عوامی مسائل کے حل کا تقاضا

مسلم لیگ(ن)کی نائب صدر مریم نواز نے ایک مرتبہ پھر اس امر کا اعادہ کیا ہے کہ موجود ہ حکومت کو گھر بھیجنا ہی پاکستان کے سارے مسائل کا حل ہے ان کا یہ بھی کہنا ہے کہ ادارے پیچھے ہٹ جائیں تو جعلی حکومت چوبیس گھنٹوں کی مار ہے۔سیاسی عمائدین کو حکومت پر تنقید اور حکومت ہٹانے کی جدوجہد کا پورا پورا حق حاصل ہے لیکن آیا کسی حکومت کو ہٹانے سے عوام کے مسائل میں واقعی کمی آسکتی ہے اور کیا ملکی مسائل کی ذمہ دارحکومت وقت ہے یا عوامی مسائل ومہنگائی اور مشکلات کے دیگر وجوہ بھی ہیں ہم سمجھتے ہیں کہ ہر حکومت کی طرح موجودہ حکومت کی کارکردگی پر تنقید اور اسے عوامی مسائل کے ذمہ دار خاص طور پر مہنگائی میں معمول سے کہیں بڑھ کر اضافے کی ذمہ داری حکومت پر عائد ضرور ہوتی ہے خود حکومت کو بھی اس کا اعتراف ہوگا اس حوالے سے وزیراعظم بار بار اجلاسوں کا انعقاد اور اصلاح احوال کی سعی کرتے رہے ہیں ان کا لاحاصل ٹھہرنا بھی کوئی راز کی بات نہیں آٹا بحران چینی کی قلت ومہنگائی جیسے تمام امور بھی اپنی جگہ عوام کے حقیقی مسائل اور حکومت کی ناکامیوں میں شمار ہوتے ہیں لیکن کیا ان تمام مسائل کا جادوئی حل اس حکومت کی رخصتی ہے یقیناً ایسا نہیں اور اگر ایسا ہوتا اور ہر آنے والی حکومت کے پاس مسائل ومشکلات کا شافی حل موجود ہوتا تو اتنی حکومتیں تبدیل ہوئیں کہ عوامی مسائل کا حل نکل آنا چاہیئے تھا ہم سمجھتے ہیں کہ عوامی مسائل کے حل کا دارومدار اور عوامی مسائل کے حل میں کمی لانے کا تقاضا سیاسی عدم استحکام اور انتشار میں نہیں بلکہ سیاسی استحکام میں ہے جس کا تقاضا یہ ہے کہ حکومت بلاوجہ کی چور کی گردان کرنے کی بجائے بدعنوانی اور رشوت کی عملی روک تھام کی سنجیدہ سعی کرے حسب وعدہ لوٹی ہوئی دولت واپس لانے کے عملی اقدامات کرے جبکہ سیاسی جماعتیں عوام کے مسائلے کے حل کیلئے جس مکالمے کی بات کرتی ہیں اس کا محور حکومت کی تبدیلی کی بجائے مسائل کا حل بنائیں جو بھی مذاکرات اور بات چیت ہو وہ سنجیدہ متین اور نتیجہ خیز ہونا چاہیئے۔
زیادتی کے واقعات اور معاشرے کی ذمہ داریاں
صوبہ سندھ کے علاقہ کشمور میں ماں بیٹی سے زیادتی کے ملزموں کو جال میں پھنسا کر کیفر کردار تک پہنچانے میں ایک پولیس سب انسپکٹر نے جو قابل ذکر کردار ادا کیا اور شکایت کرنے والی خاتون کی بیٹی کے تحفظ کیلئے اپنی بیٹی کو چارہ بنانے کی جو چال چلی اس کے نتیجے ہی میں ملزموں کی نشاندہی وگرفتاری ممکن ہوسکی۔اس پر سندھ پولیس اور خاص طور پر متعلقہ پولیس اہلکار خاص طور پر خراج تحسین کا مستحق ہے۔معاشرے میں جنسی زیادتی کے بڑھتے واقعات سے اب کوئی بھی شعبہ زندگی محفوظ نہیں اسلامیہ کالج یونیورسٹی کی اعلیٰ تعلیم کی طالبات سے لیکر کسی کو بھی اب اس لعنت سے چھٹکارا نہیں ہم سمجھتے ہیں کہ بعض جگہوں پر تو مردوعورت کا روپ ہی صنفی کشش اور تعلقات استوار کرنے کی کشش ہی سمجھا جانے لگا ہے۔