سیاسی فضا’جی بی انتخابات اور بیانیوں کاتضاد

گلگت بلتستان انتخابات کیا نواز شریف کے اس نئے بیانئے کا جواب ہیں جو پرانے بیانئے ''ووٹ کو عزت دو'' کے سنگ سنگ ایک اہم ادارے کے بعض اہم افراد پر الزامات کی صورت انہوں نے پی ڈی ایم کے جلسوں سے خطاب کرتے ہوئے اختیار کیا ہے؟ حکومتی اکابرین تو یہی کہہ رہے ہیں کہ ووٹروں نے مسلم(ن) اور پیپلزپارٹی کیخلاف ووٹ دیکر پی ڈی ایم کو مسترد کردیا ہے حالانکہ لیگ(ن)، پیپلزپارٹی اور جمعیت نے گلگت بلتستان کے انتخابات میں پی ڈی ایم کے پلیٹ فارم سے حصہ نہیں لیا بلکہ انفرادی طور پر ہر جماعت کے اُمیدوار میدان میں اُترے تھے اور تجزیہ نگاروں کی متفقہ رائے یہی ہے کہ شمالی علاقہ جات میں ہمیشہ وہی پارٹی فتح حاصل کرتی ہے جو پاکستان میں برسر اقتدار ہو، ماضی میں اس کی مثالیں موجود ہیں۔ یہ الگ بات ہے کہ لیگ(ن)اور پیپلزپارٹی یا جمعیت نے ان انتخابی نتائج کو مسترد کرتے ہوئے وہی روایتی الزامات لگانا شروع کر دیئے ہیں کہ نتائج چرا لئے گئے ہیں۔ بلاول بھٹو زرداری نے کئی حلقوں کے بارے میں کہا ہے کہ رات کو جہاں ان کے اُمیدوار جیت رہے تھے صبح ان کو ہرادیا گیا جبکہ بعض تجزیہ کاروں کے مطابق یہ جوآزاد اُمیدواروں کی تعداد زیادہ جیت چکی ہے مبینہ طور پر انہیں سرکاری جماعت میں شامل کراکے حکومت سازی کا عمل مکمل کیاجائے گا یعنی اسے بعض سیاسی رہنماء بھی ''پری پول'' رگنگ سے تشبیہ دے رہے ہیں۔ اس طرح میاں صاحب کو ان کے تازہ بیانئے کا جواب دیا جارہا ہے کہ کرلو جو کرنا ہے۔ ادھر ایک بار پھر تحریک لبیک والوں کے دھرنے کی آڑ میں وزیراعظم نے حکومتی سطح پر جلسوں کو ختم کرنے کا اعلان کیا اور ساتھ ہی پی ڈی ایم سے بھی اپنے جلسے ختم کرنے کا مطالبہ کیا ہے تاہم اپوزیشن رہنمائوں نے اس مطالبے کو مسترد کرتے ہوئے جلسوں کا پروگرام جاری رکھنے کا اعلان کردیا ہے۔ پی ڈی ایم کے سیکرٹری اطلاعات اور اے این پی کے مرکزی رہنماء میاں افتخار نے کہا ہے کہ عوامی اجتماعات پر پابندی پی ڈی ایم کیلئے لگائی جارہی ہے، اگرچہ وزیراعظم نے اجتماعات پر پابندی ملک میں کورونا کی صورتحال اور مریضوں کی تعداد میں تیزی سے اضافے کی وجہ سے لگانے کی وجہ سے لگائی ہے تاہم برسرزمین حقائق اس کے برعکس یوں ہیں کہ ابھی تک کسی بھی احتجاج(خواہ حکومتی ہو،پی ڈی ایم کا ہو یا پھر گزشتہ دونوں کے تحریک لبیک والا دھرنا ہو)کے نتیجے میں کورونا بڑھنے کی کوئی خبر سامنے نہیں آسکی،عام تاثر بھی یہی ہے کہ حکومت پی ڈی