حرص و ہوا کی چربی

وطن عزیز میں ہنگامے عروج پر ہیںسب اپنی اپنی ہانک رہے ہیںاتنی باتیں اتنے تبصرے ہیں کہ عقل حیران اور دل پریشان ہے جو ہماری طرح سادہ دل ہیں وہ وطن عزیز کی خیرمانگ رہے ہیں ! ہر طرف دھوکے ہیں فریب ہیںسچ اور جھوٹ کی پہچان مٹ چکی ہے! جب دل دکھتا ہے یا کسی کا دل دکھایا جاتا ہے تو بچپن کے دن بری طرح یاد آتے ہیں وہ دن جن میں چھوٹی چھوٹی خوشیاں ہوتی ہیں ننھے منے جذبات ہوتے ہیں ۔ ایلزبتھ لارنس کا کہنا ہے کہ ہر بچپن میں ایک خوبصورت باغ ہوتا ہے ایک ایسے خوبصورت جادوئی جگہ ہوتی ہے جس کے سارے رنگ شوخ ہوتے ہیںجس میں دل لبھانے والی ہوا ہوتی ہے اور صبح اتنی خوشبودار ہوتی ہے کہ اس سے خوبصورت اور پیاری صبح کا تصور بھی نہیں کیا جاسکتا۔بعد میں خوبصورت رنگوں دلفریب روشینوں اور معصوم فضائوں میں پروان چڑھنے والا معصوم شہزادہ کتنا بے رحم ہوجاتا ہے کتنا کرخت ہو جاتا ہے اپنے جائز و ناجائز مفادات کی تکمیل کے لیے کیسے کیسے کھیل کھیلتا ہے کتنے دھوکے دیتا ہے کتنے معصوم ارمانوں کا خون کرتا ہے کتنی بے انصافیاں کرتا ہے کتنا جھوٹ بولتا ہے اور پھر بات اتنی آگے بڑھ جاتی ہے کہ اسے وطن عزیز کی عزت کی بھی کوئی فکر نہیں ہوتی وہ اپنے پیارے وطن کی سلامتی بھی دائو پر لگانے سے نہیں چوکتا۔ اس کی انا اس کی جھوٹی عزت کا خول ہی اس کے لیے سب کچھ ہوتا ہے وہ یہ بھول جاتا ہے کہ ایک وقت میں ایک شخص کو تو بے وقوف بنایا جاسکتا ہے لیکن ہر وقت سب لوگوں کو بے وقوف نہیں بنایا جاسکتا ۔وہ اپنی ذاتی رنجشوں میں اتنا دور نکل جاتا ہے کہ اپنے راستے میں آنے والی ہر چیز کو فنا کے گھاٹ اتارنا اپنی زندگی کا مقصد بنا لیتا ہے وہ یہ بھول جاتا ہے کہ جو چیز اپنی حد سے بڑھ جائے وہ اپنی ضد میں تبدیل ہوجاتی ہے اسے اپنی چالاکیوں پر بڑا مان ہوتا ہے وہ اپنی مکاری کو ہی اپنا آخری ہتھیار سمجھتا ہے وہ اس بات سے مکمل طور پر بے خبر ہوتا ہے کہ اس کے سب سے بڑے ہتھیار ہی اب اس کے لیے شکنجہ بن رہے ہیں وہ اپنے پھیلائے ہوئے جالوں میں خود ہی پھنستا چلا جارہا ہے اس نے جس کو اپنی توانائی سمجھا تھا اب وہ اس کے راستے کی سب سے بڑی رکاوٹ بن رہی ہے۔ شیکسپیر اپنے ڈراموں میں اس خیال کے ساتھ خوب کھیلا ہے اس کے ہیرو کامیابیوں پر کامیابیاں حاصل کرتے چلے جاتے ہیںاپنے راستے کی ہر رکاوٹ کو پائوں کی ٹھوکر سے ہٹاتے چلے جاتے ہیںان کا اپنے کیے گئے فیصلوں پر بڑا اعتماد ہوتا ہے جب وہ اپنی ذہانت اور مکاری ہی کو اپنا سب کچھ سمجھ لیتے ہیں اور آہستہ آہستہ یہ غلط خیال ان کے ذہن میں جڑ پکڑ لیتا ہے کہ وہ ناقابل تسخیر ہیں تو پھر وہ دماغی اندھے پن کا شکار ہو جاتے ہیں وہ غلط فیصلے کرنے لگتے ہیں اور یہی غلط فیصلے ان کو تباہی کے عمیق گڑھوں میں گرادیتے ہیں جس کو وہ اپنا عروج سمجھتے ہیں درحقیقت وہی ان کا زوال ہوتا ہے لیکن ذہنی اندھے پن کی وجہ سے ان کی سمجھ ان کی سوچ میں فتور آجاتا ہے ۔ اپنے ارد گرد دیکھئے تو آپ کو بہت سے ایسے نام نہاد ہیرو نظر آجائیں گے جنہیں سب کچھ ہرا ہی ہرا نظر آرہا ہے جو اپنے آپ کو جوڑ توڑ کا بادشاہ سمجھ رہے ہیں اور اس بات سے بے خبر ہیں کہ اصل اہمیت سچ کی ہوتی ہے قوانین فطرت اپنی جگہ اٹل ہوتے ہیں اور ان سے ٹکرانے والا صفحہ ہستی سے مٹا دیا جاتا ہے اس کو لوگوں کی نظروں میں گرا دیا جاتا ہے اس کا ذکر کبھی بھی اچھے الفاظ میں نہیں کیا جاتا ۔ زرا تاریخ کے جھروکوں میں جھانکھیئے تو ایسے کتنے ہی کردار نظر آجائیں گے جنہوں نے اپنے ذاتی مفادات کو ہی سب کچھ سمجھ لیا تھا سونے اور چاندی کے سکے ہی جن کا مقصد حیات تھا چند روزہ عارضی مفادات کے لیے انہوں نے اپنا سب کچھ دائو پر لگا دیا تھا لیکن تاریخ میںان کا زکر کبھی بھی اچھے الفاظ میں نہیں کیا گیا ہر دور کے مصنف نے ان پر لعنت ملامت کی انہیں قوم و ملک کا غدار قرار دیا۔ میر جعفر اور میر قاسم تو زیادہ دور کی بات نہیں ۔ آج میر جعفر ہے اور نہ ہی میر قاسم لیکن سراج الدولہ اور ٹیپو سلطان آج بھی زندہ ہیں ٹیپو سلطان کو آج بھی سچائی شرافت اور بہادری کا استعارہ سمجھا جاتا ہے۔ دنیا میں سب سے بڑھکر دھوکہ دینے والی چیز یں مال و دولت اور اقتدار کی محبت ہے اقتدار کی محبت میں انسان آگے ہی آگے بڑھتا چلا جاتا ہے اپنی راہ میں آنے والی سچائی انصاف دیانتداری حب الوطنی شرافت و نجابت سب کا خون کرتا چلا جاتا ہے اپنے انجام سے بے خبر حرص و ہوا کے گھوڑے پر سوار نامعلوم منزلوں کی طرف رواں دواں ہوتا ہے کہ پھر اس کا وقت ختم ہوجاتا ہے اس کی میعاد ختم ہوجاتی ہے قدرت کی طرف سے دی گئی ڈھیل کا وقت ختم ہوجاتا ہے اور یہی وہ وقت ہوتا ہے جب اس کی خوبیاں اس کے قدموں کی زنجیر بن جاتی ہیں جن ہنر مندیوں اور چالاکیوں کووہ اپنی متاع سمجھتا رہا تھا اب وہی اس کے زوال کا سب سے بڑا سبب بن جاتی ہیںجب آنکھوں پر اقتدار حر ص وہوا کی چربی چڑھی ہوتی ہے تو کچھ نظر نہیں آتا اور جب تقدیر اپنا شکنجہ کسنا شروع کرتی ہے آنکھوں پر چڑھی اقتدار کی ہوس کی حقیقت معلوم ہونے لگتی ہے تو پھر وقت نہیں ہوتارخصتی کا لمحہ آجاتا ہے لیکن ہم میں سے کتنے ہیں جو ان واقعات سے عبرت حاصل کرتے ہیں؟۔