اس کا فائدہ کیا ہے؟

ایک منفی سوچ ہماری نس نس میں تیزی سے سرائیت کرتی جارہی ہے، وہ یہ ہے کہ یہاں کسی چیز کے حوالے سے جب بات کی جائے تو فوری طور پر ایک ہی سوال داغا جاتا ہے کہ ''اس کا فائدہ کیا ہے؟'' افادیت پرستی کا یہ مظاہرہ صرف انفرادی سطح پر ہی نہیں بلکہ کئی مثالوں میں اجتماعی سطح پر بھی ہو رہا ہے، لوگ علم کی بجائے پیسے کو قابل اعتماد چیز سمجھتے ہیں۔ ایک بار افلاطون پڑھا رہا تھا تو اس کا ایک شاگرد کھڑا ہوگیا، اس نے پوچھا اے اُستاد! ان علوم کا عملی زندگی میں فائدہ کیا ہے؟۔
افلاطون نے اسے گھور کر دیکھا، ایک اور شاگرد سے کہا کہ ایک قیمتی سکہ لاؤ، وہ ایک قیمتی سکہ لے آیا، اس نے وہ سکہ معترض شاگر کے ہاتھ پر رکھا اور کہا یہ لو تمہارے لئے تو علم کی عملی اہمیت ثابت ہوگئی، اب یہاں سے دفع ہو جاؤ۔ کچھ ایسا ہی سوال نیوٹن پر بھی ہوا، جب اس نے کشش ثقل کا نظریہ مرتب اور فراہم کیا۔ دنیا بھر نے تو اس کی اہمیت کو مانا مگر افادیت پرستوں کے ایک ٹولے نے ان سے بھی پوچھا کہ اچھا یہ تو معلوم ہوا کہ کرۂ ارض میں یا چھوٹے بڑے اجسام میں کشش ہوتی ہے، اب فرمائیے کہ ہم اس علم سے عملی زندگی میں کیا کام لے سکتے ہیں یعنی کیا نظری علم روٹی پکانے یا انڈہ اُبالنے یا کپڑے بننے میں کام آسکتا ہے؟ نیوٹن بے چارہ اپنا سر پیٹتا رہ گیا۔ ایسے ہی سوالات آئن سٹائن سے بھی پوچھ پوچھ کر انہیں بھی زچ کرنے کی کوشش کی گئی۔ ڈاکٹر عبدالسلام کو بھی نہیں بخشا گیا، کراچی کے کچھ عمائدین نے ان کو ایک عشائیے میں مدعو کیا (اس سال انہیں نوبل انعام ملا تھا) کئی حضرات نے ایک مشترکہ سوال پیش کیا ''آپ کے اس نظرئیے کی افادیت عملی زندگی میں کیا ہے؟ ڈاکٹر سلام نے اپنے قریب بیٹھے ہوئے لوگوں کی طرف دیکھا اور کچھ ہنس دئیے، کچھ رو دئیے۔ فیراڈے کی سائنسی دریافت سے تہلکہ مچ گیا اور انہیں اعزاز کے طور پر برطانیہ رائل سوسائٹی کا رکن بنایا گیا۔ اس زمانے میں یہ بہت بڑا اعزاز سمجھا جاتا تھا۔ ایک صحافی نے سوال کیا! ذرا یہ تو بتائیے کہ آپ کے اس دریافت سے ہمیں کیا فائدہ ہوگا؟ فیراڈے نے جواب دیا بجلی ایک بڑی دلچسپ چیز ہے مگر یہ محض ایک سائنسی عجوبہ ہے اور قبل ازوقت نہیں کہا جاسکتا کہ اس سے کیا فائدہ ہوگا۔ آپ لوگوں کو آخر فائدے کی کیوں کر پڑی ہے؟ معروف سائنسدان لوئیس پاسچر سے بھی پوچھاگیا ''تمہیں اپنی تحقیق سے کوئی مالی فائدہ ہواہے؟ انہوں نے بڑا خوبصورت جواب دیا ''جو سائنسدان مالی فائدہ کیلئے تحقیق کرتا ہے وہ علم کے نام پر ایک بدنما دھبہ ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ علم کی افادیت عملی زندگی میں ثابت ہوتی رہی ہے۔ افلاطون کی تعلیمات نے انسانی ذہن کو جلا بخشی اور اب تک پڑھایا جاتا ہے۔ نیوٹن کے دو سو برس بعد زمین پر سے اُڑنے والے ہوائی جہاز ایجاد ہوئے۔ آئن سٹائن کے نظریات نے ایٹمی توانائی کے حصول کو ممکن بنا دیا، اس طرح نہ جانے کل سلام، وائن برگ کے نظریات کی صداقت کس کس عملی میدان میں کس کس طرح کام آئے۔ اسی طرح لوئس پاسچر اور فیراڈے کے تجربات سے لوگ آج بھی مستفید ہورہے ہیں۔ تعلیم کا بنیای مقصد حصول مسرت کیلئے اہلیت پیدا کرنے کی تربیت ہے، نہ کہ کسی مالی فائدے کا حصول۔ ہر شے کی افادیت کو محض مالی منافع کیساتھ ناپا گیا تو پھر سماج کا سارا نظام تباہ ہوجائے گا اور دنیا صرف ایک تجارتی منڈی ہوکر رہ جائے گی۔ اس انداز نظر کی سب سے مایوس کن خرابی یہ ہے کہ اس میں واقعات وحالات کے اسباب اولیہ کو ملحوظ نہیں رکھا جاتا۔ سماج اس انداز نظر کے پیش نظر مادی ترقیوں کو معجزے کے طور پر تسلیم کر لیتا ہے اور ان مؤثرات اور عوامل کو قطعاً نظرانداز کر دیتا ہے جن پر ان تمام ترقیوں کی عمارت بلند ہوئی ہے۔ فائدہ پست ذہن کا پسندیدہ شغل ہے، کاملان فن دنیا سے محروم رہتے ہیں۔ رزق کا حصہ انہیں اپنے ہنر میں مل جاتا ہے اور وہ اپنے ہنر میں مست اور مگن رہتے ہیں۔ وہ لوگ جو مالی فوائد کیلئے تحصیل علم کرتے ہیں ان میں وہ انہماک نہیں ہوتا جو کاملان فن میں ہوتا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ مالی فائدہ یا افادیت پرستی یا خودغرضی کا سفر بڑا ہی بے رونق اور بے کیف سا سفر ہے۔ انسان ہر بات کو اگر فائدے کی نظر سے دیکھے تو کائنات سے کٹ کر رہ جائے۔ ہر بات تو انسان کی منفعت کیلئے نہیں، ہر وقت اپنے فائدے کے حوالے سے سوچنے والا انسان دوسروں کو صرف استعمال کرنا ہی جانتا ہے۔ وہ کسی کو کچھ فائدہ پہنچانا نہیں چاہتا اور اس طرح بے فیض ہوکر رہ جاتا ہے۔ ممکن ہے وقتی طور پر آپ نے اسے عروس کامیابی سے ہمکنار ہوتے دیکھا ہو لیکن یہی افادیت پرستی بالآخر اسے ذلت ورسوائی کے غاروں میں پھینک دیتی ہے، وہ اپنے ذاتی مقاصد کی خاطر تمام سچے اور ابدی اصولوں کا خون کر دیتا ہے۔ اس کی زندگی کا کوئی مقصد نہیں ہوتا، ہر نیا ''موقع'' اس کے گھٹیا ارادوں اور خواہشوں کی ٹوٹی ہوئی کشتی کا رخ موڑ دیتا ہے، اس کی حالت بھنور میں پھنسے ہوئے چوبی تختے کی سی ہوتی ہے، کبھی ادھر کبھی ادھر، لوگوں کا اس پر سے اعتماد اُٹھ جاتا ہے اور ایک دن نشان عبرت بن جاتا ہے۔