پی ڈی ایم کا نیا مجوزہ میثاق

عمران خان اپنی طاقت یا کسی اور کی بیساکھیوں سے الیکشن جیت کر وزیر اعظم بن گئے، جب عمران خان وزیراعظم بنے اور اپوزیشن نے ان کو دوتین مہینے بعد ہی رگیدنا شروع کیا تو مجھ سمیت سارے غیرسیاسی اور غیرجانبدار حلقوں کی رائے یہ تھی کہ اپوزیشن ان کیساتھ زیادتی کر رہی ہے۔ خود تو باریاں لے لیکر اقتدار کے مزے لوٹے اور اپنے ذاتی فوائد کیلئے ملکی خزانہ بیدردی سے لوٹا، ملکی وقار اور آزادی کو گروی رکھ کر بھاری قرضے لئے اور یہ قرضے اندرون و بیرون ملک اپنے ذاتی محلات اور قیمتی فلیٹس خریدنے پر لگا دئیے۔ گزشتہ تین دہائیوں میں باربار برسراقتدار آنے کے باوجود ملک وقوم کے اقتصادی ڈھانچے اور سیاسی سمت کا رخ متعین کرنے میں ناکام رہے اور خان صاحب سے چند مہینے کے اندر اندر معجزے برپا کرنے کے مطالبات کر رہے ہیں لیکن آج ڈھائی سال بعد پی ٹی آئی کی عوام میں مقبولیت خاصی کم ہو چکی ہے، غلط دعوؤں اور جھوٹے وعدوں کا بھرم کھل گیا ہے،مہنگائی نے لوگوں کا جینا حرام کر دیا ہے اور خان صاحب کا سارا زور منہ پر ہاتھ پھیر کر اپوزیشن سے انتقام لینے پر ہے۔
آج ملک کے اکثر دانشوروں کی سوچ یہ ہے کہ کاش پاکستان بننے کے بعد مسلم لیگ کو اسلام کے مضبوط مرکز اور خود ساختہ نظریہ پاکستان کی بنیاد پر اداروں کو اپنے سیاسی مفادات کیلئے استعمال کرنے کا موقع نہ ملتا اور روزاول سے سارے صوبوں اور قومیتوں کیساتھ انصاف کی بنیادیں مضبوط کی جاتیں، تو نہ تو غداری کے سرٹیفکیٹ بٹتے نہ سقوط ڈھاکہ ہوتا اور نہ موجودہ پاکستان میں قدم قدم پر چھوٹی قومیتوں کیخلاف آپریشن کرنے کی ضرورت پیش آتی۔ آخر دنیا میں دوسو سے زیادہ ممالک اور بھی تو ہیں،وہاں کیوں ایسے بحران روز روز پیدا نہیں ہوتے۔
نوازشریف سے زیادہ عقل وفہم تو کسی یونیورسٹی کے چھوٹے درجے کے استاد یا کسی چھوٹے درجے کے بیوروکریٹ میں ہے۔ اس نے1985سے2016تک پاکستان میں ایک مضبوط سیاسی نظام لانے یا پاکستان کی معیشت کو مضبوط بنیادوں پر استوار کرنے کیلئے اکتیس سال میں ایک قدم بھی آگے نہیں بڑھایا۔ صرف ووٹوں کی خریدوفروخت کے ماہر ہوگئے اور پھراتنا مغرور کہ اپنے مالکوں کو آنکھیں دکھانے لگے،نتیجہ سامنے ہے۔
کاش نواز شریف وزیراعظم ہوتے ہوئے ملک چلانے کے دوچار بڑے اصولوں پر ہی ملکی سیاستدانوں کو اکٹھا کر لیتے تو وہ بیانیہ کہلاتا۔ اقتدار سے ہٹنے کے بعد اب وہ جو کچھ کہہ رہا ہے یہ بیانیہ نہیں بلکہ مرثیہ ہے جو لوگوں کو سنا کر چوتھی بار اقتدار میں آنے یا بیٹی مریم کو وزیراعظم بنانے کیلئے پیش کر رہے ہیں۔ کم ازکم مطالبہ یہ کہ اس کی بدعنوانیوں اور منی لانڈرنگ کے کیس زمین میں دفن کئے جائیں۔
ہمارے کچھ بھائیوں کی طرف سے اس کوے کو طائر لاہوتی بنانے کی کوشش اس وقت کچھ وزن رکھتی، اگر نوازشریف ملک وقوم کو دلدل سے نکالنے کیلئے کچھ انقلابی پروگرام قوم کے سامنے رکھ دیتے اور کچھ قربانی دینے کیلئے تیار ہو جاتے، مثلاً فی الحال صرف یہی اعلان کرتے کہ آئندہ میرے خاندان کا کوئی فرد وزارت عظمی کا امیدوار نہیں بنے گا۔ مسلم لیگ کے تین قابل ترین بندوں میں سے ہی کوئی ایک وزیراعظم بنے گا اور ملک سے باہر پڑی دولت واپس لائے گا تو قوم کو ان کے نظریاتی ہونے پر یقین آجاتا اور اگر نوازشریف مندرجہ بالا ایجنڈے کا کم ازکم اعلان بھی کرنے کیلئے تیار نہیں اور صرف مریم یا حمزہ کیلئے راستہ ہموار کر رہے ہیں تو پھر یہ بیانیہ قوم کو قبول نہیں۔
گیند سیاستدانوں کے کورٹ میں ہے، ابتدا ان کو کرنی ہوگی۔ نواز شریف کے علاوہ زرداری اور دوسرے سیاستدانوں کو بھی اب اپنے اپنے گریبانوں میں جھانکنا ہوگا۔ ایک حقیقی میثاق پاکستان پر آپس میں اتفاق کرنا ہوگا جس کے چیدہ چیدہ نکات مندرجہ ذیل ہونے چاہئیں۔
1۔ موجودہ نیب برقرار اور اس کا اینٹی کرپشن رول تیز کیا جائیگا۔البتہ بے گناہوں کو بچانے کیلئے اس کے قوانین میں ضروری ردوبدل کیا جائیگا۔ احتساب کے ضمن میں کسی بھی فرد یا ادارے کو مقدس گائے کی حیثیت حاصل نہیں ہوگی۔
2۔ ملک کی مخدوش اقتصادی صورتحال کے پیش نظر پارلیمنٹرین فوری طور پر آدھی تنخواہ اور دوسری مراعات چھوڑنے کا اعلان کریں گے۔
3۔ عام آدمی کی زندگی آسان بنانے کیلئے اشیائے ضرورت کی قیمتوں کو جولائی2018 کی سطح پر لانے کا عملی نقشہ پیش کرنا ہوگا۔
4۔ اعلان کرنا ہوگا کہ سارے پارلیمنٹرین فوری طور پر اپنے بچوں کوپرائیویٹ سکولوں سے اُٹھا کر سرکاری سکولوں میں داخل کر رہے ہیں اور آئندہ صرف سرکاری ہسپتالوں سے اپنا اور اپنے بچوں کا علاج کرائینگے۔(یہ ایک قدم اُٹھانے سے تعلیم اور صحت کا نظام چند ہفتوں میں ٹھیک ہوجائیگا)۔
(باقی صفحہ7)