ایاز صادق کا غیر ذمہ دارانہ بیان

بدھ کے روز قومی اسمبلی کے اجلاس کے دوران سابق سپیکر سردار ایاز صادق نے ان حالات کی تصویر کھینچی جس میں بھارتی ہواباز ابھی نندن ورتھمان کو واپس کیا گیا تھا۔ اس سے پہلے کہ میں ایاز صادق کے بیان کی طرف آؤں، یہاں یہ وضاحت دینا ضروری ہے کہ وہ کسی بھی طرح فیصلہ سازی کے عمل کا حصہ نہیں تھے۔ وہ اس اجلاس کا حصہ تھے جو پارلیمانی جماعتوں کے نمائندگان کو زیرتحویل ہواباز کو واپس کرنے کے فیصلے کے بارے آگاہ کرنے کیلئے ابلایا گیا تھا۔ میں اس اجلاس کا حصہ تو نہ تھا البتہ میں نے ان ذرائع سے ضرور گفتگو کی ہے جو خوب جانتے کہ وہاں کیا ہوا تھا سو میں ایاز صادق کے اس بیان پر ہرگز کچھ نہ کہوں گا جو آج کل ہر سو عام ہے اور جس پر بھارت میں خوب ہاہاکار مچی ہوئی ہے۔ میری رائے میں یہ فیصلہ پاکستان کے جوابی حملے کے بیان کے بعد کیا گیا تھا۔ اس سے دو پیغام دینا مقصود تھے، پہلا یہ کہ ہم کوئی جارہیت نہیں چاہتے اور دوسرا یہ کہ اگر بھارت نے ایسا کرنے کی کوشش کی تو بھرپور ردعمل دیا جائیگا۔
گوکہ میں اس بارے میں پہلے بھی لکھ چکا ہوں البتہ چند چیدہ چیدہ نکات میں دہرائے دیتا ہوں۔ پلوامہ واقعے کے بعد، بھارتی جنگی جنون، بی جے پی کے انتخابی نعروں اور خفیہ اطلاعات کی بنیاد پر پاکستان پہلے ہی دنیا کے اہم دارلحکومتوں کو یہ تنبیہ کر چکا تھا کہ بھارت پاکستان کیخلاف کوئی کارروائی کرنے کیلئے پر تول رہا ہے۔ انہیں یہ بھی بتا دیا گیا تھا کہ اگرچہ پاکستان کوئی کشیدگی نہیں چاہتا البتہ اگر بھارت کی جانب سے کوئی ایسی کارروائی کی گئی تو پاکستان کے پاس اس کا منہ توڑ جواب دینے کے علاوہ کوئی راستہ باقی نہ بچے گا۔ بدقسمتی سے، ان انتباہی پیغامات پر کوئی زیادہ دھیان نہیں گیا۔
مگر جب چھبیس فروری کو بھارت کی جانب سے ایک بزدلانہ کارروائی کی گئی تو واشنگٹن کی طرف سے پاکستان کو کوئی ردعمل نہ دینے کیلئے قائل کرنے کی کوشش کی گئی کہ اس فضائی حملے میں کوئی نقصان نہ ہوا تھا۔ مغربی ممالک نے اس معاملے میں بھارت کی طرفداری کرنا چاہی البتہ پاکستان اس پر خاموش رہنے سے انکاری تھا۔
بھارتی فضائیہ اسی شام ایک ردعمل کی توقع کر رہی تھی اور اسی لئے ان کے لڑاکا طیارے اس شام اور چھبیس اور ستائیس کی درمیانی شب فضا میں گشت کرتے رہے جبکہ پاکستانی فضائی فوج کو ایک جوابی کارروائی کی منصوبہ بندی کرنے اور اس پر کامیابی سے عمل درآمد کرانے کی ذمہ داری سونپی گئی تھی۔ پہلے پہل تو پی اے ایف نے بھارت کے چار مقامات پر حملہ کرنے کی ٹھانی تھی البتہ اس کے بعد انہیں اس عملی منصوبے کے تحت اقدامات لینے کا کہا گیا جس میں ردعمل کے باوجود پرامن رہنے کی خواہش کا پیغام ملے۔ یہ معاملے کے ابتدائی مراحل میں نہایت اہم تھا کہ اس سے دراندازی کا سارا ذمہ بھارت کے کھاتے جاتا۔
