خطے میں تجارت کا فروغ

وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا محمود خان نے صوبے کی ترقی کیلئے سی پیک منصوبے کو ایک سنہری موقع قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ سی پیک محض ایک سڑک کا نام نہیں بلکہ یہ ایک ایسے ہمہ جہت منصوبے کا نام ہے جو خیبر پختوا سمیت پاکستان بھر اور اس پورے خطے میں ترقی اور خوشحالی کی نئی راہیں کھول رہا ہے اور ہم اس سنہرے موقع سے بھر پور فائدہ اٹھائیں گے ۔ وزیر اعلیٰ نے سی پیک کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ سوات موٹروے فیز ٹو ، ڈی آئی خان موٹر وے اور دیر ایکسپریس وے کی تعمیر کو ہر صورت یقینی بنایا جائے گا جس سے سفری سہولیات کے علاؤہ انفراسٹرکچر بنے گا اور صوبے کے تمام حصے ایک دوسرے سے لنک رہیں گے۔ وزیر اعلیٰ نے خیبر پاس اکنامک کوریڈور کے حوالے سے کہا کہ عالمی بینک کے تعاون سے خیبر پاس اکنامک کوریڈور کے قیام پر کام جاری ہے جس سے صنعت و تجارت سمیت دیگر شعبوں کو ترقی ملے گی۔ وزیراعلیٰ کا کہنا تھا کہ افغانستان کے راستے وسطی ایشیائی مارکیٹوں تک رسائی ہمارا بنیادی ہدف ہے۔ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے اسپیکر قومی اسمبلی اسد قیصر نے سی پیک منصوبے کو ایک گیم چینجر قرار دیتے ہوئے کہا کہ افغانستان کی حکومت نے سی پیک میں شمولیت کی یقین دہانی کرائی ہے۔ حکومت پشاورکے قدیم تجارتی مرکز کی حیثیت بحال کر نے کیلئے کوشاں ہے۔ ہم ہمسایوں کے ساتھ تجارت کو زیادہ سے زیادہ فروغ دینے کے خواہش مند ہیں۔خیبرپختونخوا قدیم دور میں وسطی اشیاء کی منڈی رہا ہے صوبائی دارالحکومت پشاور کے قدیم محلوں اور علاقوں کے نام پیشہ وارانہ مہارت اور کسی خاص چیز کی منڈی کے طور پر شہرت کے حامل چلے آرہے ہیں بدلتے حالات اور خاص طور پر افغانستان میں بدامنی کے باعث اور وسطیٰ اشیاء میں تجارت کے محور کی تبدیلی کے باعث جن مواقع سے محروم ہوگئے تھے سی پیک اور پاک افغان شاہراہ کی تعمیر کی صورت میں ایک مرتبہ پھر ان تجارتی مواقع کے احیاء کا اب سنہری وقت ہے ہم سمجھتے ہیں کہ پاک افغان تجارت کا فروغ اور سی پیک کی توسیع صرف خیبرپختونخوا ہی کیلئے سنہرا موقع نہیں بلکہ اس سے پورے خطے کی تجارت میں اضافہ ہوگا اور پورا علاقہ تجارتی ومعاشی خوشحالی کی راہ پر گامزن ہو پائے گا۔خیبرپختونخوا میں وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا نے جن شاہراہوں کی تعمیر کا حوالہ دیا ہے ان میں سے بعض شاہراہوں کا پہلا مرحلہ مکمل ہونے کے اثرات سامنے آنا شروع ہوگئے ہیں ان کی توسیع اور دوسرے مرحلے کی تکمیل خاص طور پر سود مند ثابت ہونا فطری امر ہوگا۔افغانستان کی سی پیک میں شمولیت سے پوری وسطی ایشیائی ریاستوں سے تجارت میںاضافہ ہوگا ہم سمجھتے ہیں کہ جن جن شاہراہوں کی تعمیر کے حوالے موجودہیں ان سے ہٹ کر بھی بعض قدیم راستوں اور سرحدی مقامات پر تجارتی منڈیوں کے قیام پر بھی توجہ کی ضرورت ہے تاکہ جتنا ممکن ہوسکے امکانات اور مواقع سے فائدہ اٹھایا جائے۔خطے میں قیام امن اوراستحکام امن کی مساعی میں ہمسایہ ممالک کا تعاون خاص طور پر توجہ طلب امر ہے جو علاقائی استحکام اور ترقی کیلئے خاص طور پر ضروری ہے۔