کورونا’پھر سے لاک ڈائون کا خطرہ

وزیراعظم عمران خان نے بجا طور پر کہا ہے کہ کورونا وائرس نے شکل تبدیل کر لی ہے اور تیزی سے پھیل رہا ہے، اگر ہم نے احتیاط نہ کی تو خدشہ ہے کہ ہسپتال مریضوں سے بھر جائیں گے۔ وزیر اعظم عمران خان کی زیر صدارت قومی رابطہ کمیٹی برائے کورونا کا اجلاس میں بتایا گیا کہ پچھلے دس دن میں کورونا کے چار گنا کیسز بڑھ گئے ہیں۔ دریں اثناء خیبر پختونخوامیں کورونانے دوبارہ وبائی شکل اختیار کر لی ہے اور گزشتہ چوبیس گھنٹے کے دوران مزیدمریض دم توڑ گئے۔ جن میں سے3افراد پشاور اور ایک مریض ایبٹ آباد میں جاں بحق ہوا جبکہ مختلف اضلاع سے245نئے مریض بھی سامنے آئے ہیں۔ حال ہی میں حیات آباد میڈیکل کمپلیکس کے کورونا وارڈ میں خدمات انجام دینے والے ایک ڈاکٹر کا ویڈیو پیغام آیا تھا جس میں انہوں نے ہسپتال میں کورونامریضوں کیلئے بستر، آکسیجن اور دیگر ضروری سہولیات کی استعداد پوری نہ ہونے اور مزید کسی مریض کے علاج کی گنجائش نہ ہونے کا واضح طور پر پیغام دیا تھا۔ ان تمام عوامل کا اچھی طرح سے جائزہ لینے اور اس پر غور کرنے سے یہی نتیجہ سامنے آتا ہے کہ ملک میں کورونا کی صورتحال خدانخواستہ قابو سے باہر ہونے لگی ہے اور دستیاب علاج کی سہولتیں ناکافی ہیں۔ حکومت کے پاس اب اتنی استعداد اور گنجائش باقی نہیں کہ وباء کی صورتحال سے نمٹا جاسکے۔پاکستان میں اور خاص طور پر خیبرپختونخوا میں علاج معالجہ کی سہولتیں معمول کے حالات میں کافی نہیں ہوتیں کسی بھی ہنگامی صورت سے کیسے نمٹا جائے، اگرچہ اس سوال کاجواب ہسپتالوں کی انتظامیہ کے پاس بھی نہیں لیکن جس طرح دہشت گردی کیخلاف جنگ کے دنوں میں صوبے کے سرکاری ہسپتالوں میں ڈاکٹروں اور پیرامیڈیکل سٹاف نے قربانی کی تاریخ رقم کی اسی طرح کورونا وباء کے دنوں میں بھی اس کا اعادہ ہوا، مسیحائی کرتے کرتے خود جان سے جانے والوں کی تعداد کم نہ تھی لیکن اگر اس طرح سے کورونا وباء کا خاتمہ ممکن ہوتا تو وباء کا اب وجود باقی نہ ہوتا مگر یہ وباء اس طرح کی ہے کہ موسم میں خنکی کیساتھ وباء کی شدت میں اضافہ ہوتا ہے۔ گزشتہ سال چونکہ موسم میں حدت آنے کے دنوں میں وباء آئی تھی اسلئے دن گزرنے کیساتھ ساتھ مرض کی شدت میں کمی آتی گئی لیکن اس سال ابھی موسم سرما کاآغاز ہے اور ابتدائی دنوں ہی میں مریضوں کی تعداد میں اچانک بہت زیادہ اضافہ ہوگیا ہے، آنے والے دنوں میں اس میں خدانخواستہ مزید اضافہ ہی متوقع ہے جس کے پیش نظر عوام کو احتیاطی تدابیر کا سختی سے خیال رکھنے میں لمحہ بھر کی بھی تاخیر اور تامل کا مظاہرہ نہیں کرنا چاہئے۔ عوام ملک اور قوم حکومت وریاست سبھی کا اجتماعی مفاد اور ذمہ داری یہ ہے کہ احتیاط کے تقاضے ملحوظ خاطر رکھے جائیں، اس کے علاوہ اس کا کوئی دوسرا آسان اور سادہ حل نہیں۔ حالات اس وقت ہی اس سطح پر آگئے ہیں کہ حکومت کو بہت جلد بادل ناخواستہ لاک ڈائون، کاروبار کی بندش، روزگار کو متاثر کرنے اور تعلیم کے سلسلے کے حوالے سے ناخوشگوار اور ناگزیر اقدامات کی ضرورت پڑے گی۔ اس صورتحال سے بچنے کا واحد راستہ احتیاطی تدابیر پر رضا کارانہ طور پر عملدرآمد ہے، اس ضرورت کا جتنا جلد عوامی سطح پر ادراک کیا جائے گا اتنا ہی بہتر ہوگا۔