کیا سمجھوتوں کی سیاست کا راستہ پھر کھلنے جارہا ہے؟

لاریب ریاست کے کسی محکمے کو سیاسی عمل اور نظام حکومت ہر دو میںمداخلت نہیں کرنی چاہیئے۔لیکن بنیادی سوال یہ ہے کہ بعض سیاسی حلقے اور شخصیات آخر ان محکموں سے یہ توقع کیوں باندھ لیتے ہیں کہ وہ ان کی منشا کے مطابق کردار ادا کریں؟سابق وزیراعظم میاں نوازشریف کی صاحبزادی اور نون لیگ کی نائب صدر مریم نواز کہتی ہیں کہ''فوج میرا ادارہ ہے ہم اس سے آئین کے وضع کردہ دائرہ میں رہ کر بات کریں گے لیکن شرط یہی ہے کہ جعلی حکومت کو گھر بھیجا جائے''۔عجیب بات یہ ہے کہ جب اسی نوعیت کا مطالبہ2014میں دیئے جانے والے126 دن کے دھرنے کے دوران عمران خان اور ان کے ساتھی کرتے تھے تو اس مطالبہ کو جمہوریت پر حملہ قرار دیا جاتا تھا۔اب سوال یہ ہے کہ مریم نواز کی اس ''شرط''کا جمہوری جواز کیا ہوگا؟مکررعرض ہے ایک جمہوری معاشرے(جو کہ بد قسمتی سے ہم73برسوں میں تعمیر نہیں کر سکے)میں اپنی شرائط کے ساتھ سیاسی عمل میں موجود رہنے پر اصرار اور تبدیلی کی خواہش سے جمہوریت اور نظام کی خدمت نہیں ہوتی۔سیاسی عمل کے اپنے تقاضے ہوتے ہیں۔ہماری بد قسمتی یہ ہے کہ مسلم لیگ(ن) ایک طرف خود کو سول سپرمیسی کے علمبردار کے طور پر پیش کرتی ہے اور دوسری جانب گزشتہ روز پیش کی جانے والی شرط ہے۔ہر دو کو سامنے رکھ کر نون لیگ کی سیاست۔خواہشوں اور سول سپر میسی کا تجزئیہ کرنا ہوگا۔یہ کہنا درست ہوگا کہ شرط ریاست کے کسی محکمے کے سامنے رکھنے کی بجائے عملی طور پر سیاسی جدوجہد کرنی چاہیئے۔اسٹیبلشمنٹ کے ساتھ مذاکرات سے اقتدار کا راستہ نکالنے کی کوشش کا مطلب تو یہ ہوگا کہ سیاسی قیادت(وہ نون لیگ کی ہی کیوں نا ہو)کو عوام پر اعتماد نہیں دوسری صورت(اس کا اعتراف لازمی ہے)یہ ہے کہ سیاستدان اعتراف کریں کہ وہ ماضی میں ووٹ چُراکر اقتدار میں آتے رہے اس لئے اب بھی وہ یہ سمجھتے ہیں کہ ووٹ کی طاقت بس ڈھکوسلہ ہے۔عوامی شعور کو کچل کر سمجھوتوں کے لئے آمادگی ظاہر کرنا کسی بھی طور درست نہیں۔ پاکستانی سیاست گزشتہ تہتر سالوں میں سمجھوتوں کی سیاست کتنی دیر چلی؟زیادہ دور نہ جائیں 1988ء سے 1999ء کے درمیانی گیارہ برسوں کی سیاسی تاریخ کے اوراق الٹ کر دیکھ لیجے صاف پتہ چل جائے گا کہ سمجھوتوں کی سیاست کتنے دن اور دیر تک چل پائی ؟۔اصولی طور پر ہونا تو یہ چاہیئے کہ اسٹیبلشمنٹ کے کسی حصے یا اس کی کلی طاقت سے بات کرنے کی بجائے حکومت کو اس بات پر مجبور کیا جائے کہ وہ عوام میں پھیلی مایوسی کے خاتمے کے لئے دو قدم آگے بڑھائے۔