یہ تمہارے غم کے چراغ ہیں کبھی بجھ گئے کبھی جل گئے

اُلٹے بانس بریلی کو،اس محاورے کا مطلب سمجھنے کیلئے امریکی صدارتی انتخابات کے بعد موجودہ اور شکست خوردہ صدرڈونلڈ ٹرمپ کے بیانئے کو دیکھنا پڑے گا اور ساتھ ہی امریکی تعلیمی اداروں سے ہم جیسے پس ماندہ ترقی پذیر ممالک کے باشندوں کے حصول علم کیلئے رجوع کر کے اعلیٰ تعلیمی ڈگریاں حاصل کرنے کے پورے عمل پر نظر ڈالنی ہوگی،یعنی امریکی،برطانوی اور دیگر مغربی ممالک کے تعلیمی اداروں میں تعلیم کے حصول کیلئے جس طرح دنیا بھر سے طالب علم وہاں پہنچتے ہیں یہ کوئی ڈھکی چھپی بات نہیں مگر اب صدر ٹرمپ نے صدارتی انتخابات کے بعد جس طرح برصغیر پاک وہند کی ''سیاسی یونیورسٹیوں'' سے رجوع کر رکھا ہے اسی کو ہم نے اُلٹے بانس بریلی کو سے تشبیہ دی ہے مسئلہ مگر یہ ہے کہ آج کی نوجوان نسل کو اس محاورے کی حقیقت نہیں معلوم اس لئے موضوع زیربحث پر گفتگو کرنے سے پہلے(اپنی عمر کے لوگوں سے معذرت کیساتھ نئی نسل کے لوگوں کو اس محاورے کی حقیقت مختصراً بتا دیتے ہیں کہ یہ ایک طنزیہ محاورہ ہے کہ بریلی(جہاں ایک اسلامی مدرسہ بھی ہے اور وہاں سے فارغ التحصیل اور ان کے پیروکاروں کو بریلوی کے نام سے پکارا جاتا ہے)دراصل بھارت میں ایک ایسا علاقہ ہے جہاں بانس پیدا ہوتے ہیں اور پورے برصغیر میں مختلف مقاصد کیلئے بھیجے جاتے تھے یوں اگر یہی بانس دوسرے علاقوں کی مارکیٹوں سے خرید کر واپس بریلی بھیجے جائیں تو حیرت تو ہوگی،اس لئے طنزاً کہا جاتا ہے اسی حوالے سے اگر امریکہ اور دوسرے مغربی ممالک کے تعلیمی اداروں کو چھوڑ کر کوئی برصغیر کی کم استعداد والی یونیورسٹیوں میں تعلیم حاصل کرنے ان ترقیافتہ ممالک سے آئے تو محولہ محاورہ اس صورتحال پر منطبق ہونا تو بنتا ہے چونکہ ہم نے اس حوالے سے''سیاسی یونیورسٹیوں''کا تذکرہ کیا ہے اس لئے اس کی حقیقت خودبخود اس وقت واضح ہوجاتی ہے جب صدر ٹرمپ حالیہ امریکی انتخابات کے نتائج تسلیم کرنے سے انکار کرتے ہوئے نہ صرف اقتدار منتقل کرنے سے انکار کر رہا ہے بلکہ انتخابی نتائج کو عدالتوں میں چیلنج کرنے کی دھمکیوں کو عملی جامہ پہنانے کیلئے بھی سرگرم ہوچکا ہے چونکہ اس قسم کی حرکتیں برصغیر پاک وہند(زیادہ ترپاکستان کے سیاستدان کرتے آئے ہیں اور ماضی میں ان کا یہی وتیرہ رہا ہے اس لئے ظاہر ہے یہ سبق ڈونلڈ ٹرمپ نے ہماری سیاسی روایات سے ہی سیکھا ہوگا۔ البتہ ہمارے ہاں نہ صرف الیکشن کمیشن بلکہ بعض اداروں پر الزامات دھرنے کی روایت رہی ہے۔ صدر ٹرمپ نے اس ضمن میں اتنی رعایت ضرور کی ہے کہ صرف الیکشن کمیشن ہی کو رگڑنے کی کوشش کی ہے، تاہم امریکی الیکشن کمیشن کے حکام نے ٹرمپ کی جانب سے دھاندلی کا دعویٰ مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ ووٹوں کی تبدیلی ڈیلیٹ ہونے یا کھو جانے کے کوئی ثبوت نہیں ہیں اور2020ء کے امریکی انتخابات کو ملکی تاریخ کے سب سے محفوظ ترین انتخابات قرار دیا ہے۔ یاد رہے کہ صدرٹرمپ نے الزام عاید کیا تھا کہ انتخابی سامان مہیا کرنے والی ایک کمپنی نے ان کے دو اعشاریہ سات ملین ووٹ ڈیلیٹ کر دیئے اور پنسلوانیا سمیت کئی ریاستوں کے سینکڑوں ووٹوں کو بائیڈن کے حق میں منتقل کردیا گیا۔ تاہم امریکی الیکشن حکام نے ان الزامات کی تردید کی ہے۔ اس سے قبل بھی صدر ٹرمپ نے دعویٰ کیا تھا کہ اگر قانونی طور پر ووٹوں کی گنتی ہو تو وہ آسانی سے جیت جائیں گے جبکہ صدر ٹرمپ کے ان دعوئوں کو گزشتہ روز ریاست جارجیا کے نتائج نے بھی ہوا میں تحلیل کرتے ہوئے زک پہنچائی جہاں سے موصول ہونے والے نتائج بھی بائیڈن کے حق میں آئے ہیں اور ان کے الیکٹورل ووٹوں کی تعداد میں مزید اضافہ ہوگیا ہے۔ اب اس پر صدر ٹرمپ یقینا ان نتائج کو یوں مخاطب کریں گے کہ
ایسے آنے سے تو بہتر تھا نہ آنا تیرا
لے چلا جان مری چھوڑ کے جانا تیرا
صدر ٹرمپ کو ان کے داماد بھی بعض اطلاعات کے مطابق یہ سمجھانے کی کوشش کررہے ہیں کہ وہ صدارتی انتخابات کے نتائج تسلیم کرلیں اور مزید کوئی پنگا نہ لیں، لیکن ان کے بعض مشیر اس کے اُلٹ مشورے دے رہے ہیں اور صدارتی انتخابات کو عدالتی جنگ میں تبدیل کرنے پر زور دے رہے ہیں، یہ بالکل وہی وتیرہ ہے جس کا ذکر اوپر کی سطور میں ذکر کرتے ہوئے ہم نے اس صورتحال کواُلٹے بانس بریلی کو سے تشبیہ دی ہے گویا موصوف نے بھارتی پردھان منتری نریندرمودی کیساتھ جو سٹریٹجک تعلقات استوار کر رکھے ہیں، تو مودی جی نے انہیں ''میں نہ مانوں'' کا سبق پڑھا کر ڈٹ جانے کا مشورہ دیا ہوگا، یعنی چڑھ جا بیٹا سولی پر رام بھلی کرے گا، لیکن یہ ایک خطرناک راستہ ہی ثابت ہوسکتا ہے کیونکہ ابھی پہلا جھٹکا تو صدر ٹرمپ کو یہ لگا ہے کہ صدارتی منصب سے اُترتے ہوئے ان کی اہلیہ کی ان سے علیحدگی اختیار کرنے کی خبریں گردش کر رہی ہیں اور امریکی قوانین میں یہ اتنی آسان یا سادہ سی بات نہیں ہے کہ تین بار طلاق، طلاق اور طلاق کہہ کر راہیں جدا کرلیں بلکہ ایوانیکا جاتے جاتے ڈونلڈ ٹرمپ کو آدھا آدھا کنگال کر سکتی ہے۔ پھر ٹرمپ کی حالت کیا ہوگی؟
کبھی آہ لب پہ مچل گئی کبھی اشک آنکھ سے ڈھل گئے
یہ تمہارے غم کے چراغ ہیں کبھی بجھ گئے کبھی جل گئے
نومنتخب صدر جوبائیڈن نے زور دیا ہے کہ قیادت کو منتقل کرنے سے کوئی نہیں روک سکتا، ایک غیرملکی خبررساں ایجنسی کے مطابق یہ بحث اس وقت شروع ہوئی جب صدر ٹرمپ نے ایک ٹویٹ کرتے ہوئے غیرمصدقہ دعویٰ کیا کہ اختتام میں وہ جیت جائیں گے جبکہ ڈیموکریٹ اُمیدوار جوبائیڈن نے ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے شکست تسلیم نہ کرنے کو باعث شرمندگی قرار دیا۔ اس ساری صورتحال کو امریکی وزیر خارجہ مائیک پومپیو جیسے لوگ امریکی معاشرے میں آگ لگانے کیلئے استعمال کر رہے ہیں یہ کہہ کر کہ20جنوری کو پرامن طریقے سے اقتدار منتقل ہوگا لیکن جوبائیڈن کو نہیں بلکہ صدر ٹرمپ دوبارہ اقتدار سنبھالیں گے۔ ایسے ہی لوگوں کے بارے میںکہا جا سکتا ہے کہ ہوئے تم دوست جس کے دشمن اس کا آسماں کیوں ہو، تاہم وائٹ ہائوس سے رخصت ہونے کے بعد وہ میر تقی میر کی طرح سوچیں گے کہ
لیتے ہی نام اس کا سوتے سے چونک اُٹھے
ہے خیر میر صاحب کچھ تم نے خواب دیکھا