اک اشک میرے صبر کی توہین کرگیا

محبت ویرانے کوگلزار بنا دیتی ہے ، سرکے دشمن کو بھی دلدار بنا دیتی ہے ، محبت فاتح عالم ہے ، محبت کے دم سے یہ دنیا حسیں ہے، محبت نہیںتو کچھ بھی نہیں ہے ، اگر رب کن فیکون کی اس سجیلی دنیا میں محبت نہ ہوتی تو خاکم بدہن بھسم ہوکر رہ جاتی یہ دنیا نفرتوں اور کدورتوں کی آگ میں۔ پیار اور محبت کے دم قدم سے آباد ہے یہ دنیائے آب گل اور اس پر بکھرے رنگ و نور کے بہشت آفریں نظارے۔
ایک محبت کافی ہے
باقی عمر اضافی ہے
بابا آدم اماں حوا کی محبت میں شجر ممنوعہ کا پھل کھا گیا اور یوں اسے قربان کرنی پڑی وہ جنت جو ان کا ٹھکانہ تھی اور قبول کرنی پڑی ان کو یہ دنیا جوانہیں جرم محبت کی پاداش میں نصیب ہوئی ۔ یہ الگ بات کہ اس دنیا میں آنے کے بعد ، جانے کتنے ہابیل اور قابیل آئے جو محبتوں کی تلاش میں نفرتوں اور کدورتوں کی کھیتیاں اگاتے رہے۔
نفرت بھی اسی سے ہے پرستش بھی اسی کی
اس دل سا کوئی ہم نے تو کافر نہیں دیکھا
کہتے ہیں نوع انسانی کی پہلی لڑائی جو ہابیل و قابیل کے درمیان شروع ہوکر بھائی کے بھائی کے ہاتھوں قتل ہونے کے انجام کو پہنچی اس کا مرکزی کردار ایک لڑکی ہی تھی اور اس لڑکی پر مرمٹنے والے آپس میں یوں دست و گریبان ہوئے کہ رہتی دنیا تک نشان عبرت بن کر یاد کئے جاتے رہے۔ ہابیل و قابیل کے اس جان لیوا معرکہ کے بعد کتنے ہابیلوں اور قابیلوں کے درمیان زن زر اور زمین محبتوں کو نفرتوں میں بدلنے کا باعث بنیں۔ کتنی جیلیں کتنی ہسپتالیں اور کتنے قبرستان نگل گئے نفرتوں کی آگ میں بھسم ہوجانے والے حضرت آدم کے ان سپوتوں کو جن کے اندر صبرو تحمل اور برداشت کا مادہ نہیں تھا جو ایک دوسرے کے جذبات کا احترام کرنا نہیں جانتے تھے جو رواداری کی صفت سے عاری تھے۔
فلسفے سارے کتابوں میں اُلجھ کر رہ گئے
درس گاہوں میں نصابوں کی تھکن باقی رہی
جو لوگ محبتوں کو نفرتوں اور کدورتوں میں بدلنے میں دیر نہیں لگاتے۔ جو اپنے گھر کو محض اس لئے جلادیتے ہیں کہ اس طرح ان کے ہمسائے کا گھر بھی جل کر راکھ ہوجائے گا۔ دوسروں کی راہ میں کنویں کھودنے والے خود ہی ان کنوؤں میں گرتے ہیں لیکن ان کو اس بات کا شعور نہیں ہوتا جب ہی گزرتے وقت کی زبان ایسے لوگوں کو ناعاقبت اندیش کے لفظوں سے یاد کرتی ہے۔ عالمی سطح پر اس دن کو منانے کی منظوری اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی نے16نومبر 1996ء کو دی تھی اور یہ دن پہلی مرتبہ 2005ء میں منایا گیا تھا۔ لیکن اگر آپ مجھ سے پوچھیں تو میں قسم کھا کر عرض کر نا چاہوں گا کہ امن و سکوں برداشت و رواداری کا درس ہمیں آج سے ساڑھے چودہ سو سال پہلے ہی ودیعت ہوگیا تھا۔ تعلیمات دین اسلامی میں محسن انسانیت آقائے نامدار حضرت محمد مصطفیٰ احمد مجتبیٰ ۖ نے انسانیت کو جس دین سے وابستہ ہونے کی دعوت دی اس کا مرکزی خیال ہی برداشت اور رواداری ہے ۔ اسلام سلامتی کا مذہب ہے۔ اسلامی تصوف کے مدارج طے کرنے والے بتاتے ہیں کہ کوئی مسلمان اس وقت تک مسلمان کہلانے کا حق دار نہیں بن سکتا جب تک اس میں انسانیت سے پیار کرنے کا جذبہ موجزن نہ ہو۔انسانیت سے محبت ،برداشت اور رواداری کی تعلیم حاصل کرنے کیلئے ہم سب نے محسن انسانیت کے اسوہ حسنہ سے استفادہ کرنا ہے ، آپ پیکر صبر وقرار تھے ، آپ ۖ نے برداشت و رواداری کی نہ صرف تعلیم دی بلکہ اپنی عملی زندگی میں تکلیفیں دینے والوں کو دعائیں دیتے رہے ،
سلام اس پر کہ اسرار محبت جس نے سکھلائے
سلام اس پر کہ جس نے زخم کھا کر پھول برسائے
اگر ہم نے سنت نبوی کی پیروی کرنی ہے تو ہمیں آقائے نامدار ۖ کے اسوہ حسنہ کو اپنی زندگی کیلئے مشعل راہ بنانا ہوگا۔ آپ جس وقت سلامتی امن اور بھائی چارے کے دین کا پیغام لیکر طائف کے میدان میں پہنچے تو کفار نے آپ کے جسد مبارک پر اسقدر پتھر برسائے کہ آپ سر سے پاؤں تلک لہو لہان ہوگئے۔نعوذ باللہ من ذالک آپ پر کچرا پھینکا گیا آپ سجدے کی حالت میں تھے کہ کفار مکہ نے آپ کے وجود اطہر پر اوجھڑیاں لادھ دیں آپ ۖ دنیا والوں کیلئے سلامتی کا پیغام لے کر تشریف لائے تھے جس کیلئے آپۖ نے ہر ظلم اور جبر کو نہ صرف برداشت کیا بلکہ اللہ کا پیام اور نیکی کی تلقین کی راہ میں حائل ہونے والی ہررکاوٹ کو قوت برداشت رواداری سے زیر کرتے رہے ۔
سلام اس پرکہ جس نے خوں کے پیاسوں کو قبائیں دیں
سلام اس پر کہ جس نے گالیاں سن کر دعائیں دیں
عالمی یوم برداشت اور رواداری کا مقصد لوگوں کو صبرو تحمل کادرس دینا اور ان کو عدم برداشت کے منفی اثرات سے آگاہ کرنا ہے۔آج کے دن انسانی حقوق کی علم بردار تنظیمیں اس موضوع پر تقریبات منعقد کریں گی، لمبی لمبی تقریریں اور مظاہرے ہونگے لیکن کسی کو کشمیر جنت نظیرمیں بھڑکتی آگ نظر نہیں آئے گی ، انسانی حقوق کے دعو یدار وں کے کانوں تک فلسطین کے مسلمانوں کی آہ وازاری نہ پہنچ پائے گی ، برداشت اور رواداری کا درس دینے والے شام عراق اور افغانستان کی حالت زار پر دو ٹسوے تک نہ بہاسکیں گے اور ہم ٹک ٹک دیدم دم نہ کشیدم کے مصداق کچھ بھی نہ کہہ کر اپنی خاموشیوں کی زبان میں کہتے رہ جائیں گے کہ
پلکوں کی حد کو توڑ کر دامن پہ آگرا
اک اشک میرے صبر کی توہین کر گیا