ریاست کو اچھے برے طالبان کی پالیسی ختم کرنی ہوگی. صوبائی صدر اے این پی ایمل ولی خان

ویب ڈیسک (بونیر):اے این پی نے ٹرتھ کمیشن کے قیام اور وزیر داخلہ سے مستعفی ہونے کا مطالبہ کردیا، وزیرداخلہ استعفیٰ دے دیں، ریاست کو وضاحت بھی دینی ہوگی کہ دہشتگردی کے خلاف جنگ کس کا تھا؟ اے این پی نے ہمیشہ اچھے برے طالبان میں تمیز کی مخالفت کی ہے، ریاست کو اچھے برے طالبان کی پالیسی ختم کرنی ہوگی کیونکہ طالبان میں گُڈ کچھ نہیں ہوتا، ہم نے ریاست کی تزویراتی پالیسی کی مخالفت کی اور کرتے رہیں گے، خودمختار افغانستان میں مداخلت کی پالیسی کی مخالفت کی اور کرتے رہیں گے چاہے جو بھی قیمت ادا کرنی پڑے، 22 نومبر کو پی ڈی ایم کا جلسہ ہر حال میں ہوگا، باچاخان کے پیروکار اس جلسے کو کامیاب بنائی گی، پشاور کا جلسہ تاریخی ہوگا،اس جلسے کو سارے دنیا کو یہ پیغام دینگے وہ پیغام ہوگا باچاخانی کا،حکومت کی ساری پالیسیاں ناکام ہوچکی ہیں، اس حکومت کی خاتمہ اب کرنا ہوگا، اگر آپ دھماکے بھی کرینگے تب بھی اے این پی میدان میں ہوگی،یہ حربے پرانے ہوچکے ہیں، دہشتگرد دوبارہ منظم ہورہے ہیں،تمام نیٹ ورکس کے خلاف قانونی کارروائی کی جائے، باجوڑ سے وزیرستان تک تمام تباہ کاریوں ، نقصانات کا فوری طور پر ازالہ کیا جائے، لاپتہ افراد کو جلد ازجلد عدالتوں میں پیش کیا جائے، این ایف سی ایوارڈ کا فوری طور پر اجراء کیا جائے، اٹھارویں آئینی ترمیم کو اگر چھیڑا گیا تو پھر پاکستان نہیں رہے گا، بونیر میں جلسہ عام سے صوبائی صدر اے این پی ایمل ولی خان کا خطاب۔