے وہ بھی دہشت گردی کے ہی زمرے میںآتا ہے لہٰذا اسے اپنا رویہ تبدیل کرنا ہوگا، اور جیسا کہ وزیراعظم عمران خان نے اقوام متحدہ کے دوسالانہ اجلاسوں میں اسلاموفوبیا اور اظہارِرائے کی آزادی پر بات کی ہے اگر سارے مسلمان سربراہ اسی طرح کھل کر بات کریںتو مغرب کو مجبور کیا جاسکے گا کہ وہ اپنا رویہ تبدیل کریںاور بجائے اس کے کہ فرانسیسی صدر مسلمانوں کوبُرے بھلے کی تمیز سکھائیں مسلمان ملک انہیںاپنی اہمیت جتائیں اور انہیںیہ بھی بتائیں کہ مسلمان ملکوں میں اگر دشمن قوتیںدہشت گردوں کی معاونت چھوڑدیں تو پھر یہ ملک بھی سکون سے رہیں جو مغرب کو گوارا نہیں۔ فرانسیسی صدر کو اپنے رویے کی وجہ سے اب کسی بھی قسم کے نتائج کے لیے تیار رہنا چاہیئے کیونکہ اسے معلوم ہونا چاہیئے کہ مسلمان جتنا بھی بُرا ہو وہ ایک چیز برداشت نہیں کر سکتا وہ ہے اپنے پیارے نبیۖ کی ذات کے بارے میںکوئی بھی گستاخی او راگر مغرب نے اپنا رویہ نہ بدلا تو نتائج بہت خطرناک ہو سکتے ہیں۔