نہ تڑپنے کی اجازت ہے نہ فریاد کی ہے

میر تقی میر نے تو اپنی سادگی کا اظہار کرتے ہوئے جو بات کی تھی وہ اپنی جگہ مگر یہ جو صوبے کے مختلف حصوں سے ان دنوں گیس کی کمی کی شکایات موصول ہو رہی ہیں، ان کے بارے میں تو چند ہفتے قبل ہی سرکار نے اعلان فرما دیا تھا کہ اب کی بار گیس کی قلت اس قدر شدید ہوگی کہ لوگوں کو صرف کھانا پکانے کیلئے ہی مل سکے گی، مگر اب کیا کیا جائے کہ کوہاٹ کی خواتین نے گزشتہ روز گیس شیڈنگ کیخلاف مظاہرہ کرتے ہوئے روڈ بھی بلاک کر دیا تھا اور ان مشتعل خواتین نے علاقے سے منتخب ارکان اسمبلی کیخلاف نعرے بازی بھی کی۔ ان خواتین کا کہنا تھا کہ گیس پریشر کم ہونے کی وجہ سے بچے ناشتہ کئے بغیر ہی بھوکے سکول چلے جاتے ہیں، کوہاٹ بھی ان علاقوں یعنی لکی مروت اور ملحقہ علاقوں میں شامل ہے جہاں سے گیس کے ذخائر دریافت ہوئے ہیں اور سوشل میڈیا پر ان گیس سے مالامال علاقوں کے ایسے حصے تصویری بلکہ ویڈیو کی جھلکیوں کیساتھ سامنے آتے رہتے ہیں یعنی وہاں کے لوگ انہیں سوشل میڈیا کے مختلف ایپلیکیشنز کے ذریعے وائرل کرتے رہتے ہیں جہاں زمین سے خارج ہونے والی گیس جلتی دکھائی دے رہی ہوتی ہے اور ان پر جو کیپشن یعنی عنوانات ساتھ میں شیئر کی جاتی ہیں ان سے یہی پیغام ملتا ہے کہ یہ وہ قدرتی گیس ہے جو ضائع تو ہو رہی ہے مگر ان کو ''قابو'' کرنے کا حکومتی سطح پر کوئی اہتمام یا انتظام نہیں کیا جارہا، ظاہر ہے جب قدرتی تحفے کو مربوط انداز میں کنٹرول کرکے عوام کو ان سے استفادہ کرنے کے مواقع فراہم نہیں کئے جائیں گے تو یہ ذخائر یونہی ضائع ہوتے رہیں گے، اس حوالے سے اگرچہ کوہاٹ سے لکی مروت تک پھیلے ہوئے گیس کے ذخائر کو آئین میں دئیے گئے قوانین کے مطابق متعلقہ علاقوں کے عوام کو اصولی طور پر مفت نہ سہی مگر کم قیمت پر تو مہیا کیا جانا چاہئے، لیکن ایسا کرنا تو درکنا، ان علاقوں کے مکینوں کو بھی اگر گیس کی کمی کی شکایت ہی رہے تو پھراس پر کسی تبصرے کی کیا گنجائش رہ جاتی ہے؟ یہ تو وہی صورتحال بنی نظر آتی ہے کہ جس دور میں مالاکنڈ پن بجلی گھر (جبّن) سے بجلی حاصل کرکے پنجاب کے بعض حصوں تک مہیا کی جاتی تھی تو اس بجلی گھر کے ملحقہ گاؤں اس دور میں لالٹین اور مٹی کے دئیے جلا کر رات کے وقت وہاں کے مکین حسرت بھری آنکھوں سے جبّن پن بجلی گھر کی آنکھوں کو خیرہ کر دینے والے برقی قمقموں کو دیکھ کر آہیں بھرتے رہتے تھے، اب وہی صورتحال خیبر پختونخوا کے گیس ذخائر رکھنے والے علاقوں کے مکینوں کیساتھ ہے، جو آئین میں دئیے گئے حقوق کی پامالی پر نوحہ کناں رہتے ہیں، آئین واضح طور پر اس بات کی ضمانت دیتا ہے کہ بجلی اور گیس کے ذخائر جہاں موجود ہیں، ترجیحی بنیادوں پر پہلے اس صوبے کی ضروریات پوری کی جائیں گی اور اس کے بعد ان قدرتی وسائل سے ملک کے دوسرے علاقے مستفید ہوں گے، مگر ہمارے ہاں آج تک اس آئینی تقاضے کو درخور اعتناء نہیں سمجھا گیا۔