ایم کے بڑھتے ہوئے دبائو کی وجہ سے اجتماعات پر پابندی لگانے کی کوشش کر رہی ہے تاہم سوال یہ ہے کہ جیسا کہ وزیراعظم نے کہا ہے کہ صورتحال خراب ہونے کی بناء پر وہ پابندی کے احکامات جاری کر سکتے ہیں، تو اگر پی ڈی ایم میں شامل جماعتوں یا پھر کسی اور طبقے نے اسے عدالتوں میں چیلنج کر دیا تو کیا ہوگا، کیونکہ گزشتہ روز وفاقی کابینہ کے اجلاس میں کورونا کے ویکسین کی فراہمی کا اظہار کیا ہے، حالانکہ بھارت نے ویکسین بنانے والے اداروں سے رجوع کر کے اپنے عوام کو ریلیف دینے کا فیصلہ کیا ہے، یہاں ایک بات قابل غور ہے اور وہ یہ کہ کچھ عرصہ قبل وزیرسائنس وٹیکنالوجی نے یہ اعلان بھی کیا تھا کہ پاکستان کورونا سے بچائو کے ویکسین پر کام کر رہا ہے۔ سوال پھر یہ پیدا ہوتا ہے کہ وہ کوششیں کہاں تک پہنچیں اور کیا ویکسین بنانے میں متعلقہ ادارے اور ماہرین کامیاب ہوئے ہیں یا پھر اسے بھاری پتھر سمجھ کر صرف چومنے پر ہی اکتفا کیا گیا ہے۔مسئلہ یہ ہے کہ ''غلط اور صحیح'' اطلاعات کے ہنگام جو افراتفری مچی دکھائی دیتی ہے اس میں سچ کیا ہے اور جھوٹ کیا؟ ایک جانب سیاسی فضا میں تنائو کے حوالے سے حکومت پر پڑنے والے دبائو کو رد نہیں کیا جاسکتا تو دوسری جانب دنیا کے مختلف ممالک سے موصول ہونے والی اطلاعات سے بھی تشویش میں اضافے کو مسترد نہیں کیا جا سکتا تاہم امریکہ اور دوسرے ممالک سے کورونا کے مریضوں کی تعداد میں اضافے کی خبروں کے ہنگام ہم یہ بات بھول جاتے ہیں کہ وہاں کی آبادی کتنی ہے اور اس کے مقابلے میں پاکستان آبادی کے لحاظ سے کہاں کھڑا ہے، ہم تو صرف خبروں میں سامنے آنے والے اعداد وشمار کو دیکھتے ہیں اور ''اوہو،ہو،ہو،ہو'' کہہ کر پریشان ہو جاتے ہیں حالانکہ پاکستان رقبے اور آبادی کے حوالے سے امریکہ کے سب سے چھوٹی ریاست کے بھی ہم پلہ نہیں ہے' البتہ اس بات کو بھی نظر انداز نہیں کیا جا سکتا کہ اب جبکہ اس مسئلے کا حل دریافت ہونے کی خبریں آرہی ہیں یعنی ویکسین ایجاد ہوچکی ہے جسے ترقی یافتہ ممالک کے علاوہ دیگر وہ ممالک جو پاکستان کے مقابلے میں زرمبادلہ کے حوالے سے قابل اطمینان کرنسی کے ذخائر رکھتے ہیں بہ آسانی ویکسین حاصل کر کے بیماری کو روکنے کی تدبیر کر سکتے ہیں اور مقابلتاًہم ابھی تک کشکول بدست،پھٹی ہوئی جھولی سے آگے نہیں بڑھ سکے ہیں تو پھر ''تیراکیا بنے گا کالیاں'' کہنے پر مجبور تو ہونا پڑے گانا! بقول سجاد بابرمرحوم
میں درد کے قصبے میں بہت دیر سے پہنچا
بک جاتے ہیں سب تازہ ثمر شام سے پہلے