یہ بجا ہے کہ موجودہ حکمران قیادت نے سیاسی عمل میں نفرت کا زہر بھر دیا ہے لیکن کیا جوابی طور پر بھی نفرت اور عدم برداشت کو ہی فروغ نہیں دیا جارہا؟جواب اگر اثبات میں ہے تو سیاسی قیادت کو سوچنا ہوگا کہ وہ کس طرف جارہی ہے بہت ادب کے ساتھ یہ کہنا پڑے گا کہ اگر موجودہ حالات میں کسی ایک سیاسی جماعت نے عوامی اعتماد کو مجروح کیا اور سیاسی عمل کی بجائے چور دروازے سے حصول اقتدار کی کوشش کی تو اس کے مجموعی نتائج بہت خطرناک ہوں گے،ایک حقیقی جمہوری معاشرے اور نظام کے قیام کی بنیادی شرط یہی ہے کہ عوام کے حق حکمرانی سے منہ موڑنے کی بجائے سیدھے سبھائو جدوجہد کی جائے اقتدار چاہے چند برس تاخیر سے ملے لیکن ایسا راستہ نہ اختیار کیا جائے جس سے عوام الناس میں مایوسی بڑھے۔یہ بھی بجا ہے کہ پاکستانی سیاست کا باوا آدم نرالا ہے یہاں سیاستدانوں کی اکثریت جو کہتی ہے وہ کرتی نہیں۔مثال کے طور پر مریم نواز کی حالیہ شرط کو لے لیجئے۔آج سیاسی عمل اور نظام کو جوبیماریاں لاحق ہیں وہ کن کے سبب لاحق ہوئیں؟تو کیا ہم عطائیوں سے ہی دوا چاہتے ہیں ایسا ہے تو پھر لوگوں کی آنکھوں میں سول سپر میسی کے خواب بھرنے کی ضرورت کیا تھی۔اس سے بہتر تھا کہ جب2018 میں نون لیگ کو نظام میں صرف ایک چہرہ تبدیل کرلینے سے حصہ مل رہا تھا تو لے لیا جاتا۔سیاست کے ہم جیسے طلباء تو اس وقت بھی یہ عرض کررہے تھے کہ سیاسی عمل کو آگے بڑھا کر ہی سیاسی جماعتیں اس امر کو یقینی بناسکتی ہیں کہ دستور کی بالادستی قائم ہو۔اُس وقت تو کہانہیں تھا کہ سمجھوتے کو موت پر ترجیح دیں گے پھر اب ایسا کیا ہوا کہ سمجھوتہ کرنے کے لئے شرط پیش کردی گئی؟۔یہاں یہ عرض کرنا بھی از بس ضروری ہے کہ نظام حکومت،سیاسی عمل اور دستور کی بالادستی اسی صورت ممکن ہے جب خود سیاستدان بھی یہ چاہیں اگر مگر سے لوگوں کو فریب نہ دیں۔ثانیاً یہ کہ نون لیگ کل تک تو یہ کہہ رہی تھی کہ حصول اقتدار کے لئے شارٹ کٹ سے کام نہیں چلایا جائے گا۔کیا نون لیگ کی کاروباری قیادت سیاسی جدوجہد سے تھک چکی ہے؟اس سوال کے جواب میں تفصیل کے ساتھ بہت کچھ لکھا جا سکتا ہے مگر فی الوقت صرف یہ عرض کرنا ہے کہ مریم نواز نے حکومت کو گھر بھیجنے کی جو شرط رکھی ہے اس سے یہ تاثر ابھرا ہے کہ نون لیگ ماضی کی طرح کوئی راستہ نکالنے کی آرزومند ہے۔کیا وہ راستہ دسمبر 2018ء کی طرح کا راستہ ہوگا یا پھر اگست1989 ء کی طرح کا راستہ؟یہ سوال اہم ہے اور اس کا جواب نون لیگی قیادت کو ہی دینا چاہیئے۔