اب حالیہ دو روز کی بارش کے بعد تو سردی کی جس شدید لہر نے عوام کو اچانک گھیر لیا ہے اور لوگ اچانک ہی اپنے گرم کپڑے نکالنے پر مجبور ہوئے، اس سے بھی ایک ماہ پہلے سے مختلف علاقوں میں گیس کی قلت کا رونا رویا جارہا تھا بلکہ حقیقت تو یہ ہے کہ گرمی کے دنوں میں بھی دن رات کے مختلف اوقات میں گیس کے کم پریشر کی شکایات عام تھیں، تاہم چونکہ موسم گزارا کررہا تھا اس لئے گھروں میں کھانا وغیرہ پکانے کیلئے ایک شیڈول بنا کر گھریلو خواتین اپنا کام چلا رہی تھیں، اسی دوران سرکار والا مدار کی جانب سے یہ اعلان بھی سامنے آیا کہ اس بار سردی کے دنوں میں گیس اتنی بھی شاید نہ ملے کہ چولہے تک گرم ہو سکیں، اب اس وقت صورتحال کچھ یوں بھی ہے کہ چپلی کباب کی اکثر دکانوں پر گیس استعمال کرنے کی بجائے ایک بار پھر کڑاہی گرم کرنے کیلئے لکڑیاں استعمال کی جارہی ہیں، دیگر ہوٹلوں پر کیا صورتحال ہے اس بارے میں ہمیں زیادہ نہیں معلوم اور گھروں میں بھی صبح، دوپہر، شام کے اوقات میں کم پریشر کی شکایات عام ہیں، جبکہ رات تقریباً نو ساڑھے نو بجے کے بعد سے لیکر فجر تک گیس مکمل طور پر غائب ہوجاتی ہے۔ بعض علاقوں سے تو فجر کے اوقات میں مساجد میں گرم پانی کی عدم دستیابی کی شکایات بھی سامنے آرہی ہیں، مگر سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ جب عوام کو یہ ''خوشخبری'' پہلے ہی سنا دی گئی تھی کہ اب کی بار گیس بہ مشکل کھانا پکانے کیلئے بھی مل جائے تو سجدۂ شکر بجا لائیں، پھر ہم اس موضوع پر کالم لکھ کر عوام کا وقت کیوں برباد کررہے ہیں؟ سوچنا تو پڑے گا ناں، مگر ہم بھی کیا کریں، ہم اس بری عادت سے بہیترا جان چھڑانے کی کوشش کرتے ہیں کہ خواہ مخواہ عوام کے غم میں دبلا ہونے کی ضرورت آخر کیا ہے، مگر وہ کہتے ہیں ناکہ عادت بد نہ رود تا لب گور، تو عوام کے مسائل کو اُجاگر کرنے کی یہ جو لت ہمیں پڑی ہوئی ہے اس سے چھٹکارا پانے کی راہ بھی تو سجھائی نہیں دیتی، یوں سمجھیں کہ اس کمبل کو ہم چھوڑنا چاہتے ہیں مگر یہ کم بخت ہی ہماری جان نہیں چھوڑ رہا، اس لئے اسے ہماری مجبوری سمجھ کر ہمیں معاف کر دیجئے گا کیونکہ اگر ہمیں عوام کے مسائل کا روگ لگا ہوا ہے تو حکمرانوں کو بھی بھولنے کی بیماری لاحق ہے اور وہ انتخابی عمل کے دوران جو سبزباغ عوام کو دکھاتے ہیں وہ دراصل ''کالاباغ'' ہوتے ہیں، جن کے اندر وعدوں کے اندھیرے دکھائی نہیں دیتے۔
میں کس نظام میں جیتا رہاہوں اتنے برس
خود اپنے آپ سے نفرت سی ہوگئی ہے مجھے