ستائیس فروری کو ہونے والی پی اے ایف کی جوابی کارروائی میں ایک مگ 21کو نشانہ بنا کر تباہ کیا گیا اور اس کے پائلٹ کو گرفتار کر لیا گیا جبکہ دوسرا طیارہ ممکنہ طور پر مقبوضہ کشمیر کے کسی علاقے میں جا گرا تھا۔ اسی شام بھارتی ایجنسی را اور تب کے ڈی جی آئی ایس آئی کے درمیان رابطہ ہوا۔ بھارت کی جانب سے یہ دھمکی دی گئی کہ وہ پاکستان کے نومقامات پر میزائل حملہ کرے گا جبکہ انہیں یہ بہت واضح انداز میں بتا دیا گیاکہ ایسا کرنے کی صورت میں پاکستان کی جانب سے جوابی میزائل حملہ کیا جائے گا، یہ تمام حقائق رپورٹ ہوچکے ہیں اور عوامی سطح پر عام ہیں۔ بھارت اس دوران امریکہ سے بھی مسلسل رابطے میں تھا اور بعدالذکر اپنے سیکورٹی امور کے مشیر جان بالٹن کے ذریعے کشیدگی کم کرنے کی کوشش کر رہا تھا۔ اس دوران پاکستان بھارتی میزائل حملے کیلئے بلکل تیار تھا، وزیراعظم عمران خان بھی قومی اسمبلی میں اس خدشے کا اظہار کر چکے تھے کہ بھارت ستائیس فروری کی شب نو سے دس بجے کے درمیان حملہ کر سکتا ہے۔ اس کے بعد چند مزید عوامل اس کھیل میں متحرک ہوگئے۔ پاکستان کا ایک میزائل کے بدلے تین میزائل داغنے کا فیصلہ، واشنگٹن کی سفارتکاری، چین اور متحدہ عرب امارات کی شمولیت اور پاکستان کے ہواباز واپس کرنے کا فیصلہ شامل تھا۔ بھارتی دھمکی اور پاکستان کی جوابی کارروائی نے بھارت کے جنگی جنون کی قلعی کھول کر رکھ دی۔ دو ایٹمی طاقتوں کے ایک دوجے پر میزائلوں کا کوئی جواز ہی نہیں۔ یہ ان دنوں ہونے والے تمام واقعات کا مختصر جائزہ پیش کیا گیا ہے، البتہ اس دہرائی کی وجہ ایاز صادق کا قومی اسمبلی میں دیا گیا غیرذمہ دارانہ بیان اور پھر اس بے وقوفی کی وضاحت کیلئے ایک اور ویڈیو کلپ بنی۔ ایاز صادق قومی اسمبلی کے سپیکر رہے ہیں، وہ ایک متوازن شخصیت ہونے کی شہرت رکھتے ہیں، سرکاری عہدوں پر براجمان رہنے والے افراد کے کندھوں پر بھاری ذمہ داریاں ہوتی ہیں، سیاست میں حالات بدلتے رہتے ہیں، آج کی حکومت کل کی حزب اختلاف ہوگی اور آج کی حزب اختلاف کل کی حکومت ہوگی۔ حکومتی عہدے کئی طرح کی اہم اور حساس معلومات کے امین ہوتے ہیں۔ ان عہدوں پر براجمان افراد سے سنجیدگی کی توقع ہوتی ہے اور انہیں جن معلومات یا فیصلوں تک رسائی ہوتی ہے وہ ایک امانت کی حیثیت رکھتے ہیں۔ (باقی صفحہ 7)