قصور ہمارا ہے

سیاستدان مسلسل آپس میں گتھم گھتا ہیں جبکہ اس ملک میں ان کی سیاست،سیاسی نااہلی اور باہمی مسائل سے کہیں زیادہ اہم وہ حقیقی مسائل ہیں جن سے یہ قوم مسلسل نبردآزما ہے اور انہیں یہ معلوم بھی نہیں کہ اس سب کا اصل ذمہ دار کون ہے۔وہ چاہتے ہیں کہ اس سب کی ذمہ داری کے لئے وہ اپنی ہی جانب اشارہ کریں کہ یہ جو بربادی وہ برداشت کر رہے ہیں دراصل انکے اپنے ہی کرموں کا نتیجہ ہے۔اس طرح کہنے میں کچھ نہ کچھ بہتری محسوس ہوتی ہے۔کم از کم یہ طاقت محسوس ہوتی ہے کہ یہ جو ہمارے ساتھ ہورہا ہے یہ ہم نے خود اپنے ساتھ کیا ہے اور یہ امید بھی پیدا ہوتی ہے کہ اگر ہم خود یہ اپنے ساتھ کرسکتے ہیں تو یقیناً اسے درست کرنے کی ہمت بھی اپنے ہی ناتواں بازوئوں میں رکھتے ہونگے۔لیکن افسوس اس وقت اپنے پنجوں سے دلوں پر گرفت کرلیتا ہے جب یہ احساس پیدا ہونا شروع ہوتا ہے کہ یہ سب جو ہمارے ساتھ ہورہا ہے اس میں ہمارااپنا کردار بہت ہی مخفی اور موہوم سا ہے۔کئی بیرونی طاقتیں اس میں کارفرما ہیں۔بیرونی مطلب صرف سرحد پار نہیں عوام کے جسم سے باہر بھی ہیں،عام دیکھنے میں یہ طاقتیں داخلی دکھائی دیتی ہیں لیکن ہمارے دائرہ اختیار اور گرفت سے ذرا بالا تر ہیں پھر ایک نئی بات یہ ہے کہ ہم اپنے آزاد ملک میں ہوتے ہوئے کسی کو بھی کچھ نہیں کہہ سکتے۔ہم آزاد ہیں لیکن آزادی کے بھی اپنے دائرے ہوتے ہیں اور کچھ قوتیںان دائروں سے ذراباہر،ذرازیادہ مقدس ہوتی ہیں اس لئے ہی تو خموش گفتگو ہے بے زبانی ہے زباں میری اور ہم میں سے کسی کو اس حوالے سے کوئی شکوہ نہیں،ہمیں شکوہ ہوتا ہی نہیں تبھی تو کسی کو مریم نواز سے اس وقت قطعی شکوہ نہ ہوا جب انہوں نے بہ یک جنبش قلم خود کو ہی مادرملت قرار دے ڈالا،عوام کو شکوہ یوں بھی پیدا نہ ہوا کہ نئی پود تو بے چاری ان سارے حقائق سے ہی بے پرواہ ہے۔ہم نے دور حاضر میں ایسے بے جڑ بچے پیدا کیئے ہیں جنہیں اپنی جڑ کا نہ احساس ہے اور نہ اندازہ۔ قائد اعظم محمد علی جناح کے نام سے بھی واقفیت واجبی ہے۔علامہ اقبال بھی محض اپنی شاعری کی مشکل زبان کے باعث پہچانے جاتے ہیں کہ کورس کی کتابوں میں ان کا ذکر بھی ہے اور شاعری موجود بھی اس سے زیادہ ہمارے بچے نہ پاکستان کی تاریخ جانتے ہیں اور نہ ہی اپنے رہنمائوں سے واقف ہیں عین ممکن ہے کہ مریم نواز بھی نہ جانتی ہوں کہ مادر ملت کون تھیں اور پاکستان کی تاریخ میں ان کا کیا مقام ہے جس قدر اردو زبان سے انکی واقفیت ہوگی اس میں مادر ملت قرار دیا جانا انہیں ذرا برا نہ لگا ہوگا۔ مادرملت کیا وہ تو نانی ملت بھی کہلانے کی مستحق ہیں۔ہاں اگر وہ جانتیں کہ مادر ملت کا خطاب جنابہ فاطمہ جناح کے لئے مخصوص تھا اور اس کی وجہ محض ان کا خاتون ہونا نہ تھا بلکہ تحریک پاکستان میں ان کا کردار تھا تو شاید وہ اپنے فیصلے پر نظر ثانی کرتیں۔اب جو معاشرے وملک میں فضان مچا ہے تو عین ممکن ہے کسی نے انہیں بتایا ہو یا ہوسکتا ہے کہ وہ بھی حیران ہوں کہ آخر ایسی کیا بات ہے جس پر اس قدر واویلا کیا جارہا ہے۔ سیاست کی باتوں کے علاوہ اس ملک کو کئی پریشانیاں لاحق ہیں اور ان پریشانیوں کا کوئی علاج ابھی تک دریافت ہو تا دکھائی نہیں دیتا۔حکومت کی توجہ اگر واقعی ان باتوں کی جانب ہے تو بھی ان کی گرفت سے اکثر اوقات چیزیں پھسلتی ہی محسوس ہوتی ہیں۔مہنگائی لاقانونیت اور مایوسی کے علاوہ، معیشت کی زبوں حالی،بجلی کے بڑھتے ریٹ، گیس کی پیداوار میں کمی اور اسکے باوجود سی این جی سٹیشنوں کی لائنوں کا اجراء سب ہی مسائل ہمیں نہ جانے کیوں بے حد اہم محسوس ہوتے ہیں۔اپوزیشن کا جلسہ کتنا بڑا ہوا اور کیوں ہوا۔ اس سب کا اثر کیا ہونے والا ہے اور کیا یہ سب حقیقت ہے اس سب کے بارے میں نہ جانے کیوں دل کسی قسم کے غم میں مبتلا ہی نہیں ہوتا۔ہمیں تو ان سب باتوں سے کہیں زیادہ دُکھ اس بات کا محسوس ہوتا ہے کہ ہماری کہیں کوئی شنوائی ہی نہیں ہوتی۔اس حد تک بھی نہیں کہ لاہور کو دنیا کا آلودہ ترین شہر قرار دے دیا گیا اور اس میں رہنے والوں کی صحت کو لاحق خطرات کے بارے میں کسی نے کچھ نہ سوچا۔یہ مقدمہ کبھی نہیں چلے گا کہ کس کی ایماء پر کتنے درخت کاٹے گئے اور ایک عام آدمی کو کس قدر بیماریوں کا شکار کیا گیا کون کبھی یہ سوچے گا کہ اس شہر کے باسیوں کو مہلک پانی پینے سے کہیں زیادہ کینسر ہی نہ ہورہا ہو۔جانے کیوں ہم اس دنیا میں موجود ہوتے ہوئے بھی جہنم واصل ہیں اور اس سب کے ذمہ دار ہم خود ہیں۔اس ذمہ داری کا احساس تو ہمیں یقیناً ہے لیکن وہ کیسے اس سب کا سدباب کرے۔سوال یہی اٹھتا ہے کہ یہی دنیا ہے توآخر یہی دنیا کیوں ہے؟اور ہم پریشان رہتے ہیں ۔کسی کا کوئی قصور نہیں،قصور ہمارا ہے اور وزیراعظم کہتے ہیں کہ اصل قصور بیوروکریسی کا ہے۔اب کوئی کیا کہے کہ جب حکومت وقت نے عنان اقتدار سنبھالا تھا،کئی لوگوں نے درست ٹیم کے انتخاب کے مشورے دیئے تھے۔اب بیوروکریٹس کی ٹیم تو آپ نے خود منتخب کی کیونکہ اداروں کے سیکرٹری تو حکومت وقت کی ایماء پر لگتے ہیں بہرحال قصور تو ہمارا ہے اور ہم اپنے قصور پر شرمسار ہیں۔