مشرقیات

حضو اکرمۖ جب ابھی اللہ کے نبی نہیں بنے تھے تو ایک بات آپۖ کے بارے میں سارے قبیلہ قریش میں مشہور تھی سب لوگ جنہوںنے آپکو چھوٹے سے بڑا دیکھا تھا۔یہ بات مانتے تھے یہ آپ کی خوبی اتنی مشہور ہوگئی تھی کہ آپۖکا لقب ہی الامین!الصادق پڑگیا تھا یعنی بہت امانت دار بہت سچا!جب آپ اللہ کے رسولۖ بنے لوگوں نے آپۖ کی بڑی مخالفت کی ۔اُن میں آگے آگے ابو جہل تھایہ اسلام کا بڑا بیری تھا۔
آپۖ کا کٹر دشمن بدر کی لڑائی میں اخنس بن شریق نے پوچھا کہو محمدۖ امین اورصادق ہیں کہ نہیں،دل کی بات بتاناسچ پر پردہ نہ ڈالنا اس نے کہا آدمی سچے ہیں اور امین بھی حضرت علی کی روایت ہے کہ اس نے خود آپۖ سے کہا تھا ہم آپ کو سچا اور امین سمجھتے ہیں لیکن آپۖکے پیام کوجھٹلا تے ہیں،مشرکین مکہ کا بچہ بچہ سرکاردوعالم کا دشمن تھا لیکن حال یہ تھا کہ اُن کی امانتیں حضورۖ کے پاس رہتی تھیں۔آپۖنے ہجرت کا ارادہ کیا تو حضرت علی کو اس لئے پیچھے چھوڑا کہ جو امانتیںآپۖ کے پاس رکھی ہوئی تھیں انہیں لوٹا دیں۔
حضرت انس بن مالک فرماتے ہیں کہ سید المرسلین کا کوئی فیصلہ شاید ہی ایسا ہو جس میں یہ نہ ارشاد ہوا ہو کہ جس میںامانت نہیں اس میں ایمان نہیں جسے وعدے کا خیال نہیں اس میں دین نہیں،ابن مسعود کی روایت ہے آپ نے یہ بھی فرمایا کہ اُس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں محمدۖ کی جان ہے کسی بندے کا دین اس وقت تک درست نہ ہوگا جب تک اس کی زبان درست نہ ہو اور اس کی زبان درست نہ ہوگی جب تک اس کا دل درست نہ ہوگا اور جو کوئی ناجائز کمائی سے روپیہ بٹوریگا اس میں سے خرچ کریگا تو اس میں برکت نہیں۔
اس میں خیرات کرے گا تو قبول نہیں ہوگا جو اس میں سے بچ رہے گا اُسے یوں سمجھ لو کہ وہ دوزخ کا توشہ ہوگا۔سورہ بقرہ میں اللہ کے فرمان کا مطلب ہے جوامین بنایا گیا اُسے چاہیئے کہ اپنی امانت ادا کرے اور اللہ سے ڈرتا رہے۔امانت روپے پیسے مال اسباب ہی نہیں کسی کا راز چھپانا بھی امانت ہے ہاتھ بدل کی چیز واپس کرنا بھی امانت ہے۔حق ادا کرنا بھی امانت ہے کہیں کسی کے بارے میں کچھ سنو تو وہاں کی بات وہیں چھوڑدو اورو کو نہ بتائوورنہ تم لوگوں کو لڑادوگے۔