کنٹرول لائن لہو لہو

جمعہ کابابرکت دن کنٹرول لائن پر بسنے والوں کے لئے قیامت خیز رہا بالخصوص وادی نیلم اور لیپا کے عوام کے لئے یہ دن بھاری رہا ۔بھارتی فوج نے بھاری توپخانہ کا استعمال کرکے دودھنیال ،ٹیٹوال اور لیپا سیکٹروں میں تباہی برپا کردی ۔بھاری توپخانے سے کی جانے والی گولہ باری سے پانچ افراد شہید جبکہ پچیس زخمی ہوئے ۔گولہ باری سے دودھنیال سیکٹر میں ایک ننھا بچہ اپنی آنکھ سے محروم ہوگیا اور اس بچے کی تصویروں نے عالمی ضمیر کو جھنجوڑ کر رکھ دیا ۔گولہ باری سے درجنوں مکانات ،دکانیں ،مساجد ،تعلیمی ادارے تباہ ہوئے ۔وادی نیلم میں کئی گھرجل کر راکھ ہوگئے۔وزیر اعظم آزادکشمیر راجہ فاروق حیدر خان نے بھارتی گولہ باری کی شدید مذمت کرتے ہوئے حکومت پاکستان سے اس واقعے کو اقوام متحدہ میں اُٹھانے کا مطالبہ کیا ۔کئی مقامات پر سول سوسائٹی کے افراد نے بھارتی گولہ باری کے خلاف شدید احتجاج کیا۔ آئی ایس پی آر کے مطابق چندروز قبل مقبوضہ کشمیر کے علاقے میں مجاہدین نے ایک کارروائی میں تین بھارتی فوجی مار دئیے ۔جس پر بھارتی حکومت پر اندرونی حلقوں میں شدید تنقید ہوئی اور اس کے بدلے میںبھارتی فوج نے آزادکشمیر میںنہتی آبادی کو نشانہ بنایا۔بھارت نے بھی جمعہ کی گولہ باری میں اپنے چار فوجیوں اور ایک بارڈر سیکورٹی فورس کے اہلکار کی ہلاکت اور بیس افراد کے زخمی ہونے کی تصدیق کی۔ کئی ہفتے پہلے سامنے آنے والی رپورٹ میں کہا گیا تھا کہ بھارتی فوج نے اس سال کنٹرول لائن کی 2580بار خلاف ورزی کی ہے ۔ان واقعات میں 19افراد شہید جبکہ 199افراد زخمی ہوئے ۔اب تازہ واقعات نے شہدا اور زخمیوں کی تعداد میں اضافہ کیا ہے ۔چین کی لائن آف ایکچوئل کنٹرول پر مار کھانے کے باوجود بھارت اپنی حرکتوں سے باز نہیں آرہا ۔خطے میں کشیدگی اب پاکستان اور بھارت تک محدود نہیں رہی بلکہ چین بھی اس کشیدگی کا اہم فریق بن کر اُبھر رہا ہے ۔بھارت ایک ایسی جنگ کی تیاری کر رہا ہے جس میںا س کے مدمقابل دو فریق ہوں گے ۔اسے دومحاذوں کی جنگ کہا جا رہا ہے ۔ اگر تین ایٹمی طاقتوں کے درمیان جنگ چھڑ جاتی ہے تو بات کہاں جا کر رکے گی اس بارے میں کچھ کہنا قبل ازوقت ہوگا۔آئے روز پاکستان کو جانی ومالی نقصان سے دوچار کرنا پاکستان کے ردعمل کو جانچنے کی کوشش ہے ۔فائرنگ اور گولہ باری کے ہرواقعے کے بعد دفتر خارجہ بھارت سے پرزور احتجاج کرتا ہے ۔اس انداز کا احتجاج اب معمول بن گیا ہے ۔یوں بھارتی فائرنگ ،ہمارا نقصان اور اس کے ساتھ رسمی احتجاج سب کچھ عام سی بات ہو کر رہ گئی ہے مگر اس سے کنٹرول لائن پر بسنے والوں کے مصائب اور دکھ کم نہیں ہوتے ۔