حزب اختلاف عوامی مفاد میں اپنے مؤقف پر نظرثانی کرے

پاکستان ڈیمو کریٹک موومنٹ نے جلسوں پر پابندی کے حکومتی فیصلے کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ جلسے اپنے شیڈول کے مطابق ہوں گے، ہم حکومتی پابندی کو تسلیم نہیں کرتے۔حزب اختلاف کا کہنا ہے جلسے و جلوسوں کا انعقاد اپنے طے شدہ وقت اور دن کے مطابق ہو گا، ہمیں کورونا وائرس کے پھیلائو کی آڑ میں یہ پابندی قبول نہیں۔ امر واقع یہ ہے کہ حکومت کی جانب سے نوشہرہ میں ایک بڑے اجتماع کا پروگرام منسوخ کرکے عملی طور پر اجتماعات پر پابندی کی گئی ہے لیکن حزب اختلاف سیاسی اجتماعات پر پابندی قبول کرنے کیلئے تیار نہیں، اب اگر حکومت قوت کے استعمال سے اجتماعات روکنے کی کوئی تدبیر کرے گی تو حزب اختلاف اسے حکومت کے اجتماعات سے دباؤ میں آنے بلکہ خوفزدہ ہونے سے تعبیر کرے گی اور ساتھ ہی ساتھ اسے جمہوری اور بنیادی حقوق کی خلاف ورزی سے تعبیر کیاجائے گا۔ بہرحال حزب اختلاف کیا سوچ رکھتی ہے اور اس کا ردعمل کیا ہونا ہے اس سے قطع نظر صورتحال یہ ہے کہ اجتماعات کے باعث کورونا کے پھیلاؤ میں اضافے کا خطرہ ہے اور ماہرین اس امر پر زور دے رہے ہیں کہ جتنا ممکن ہوسکے اجتماعات سے گریز اور احتیاطی تدابیر اختیار کئے جائیں، صورتحال یہ ہے کہ کورونا تیزی سے پھیل رہا ہے اور خدشہ ہے کہ گزشتہ کے مقابلے میں اس دوسری لہر کے دوران زیادہ اموات ہوں، اس صورتحال میں پی ڈی ایم کی جانب سے جلسے جاری رکھنے کا اعلان تشویش کا باعث امر ہے، سیاست کی نہیں ہمیں لوگوں کی فکر کرنے کی ضرورت ہے۔ حزب اختلاف کے پاس سیاسی اجتماعات ہی واحد حکمت عملی نہیں اور لوگوں کی جانوں کو خطرے میں ڈال کر خواہ مخواہ سیاسی اجتماعات کا انعقاد ضروری نہیں، حزب اختلاف کے اجتماعات سے صرف اجتماع کے شرکاء ہی خطرات سے دوچار نہیں ہوںگے بلکہ ان کی واپسی کے بعد پورا معاشرہ داؤ پر لگ جانے کا خدشتہ ہے جس کی کسی طور اجازت نہیں دی جاسکتی۔ حزب اختلاف کو چاہئے کہ اب خود اپنی ہی طے کردہ حکمت عملی کے تحت استعفیٰ دینے کا حربہ استعمال کریں۔ یہ زیادہ مؤثر نظر آتا ہے جس طرح کی صورتحال درپیش ہے اس میں حکومت دباؤ میں آئے یا نہ آئے کورونا کا پھیلاؤیقینی ہے۔ حزب اختلاف عوام کے حقوق اور عوام ہی کے نام پر اجتماعات کے ذریعے کورونا کے ممکنہ پھیلاؤ کا ذریعہ بننے کی بجائے متبادل حکمت عملی اپنائے اور عوام کو سیاست کی بھینٹ چڑھانے سے گریز کرے تو یہ زیادہ بہتر ہوگا۔ عوامی مفاد کا تقاضااجتماعات نہیں احتیاط اور فاصلہ رکھنے کی پابندی ہے، حزب اختلاف حکومت کی اپیل اور پابندی پر نہ سہی عوامی مفاد اور عوام کے تحفظ کیلئے اپنی پالیسی اور اجتماعات کے انعقاد پر نظرثانی کرے۔
جدید بستی بسانے کی نوید
وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا محمود خان کی پشاور ماڈل ٹائون کے مجوزہ منصوبے کیلئے زمین کی خریداری اور انجینئرنگ ڈیزائن سمیت تمام مراحل پر بیک وقت کام شروع کرنے اور مقررہ ٹائم لائنز کے مطابق منصوبے پر پیش رفت کی ہدایت صوبے میں سرکاری ہاؤسنگ سکیم میں رہائش کے خواہش مندوں کیلئے خوشخبری سے کم نہیں۔ امر واقع یہ ہے کہ صوبائی دارالحکومت میں موزوںسرکاری رہائش سکیموں کی کمی بلکہ تقریباً نہ ہونے کے باعث لوگ زرعی اراضی اور ناموزوں مقامات پر نجی ہاؤسنگ سکیموں کے نام پر لوٹ مار کا شکار ہونے پر مجبور ہیں اس طرح کی صورتحال میں ایک بڑی اور پرآسائش سرکاری ہاؤسنگ سکیم پر مئی تک کام شروع کرنے کا عندیہ صوبے کے عوام کیساتھ ساتھ کاروباری برادری کیلئے بھی اطمینان کا باعث امر ہے۔ پشاور ماڈل ٹاؤن میں جملہ ضروریات اور معاشرے کے ہر طبقے کی رہائشی ضروریات کا احاطہ نظر آتا ہے اور مرکزی شہر سے باہر واقع ہونے کی بنا پر آبادی کی اس طرف منتقلی سے آبادی کے دباؤ میں کمی کے علاوہ ٹریفک رش کا مسئلہ بھی کسی حد تک حل ہوسکتا ہے۔ بی آر ٹی کی توسیع اور نئے روٹس چلانے کے مواقع پہلے ہی میسر ہیں البتہ بجلی وگیس کے حوالے سے منصوبہ بندی ترجیحی بنیادوں پر ہونی چاہئے، سولر سسٹم پر توجہ ہر دو مسائل کے حوالے سے مددگار ثابت ہوسکتا ہے۔ توقع کی جانی چاہئے کہ متعلقہ تمام ادارے وزیراعلیٰ کی ہدایت پر عملی کام شروع کرنے میں اپنی ذمہ داریوں کو جلد سے جلد نبھائیں گے اور صوبائی حکومت طویل عرصے سے التواء کا شکار اس مجوزہ جدید بستی کو بسانے کا خواب پورا کرنے کے قابل ہوگی۔