حویلیاں طیارے حادثےکی تحقیقات 4 سال بعدمکمل ۔رپورٹ جاری

ویب ڈیسک(اسلام آباد) پی آئی اے طیارہ حادثہ حویلیاں کی تحقیقات چار سال بعد مکمل کر لی گئی ہے ۔ اے آئی بی ائیر کرافٹ ایکسیڈنٹ انوسٹی گیشن بورڈ نے طیارہ حادثے کی رپورٹ جاری کر دی ہے۔رپورٹ کے مطابق بدقسمت اے ٹی آر طیارے کا ایک انجن بند ہوگیا تھا جبکہ دوسرے کا بلیڈ ٹوٹا ہوا تھا، ایٹی آر طیارے کے انجن کو10 ہزار گھنٹے مکمل ہونے پر اوورہال نہیں کیا گیا تھا۔اے ٹی آر طیارے کے انجن کا بلیڈ پشاور سے چترال جاتے ہوئے ٹوٹا تھا۔
دسمبر 2016 کو ہونے والے حادثہ میں جنید جمشید اور عملے سمیت 48 مسافر جاں بحق ہوئے تھے۔تحقیقاتی ٹیم نے شبہ ظاہر کیا ہے کہ پاور ٹربائن اسٹیج ون بلیڈ اور او ایس جی پن چترال جانے کے دوران ہی ٹوٹ چکے تھے۔مگر پھر بھی اے ٹی آر طیارے کو اسی حالت میں چترال سے واپس پشاور کے لیئے روانہ کردیا گیا تھا۔
تحقیقاتی رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ چترال سے اسلام آباد جاتے ہوئے طیارہ حادثے کا شکار ہوا، دوران پرواز انجن بلیڈ، پن کے ٹوٹنے سے پنکھے کی رفتار کم ہوئی، پروپیلر کی رفتار کم ہونے سے اس کا الیکٹرانک پینل خراب ہوگیا تھا۔رپورٹ کے مطابق طیارہ اڑانے والے پائلٹ نے اس سے پہلے ایسی خرابی نہیں دیکھی تھی جبکہ طیارے کی آخری مینٹینس کینیڈا میں ہوئی تھی۔بدقسمت طیارے کے پائلٹس نے بالکل ایک نئی قسم کی خرابی دیکھی جو اس سے پہلے اے ٹی آر طیاروں میں کبھی نہیں دیکھی گئی۔