کس طرف قدم بڑھ رہے ہیں؟

سید شکیل احمدجوں جوں دن گزر رہے ہیں حالات دگرگوں ہوتے جارہے ہیں، یہ احساس پختہ ہوتا جا رہا ہے کہ وارثین پاکستان نے ہنوز سقوط مشرقی پاکستان سے سبق حاصل نہیں کیا۔ بھارت اب بیٹھے بٹھائے کشمیر ہڑپ کر گیا اور ہم بیٹھے دیکھتے رہے اور قافلہ گزر گیا۔ وطن عزیز میں پائی جانے والی موجودہ کشیدگی قافلہ گزر جانے کا احساس دلا رہی ہے کہ خدا نخواستہ قافلہ پھر اپنی تاریخ دہرا نہ جائے، چنانچہ موجودہ کشیدگی پیدا کرنے والوں کو تلوار وتفنگ لیکر ایک دوسرے پر سینہ تان کر کھڑے ہونے کی بجائے حالات کی نزاکت کا احساس کرکے کوئی حل تلاش کرنا چاہئے، اسٹبلشمنٹ ہو یا حکومت ان پر ہی یہ ذمہ داری عاید ہوتی ہے کہ وہ حالات کو پرامن طور پر لانے کیلئے اپنا فرض پورا کرے اور کشیدگی ختم کرنے کی طرف گامزن ہو نہ کہ کشیدگی کی آگ بھڑکانے کی غرض سے اس میں تیل انڈیلتی رہے۔ اگر ارباب حل وعقد کو اپنی ذمہ داریوں کا احساس نہیں ہے تو ان کو چاہئے کہ وہ ان افراد سے معلوم کرلیں جنہوں نے سقوط ڈھاکا اپنی آنکھوں سے دیکھا کہ پاکستان کیوں ٹوٹا، اس وقت بھی ایسی فضاء قائم کر دی گئی تھی جیسی اس وقت پیدا ہوتی جا رہی ہے۔ غداری کے الزامات اس زمانے میں خوب تشہیر کئے گئے، بھارتی ایجنٹ کے ڈانڈے بڑھ چڑھ کر اُچھال اُچھال کر ملائے گئے بعینہ ایسا ہی شیخ مجیب کیساتھ بھی ہوا تھا، اسے بھارتی ایجنٹ قرار دیکر جیل میں ٹھونس دیا گیا، اس نے ایسا کیا کیا تھا یہ ہی نا کہ اس نے صوبے کی حق تلفی کا ازالہ چاہا تھا اور مطالبہ کیا تھا کہ عوام کی رائے کا احترام کرتے ہو ئے اقتدار اس کے اصل منتخب نمائندوں کے حوالے کر دیا جائے، وہ بھی تو سرکاری اداروں کی سیاست میں مداخلت سے منع کر رہا تھا لیکن اس کے مطالبات پر سنجیدگی اختیار کرنے کی بجائے اس کو آگ کی طرف دھکیل دیا جاتا رہا، نتیجہ کیا رہا آج وہی نظر آرہا ہے، شیخ مجیب غدار تھا تو اس نے پلٹن میدان میں جو تاریخی جلسہ کیا تھا اس کے بارے میں بھی یہ تاثر پھیلایا گیا کہ وہ اس جلسے میں علیحدگی کا اعلان کرے گا اور دنیا نے دیکھا کہ شیخ مجیب نے اس بھرے جلسے میں ایک لفظ بھی علیحدہ ہونے کا اشارہ وکنایہ نہیں ادا کیا بلکہ وہ ہی بیانیہ دیا جو آج حزب اختلاف نے اس وقت اختیار کر رکھا ہے جہاں تک حزب اختلاف پر بھارت سے گٹھ جوڑ کا چرچا کیا جا رہا ہے اس وقت بھی ایسا ہی کیا گیا تھا، کیا مجیب بھارتی ایجنٹ تھا اس کا جواب جاننے کیلئے قید کے دنوں میں اس کیساتھ دن رات گزارنے والے پولیس آفیسر انارخان کے وہ انٹرویو سن لیں جو انہوں نے سقوط مشرق پاکستان کے موضوع پر جانے پہچانے صحافی مجیب الّرحمان کو دیا تھا جس میں جب بھٹو مرحوم نے ان کے زندان میں آکر بہ نفس نفیس یہ اطلاع دی کہ مشرقی پاکستان پر بھارت نے قبضہ کر لیا ہے اور مغربی پاکستان میں انہوں اقتدار سنبھال لیا ہے یہ سن کر مجیب کی جو حالت ہوئی وہ یہاں بیان نہیں ہو سکتی۔ انٹرویو سے یہ بھی معلوم ہو جاتا ہے کہ اس نے بھٹو سے کیا کہا، انہوں نے سب سے پہلے یہ کہا یہ نہیں ہوسکتا اور ساتھ ہی بھٹو سے مطالبہ کیا کہ پریس کو بلاؤ وہ اس کے ذریعے اپنی قوم سے کہیں گے کہ بھارتی فوج کو نکال باہر کرو۔ بھٹو نے جواباً کیا کہا وہ سب یوٹیوب پر پڑی انار خان کی ویڈیو میں موجود ہے۔
جنرل یحییٰ خان اپنے مفادات کیلئے وہ کھیل کھلتا رہا جس کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ محبت اور جنگ میں سب جائز ہوتا ہے، آج بھی دونوں طرف سے ایسی ہی کبڈی دیکھنے کو مل رہی ہے،
تاہم یہ اندیشہ تو ہے کہ موجودہ حالات اس ڈگر کی طرف جارہے ہیں مگر مشرقی پاکستان والی ابھی صورتحال نہیں ہوپائی ہے۔ اس وقت حالات کا تقاضا ہے کہ دونوں کو دماغ ٹھنڈا کر کے پاکستان کے بہتر مستقبل کی طرف بڑھنا قدم اُٹھانا چاہئے، انا کو ملک کیلئے مسئلہ نہ بنائیں، اس وقت مذاکرات کی سوچ موجود بھی ہے اور اس کیلئے فضاء بھی باقی ہے، مولانا فضل الرّحمان جو دیدہ بینا اور زیرک سیاستدان ہیں ان کو اس بیانیے سے ملک کے استحکام کیلئے دست بردار ہو جانا چاہئے کہ وہ نہ مذاکرات چاہتے ہیں اور نہ مذاکرات کریں گے۔ بابائے جمہوریت نوابزدہ نصراللہ خان مرحوم کا قول ہے کہ سیاست میں کبھی بھی مکالمہ کا دروازہ بند نہیں ہوا کرتا اور نہ ایسا کرنا چاہئے۔ شنید ہے جو کہ پوری طرح مصدقہ نہیں ہے لیکن کافی حد تک درست جانی جاتی ہے کہ حزب اختلاف کو یہ پیشکش ہے کہ وہ اگر دو قد م پیچھے ہٹیں تو جن کیخلاف مہم چلائی جا رہی ہے وہ چار قدم پیچھے ہٹنے کو تیار ہیں، اس دعوت کا حوالہ ان افراد کے ذریعہ دیا جا رہا ہے جو اس وقت ملک کو مشکل حالات سے نکلنے کی سعی میں مصروف ہیں، اگرایسا ہے تو یہ طے کر لینا چاہئے کہ کس نے کونسے دوقدم پیچھے لے جانے ہیں اور چار قدم کونسے پیچھے جانے کو تیار ہے۔ ملک کے استحکام، اتحاد، یکجہتی، خوشحالی کیلئے دلوں میں گنجائش پیدا کرنا ہوگی ورنہ تاریخ کسی پر رحم نہیں کھاتی، وہ سچ کا آئینہ دکھاتی ضرور ہے۔ اس بارے میں صرف اتنا کہنا ہے اگر کسی کی سمجھ میں بات نہیں آرہی ہے تو وہ جسٹس حمودالرّحمان کمیشن کی رپورٹ کا ایک ایک حرف پڑھ لے تو وہ سمجھ جائے گا کہ اس وقت کس کی کیا ذمہ داری ہے اور اس کیلئے فرض کا کیا تقاضا ہے۔ بھارت کا کیا ہے وہ تو پاکستان کا بدترین دشمن ہے اس کو کسی فریق سے کوئی تعلق وغرض نہیں، اس کو تو پاکستان کو آگ میں جھونکنے کیلئے تیل چاہئے تاکہ اس کے مذموم عزائم پورے ہوجائیں جس طرح اس نے مشرقی پاکستان کے حالات سے حاصل کیے تھے۔