پی آئی اے ملازمین کی چھانٹی؟

پاکستان انٹرنیشنل ایئر لائنز کے تقریباً ساڑھے تین ہزار ملازمین کو فارغ کرنے کے منصوبے کے سامنے آنے کے بعد حکومت کے اقتدار میں آنے سے پہلے لاکھوں افراد کو ملازمتیں فراہم کرنے کے دعوے ایک بار پھر سراب ثابت ہورہے ہیں کیونکہ حالیہ دنوں میں ریڈیو پاکستان کے بھی ہزاروں کنٹریکٹ ملازمین کو بہ یک جنبش قلم فارغ کر کے جس طرح لاتعداد گھرانوں سے رزق چھینا گیا ہے اس پر پہلے ہی نہ صرف ریڈیو کے محولہ برطرف ملازمین احتجاج کر رہے ہیں بلکہ صحافتی اداروں سے برطرف افراد بھی ان کیساتھ اظہار یکجہتی کر چکے ہیں اور اب اگر پی آئی اے جیسے ادارے سے بھی ساڑھے تین ہزار ملازم فارغ کئے گئے تو یہ صرف ساڑھے تین ہزار افراد نہیں ہوں گے بلکہ اتنی ہی تعداد کے خاندانوں کو بھوک اور بیروزگاری کے عفریت سے لڑنے پر مجبور کیا جائے گا۔ نہایت افسوس کیساتھ گزارش کرنا پڑتی ہے کہ جو جماعت لوگوں کو بیروزگاری سے نجات کے دعوے، روزگار فراہم کرنے، یہاں تک کہ بیرون ملک سے لوگوں کے روزگار کی تلاش میں پاکستان آنے کی خوشخبریاں دیتی رہی ہیں وہ اقتدار میں آکر اب تک لاتعداد افراد(خاندانوں)کو روزی سے محروم کر چکی ہے اور ابھی یہ سلسلہ کہیں تھمنے کانام نہیں لے رہا،بیروزگاری سے نبردآزما لوگوں میں بددلی،مایوسی اور پریشانی بڑھنے سے اگر یہ افراد اپنے اہل خاندانوں کو دو وقت کی روٹی فراہم کرنے میں متبادل روزگار کی تلاش میں ناکام ہوئے تو خدشہ ہے کہ ان میں سے اکثر افراد غیر قانونی سرگرمیوں میں مبتلا ہوسکتے ہیں جو کسی بھی طور مثبت سوچ نہیں ہوگی۔اس لئے حکومت کو اپنی پالیسی پر نظرثانی کر کے ایسے اقدامات کرنے چاہئیں جن سے لوگ مایوسی کے اندھیروں میں گم ہونے کے بجائے بہتر مستقبل کی اُمید لیکر زندگی گزارسکیں۔
شبرزیدی کا اعتراف
ایف بی آر کے سابق چیئر مین اور ماہر معاشیات شبر زیدی نے ایک کھلے خط میں اپنی ناکامی کا اعتراف کرتے ہوئے ارکان پارلیمنٹ پر کرپشن کی سرپرستی کے جو الزامات لگائے ہیں وہ بہت ہوشرباء اور چشم کشا ہیں۔ انہوں نے پارلیمنٹ کے ارب پتی ارکان کی کرپشن کو ریاستی سرپرستی میں بدعنوانی قرار دیتے ہوئے اس بات کا اعتراف کیا ہے کہ وہ چیئر مین ایف بی آر کی حیثیت سے بری طرح ناکام رہے ،انہوں نے الزام عائد کیا کہ تمام کرپشن اندرونی طور پر کی جارہی ہے اور اثاثوں کے گوشوارے اسے جانچنے کا ایک ذریعہ ہے ارب پتی ارکان پارلیمنٹ جانتے ہیں کہ کس طرح ٹیکسوں کی پلاننگ کرنی ہے اور یہی ریاست کی سرپرستی میں کرپشن ہے،انہوں نے کہا کہ اس کا الزام کسی کونہیں دیا جاسکتا انہیں ایک موقع ملا مگر وہ ناکام رہے، اللہ تعالیٰ کو جوابدہ ہیں اس نظام میں بہتری کیلئے ضروری ہے کہ زیادہ سے زیادہ معلومات سامنے لائی جائیں،موجودہ حالات میں پاکستان کبھی بہتر نہیں ہوسکتا۔ ایک ماہر معاشیات ہونے کے ناتے شبر زیدی کے خیالات سے ہماری دانست میں اختلاف کی کوئی گنجائش نہیں ہے ،تاہم ماضی میں چیئرمین ایف بی آر کا منصب سنھبالنے سے پہلے وہ خود سرمایہ داروں اور صنعتکاروں کو ٹیکس بچانے کے طور طریقے سکھاتے اور اس کام کا بھاری معاوضہ وصول کرتے رہے ہیں،تاہم جب انہیں موقع ملا کہ وہ اصلاح احوال کرسکیں تو بالآخر انہوں نے اسے بھاری پتھر سمجھ کر چومنے کے بعد واپس رکھ دیا، البتہ جس طرح انہوں نے اپنی ناکامی کا اعتراف کیا ہے یہ ان کے کردار کی سچائی پر دال ہے اسلئے اب ضرورت اس امر کی ہے کہ نہ صرف اس حوالے سے حکومتی متعلقہ ادارے بقول شبر زیدی نہ صرف اس ''سرکاری سرپرستی'' میں ہونے والی کرپشن کے سدباب کیلئے قوانین تجویز کریں بلکہ ارکان پارلیمنٹ کا بھی فرض ہے کہ وہ پاکستان کو ترقی کی راہ پرگامزن کرنے کیلئے اپنی صفوں میں موجود محولہ ارب پتی ارکان کو بھی اس بات پر آمادہ کریں کہ وہ اس ملک کو مزید لوٹ کھسوٹ سے بچانے میں اپناکردار ادا کریں۔