اس لعنتی سوچ میں کسی ایک صنف کو موردالزام ٹھہرانے کی بجائے اس معاشرتی سوچ کی وجوہات کا جائزہ لینے اور ہر گھر میں تربیت اولاد پر خاص طور پر توجہ دینے کی ضرورت ہے معاشرے میں اس طرح کے واقعات کے تدارک کیلئے قانون اور معاشرہ دونوں ہی کا کردار وعمل اہم ہے جرم کے وقوع پذیر ہونے کے بعد قانون کا کردارشروع ہوتا ہے جس کا تقاضا ہے کہ اولاً اس کی نوبت ہی آنے نہ دی جائے اور جب اس کے باوجود کوئی جرم وقوع پذیر ہو جائے تو پھر پولیس اور معاشرہ دونوں کو ملزم سے ملزم اور مجرم سے جرم کے انداز میں اس طرح سے سلوک ہونا چاہیئے کہ کسی بھی قیمت پر ملزم کو رعایت نہ مل پائے۔ سندھ پولیس کے ایک اہلکار نے جس طرح کی مثال قائم کی ہے اگر ہماری پولیس جرم کی روک تھام کیلئے اور ہمارا معاشرہ ارتکاب جرم سے روکنے کا ماحول پیدا کرنے میں اپنا عملی کردار ادا کرے تو اس طرح کے واقعات میں کمی لانا ممکن ہوگا۔
علمائے کرام کی توجہ درکار ہے
پاکستانی تاریخ کی مہنگی ترین شادی کا ان دنوں جگہ جگہ چرچا ہے ایف بی آر کے مطابق اس شادی پر دو ارب روپے خرچ کئے گئے اس شادی کی تیاریوں میں ہر کسی کو اس کے حصے کی رقم ملی یہاں تک کہ معروف عالم دین نے نکاح پڑھانے کے دس لاکھ روپے وصول کئے۔دیگر کاروباری عناصر اور شادی پر اسراف سے کہیں بڑھ کر فضول خرچی اور نمودونمائش سبھی کچھ عوام کے سامنے ہے اس طرح کی نمودونمائش کی روک تھام پورے معاشرے کی ذمہ داری ہے حکومتی اداروںکو اس رقم کا حساب کتاب مروجہ قوانین کے مطابق کرنے کی ذمہ داری ضرور نبھانی چاہیئے اس طرح کی شادی میں مدعو خواتین وحضرات سے قطع نظر اگر اس طرح کی شادی میں علمائے کرام نکاح خوان کے فرائض کی انجام دہی سے انکار اور اس طرح کی کسی بھی شادی میں عدم شرکت کا ملکی سطح پر کوئی اجتماعی فیصلہ کرلیا جائے علمائے کرام اس قسم کی شادیوں کے حوالے سے قرآن وسنت کی روشنی میں لوگوں کو سمجھائیں تو کم از کم اگر اس کااثر نہ بھی ہو تو کم ازکم وہ اپنی ذمہ داری سے تو بری الذمہ ہوں گے اگر اس طرح کی شادی میں محض نکاح پڑھانے کے دس لاکھ روپے وصول کرنے والے میسر آجائیں تو معاشرے میں اس قسم کی بدعات اور قبائح کی روک تھام کی ذمہ داری کون نبھائے گا۔معاشرے میں ایک سے بڑھ کر ایک عجیب وغریب رسومات اختیار کرنے اور شادیاں مہنگی سے مہنگی بنانے کا جو سلسلہ چل نکلا ہے یہ نہ صرف اس معاشرے کو کہیں کا نہیں چھوڑے گا بلکہ موجب عذاب بننا بعید نہیں جس معاشرے میں نکاح اس قدر مشکل اور شادی کی تقریبات نمودونمائش کے بد ترین مظاہر بننے لگیں جس معاشرے میں بیٹیوں کانکاح ہی کروڑوں اربوں کی بات بن جائے اس معاشرے میں عام لوگ کیسے جی پائیں گے۔علمائے کرام کو اس طر ح کے واقعات کی روک تھام کیلئے اٹھنے کی ضرورت ہے میڈیا کی ذمہ داری ہے کہ وہ معاشرے کو اس طرح کی شادیوں کو مثال بنا کر پیش کرنے کی بجائے سادگی سے نکاح اور جہیز کی لعنت سے انکار کرنے والے نوجوانوں کی حوصلہ افزائی کا فریضہ اداکرے۔