حکومت اور اپوزیشن کا عوام کو لاک ڈاؤن پر قائل کرنا مشترکہ ذمہ داری ہے۔ صوبائی وزرا

ویب ڈیسک: اپوزیشن سے مذاکرات کے لیے قائم کردہ کمیٹی کی پریس بریفنگ-

صوبائی وزیر شوکت یوسفزئی کا کہنا تھا کہ کل وزیراعلی نے اپوزیشن سے مذاکرات کے لیے کابینہ کمیٹی بنائی تھی۔
ملک میں کورونا صورتحال تشویشناک ہے،حکومت نے اپنی اجتماعات کینسل کر دئیے ہیں۔اپوزیشن کو بھی عوامی مفادات کی خاطر میں قائل کرنا تھا۔

شوکت یوسفزئی نے مزید کہا کہ ہمیں عوام کی حفاظت عزیز ہے جبکہ اپوزیشن کو مفادات عزیز ہے۔ عوام پی ڈی ایم کو مسترد کر چکی ہے۔ اپوزیشن کو جلسہ کرنے کی اجازت نہیں دے رہے۔اپوزیشن کو جلسہ کرنے سے زبردستی سے کسی کو نہیں روک سکتے۔اپنی مرضی سے اجتماعات کریں، لیکن قانون کی پاسداری ہم یقینی بنائیں گے۔ اگر عوام کو نقصان پہنچا تو ذمہ دار اپوزیشن ہوگی۔

ان کا کہنا تھا کہ اپوزیشن نے مذاکرات کو ٹکرا کر قابل تشویش عمل دہرایا۔ آج کے مذاکرات کا مقصد اپوزیشن کو کورونا صورتحال سے باخبر کرنا تھا۔ 21 نومبر کو اپوزیشن سے بڑا جلسہ کرکے دکھاتے، لیکن یہ وقت مناسب نہیں۔سیاست ہوتی رہے گی لیکن مفادات کا کھیل کھیلنا شرمناک ہے۔اپوزیشن نے کل کہا کہ مذاکرات کریں گے.اب بھی عوامی مفادات کی خاطر مذاکرات کے لیے تیار ہیں۔

وزیر صحت تیمور سلیم جھگڑا نے پریس بریفنگ میں کہا کہ کورونا دوسری لہر کے اثرات پہلی لہر سے زیادہ ہیں۔ اپوزیشن سے مذاکرات کا مقصد عوامی تحفظ تھا۔ سیاست دوسری ٹائم بھی ہو سکتی ہے، یہ وقت احتیاط کا ہے۔ اپوزیشن کی جانب سے عوام دشمن رویہ پر افسوس ہے۔اللہ نہ کریں کہ اپوزیشن کو کورونا سے نقصان پہنچے۔پہلے مکمل لاک ڈاؤن کا طعنہ دیتے تھے اب منافقت کر رہے ہیں۔حکومت اور اپوزیشن کا عوام کو لاک ڈاؤن پر قائل کرنا مشترکہ ذمہ داری ہے۔

وزیر صحت نے مزید کہا کہ پہلی لہر میں اپوزیشن نے سپورٹ کیا اب نہیں کر رہے۔ تشویش ناک صورتحال کے باوجود اپوزیشن کا مذاکرات کے لیے نہ آنا انتہائی افسوس ناک ہے۔