کنٹرول لائن کے عوام نے ہر دور میں پاک بھارت جنگوں اور کشیدگی کی قیمت چکائی ہے مگر 1988میں کشمیرمیں شروع ہونے والی مسلح تحریک کے بعد کنٹرول لائن ایسی بھڑک اُٹھی کہ دوبارہ کبھی ٹھنڈی نہ ہوسکی سوائے جنرل مشرف کے دور میں2003میں ہونے والی جنگ بندی کے جو کم وبیش ایک عشرے تک ہی چل سکی۔جس کے بعد سے ایک اور عشرہ ہونے کو ہے کنٹرول لائن آگ اور خون کی لکیر بن کر رہ گئی ہے۔کنٹرول لائن پر فائرنگ میں معصوم اور نہتی آبادی ہی دشمن کا نشانہ بنتی ہے ۔کنٹرول لائن کو گرم رکھنا بھارت کی سوچی سمجھی جنگی سکیم کا حصہ ہے۔بھارت کشمیر میں چلنے والی تحریک سے زچ ہوکر اس کا بدلہ آزادکشمیر کے عوام سے لیتا ہے ۔اس کے پیچھے جہاں بدلے کی سوچ ہوتی ہے وہیں پاکستان کے جواب کی صورت میں مقبوضہ کشمیر کے عوام کا نقصان بھی بھارت کے لئے خوشی کا باعث بنتا ہے۔چھری خربوزے پر گرے یا خربوزہ چھری پر نقصان خربوزے کا ہی ہوتا ہے کے مصداق فائرنگ ایک طرف سے ہو یا دوسری طرف سے نقصان کشمیری مسلمان کا ہی ہوتا ہے ۔بھارت کے لئے اس میں ہینگ لگے نہ پھٹکڑی کا معاملہ ہے مگر پاکستان کے لئے مقبوضہ علاقے کی آبادی بھی اسی طرح اہم ہے جس طرح آزادکشمیر کی آبادی کیونکہ مقبوضہ کشمیر کی آبادی کے دل پاکستان کے ساتھ دھڑکتے ہیں۔ اس وقت کنٹرول لائن کے قریب دس لاکھ لوگ بستے ہیں۔ اچھی خاصی تعداد کنٹرول لائن سے دو ڈھائی کلومیٹر کی دوری پر رہتی ہے۔یوں یہ لوگ بھارتی فوج کی آسان دسترس میں ہیں۔بھارتی فائرنگ میں انسانی جانیں ضائع ہوتی ہیں ۔گھر دکانیں سکول اور ہسپتال تباہ ہوتے ہیں اور مال مویشی مارے جاتے ہیں۔یوں 340کلومیٹر طویل کنٹرول لائن روز شعلے اگل کر ایک المناک کہانی کو جنم دیتی ہے۔اقوم متحدہ کے فوجی مبصرین کا کردار اب اس معاملے میں نہ ہونے کے برابر رہ گیا ہے کیونکہ بھارت نے اپنی طرف تعینات فوجی مبصرین کو عضو معطل بنا دیا ہے۔ پاکستان فوجی مبصرین سے یک طرفہ تعاون کر رہا ہے کیونکہ ان مبصرین کی موجودگی کشمیر کی متنازعہ حیثیت کاواضح ثبوت ہے۔بھارتی فوج کنٹرول لائن پر عالمی قوانین اور جنگی اصولوں کی صریح نفی کرکے نہتے لوگوں کو نشانہ بنارہی ہے۔ آبادی پر توپ خانے کااستعمال کیا جانا معمول ہے۔ رائفل، سنائپر، مارٹرسمیت عام اورمعصوم شہریوں پرہر ہتھیار استعمال بھارتی فوج کے لئے جائز بن چکا ہے۔حکومت پاکستان کو اس ساری صورت حال کودفتر خارجہ کے بیانات اور رسمی احتجاج تک محدود کرنے کی بجائے اس حوالے سے جامع فوجی حکمت عملی تشکیل دینا ہوگی ۔