خاندان تہذیب کا مرکزی نکتہ ہے

آج ذرا گھر کی بات ہو جائے! جی ہاں آپ کے گھر کی جہاں آپ اپنے اہل وعیال کیساتھ رہتے ہیں۔ ایک طرف آپ ہوتے ہیں اور دوسری طرف آپ کی شریک حیات اور دو چار عدد بچے۔ گھر کا ماحول کیسا ہے، آپ کی وہاں کیا حیثیت ہے، کتنا احترام ہے، آپ کی بات مانی جاتی ہے یا پھر گھر کی مرغی دال برابر والی صورتحال ہے۔ ہر گھر کے اپنے انداز ہوتے ہیں، مغرب اور مشرق کے اپنے اپنے انداز ہیں، ذرا اس حوالے سے بھی بات ہو جائے تو بہتر ہے۔ مغرب میں مادرپدر آزادی ہے، سب کے حقوق کا غلغلہ مچا ہوا ہے بچے کو والد نے دو ہاتھ لگا دئیے تو معاملہ تھانے تک جا پہنچتا ہے۔ بچے بچیاں رات دو بجے آرہی ہیں، والدین مشورہ دے سکتے ہیں کہ بیٹا اتنی دیر سے آنا کسی طور بھی مناسب نہیں لیکن یہ نہیں پوچھ سکتے کہ جناب کہاں رہے یہ گھر ہے یا ہوٹل کہ جب جی چاہا نکل گئے اور جب مرضی ہوئی منہ اُٹھائے آگئے۔ کچھ ہمارا بھی خیال کیجئے آخر ہم بھی آپ کے کچھ لگتے ہیں۔ اس صورتحال میں ہمارے لوگ پھنس جائیں تو ان کی زندگی عذاب ہوجاتی ہے، مغرب کی اس حد سے بڑھی ہوئی آزادی نے وہاں خاندان کو جڑ سے اُکھاڑ کر پھینک دیا ہے۔ گھر گھر نہیں رہے لوگ مکانوں میں رہتے ہیں، ایک مکان میں رہتے ہوئے ایک دوسرے سے بے خبر ہیں، بھائی بہن کی ذاتی زندگی میں مداخلت نہیں کرسکتا، باپ اپنی حد سے آگے نہیں بڑھ سکتا اور یہ حد بھی بڑی محدود ہے، یہ تو تصویر کا ایک رخ ہے۔ خاندان تو ایک ادارہ ہے جہاں مل جل کر رہنا سیکھا جاتا ہے، دوسروں کی رائے کا احترام کرنا سیکھا جاتا ہے، بہت سی ناپسندیدہ باتوں کو برداشت کرنا پڑتا ہے، گھر کے افراد میں رواداری نہ ہو تو زندگی عذاب ہو جاتی ہے۔ ہمارے معاشرے میں صورتحال بالکل مختلف ہوتی ہے، ہم باہر ہیرو ہوتے ہیں اور گھر میں زیرو۔ بیوی بچے تو اپنی ملکیت ہیں، دن بھر محنت مشقت کرتا ہوں، کماتا ہوں ان سب کو کھلاتا ہوں، اب انہوں نے میری ہر بات ماننی ہے، اس گھر میں میرا حکم چلے گا، میری رائے سب پر مقدم ہے۔ بیوی بچوں کی کیا مجال ہے کہ میرے ساتھ کسی بھی بات پر اختلاف کریں۔ بس اس سوچ کے آتے ہی کھیل بگڑ جاتا ہے، ایک انتہا مغرب کی آپ نے دیکھی اور دوسری انتہا یہ ہے اور دونوں غلط ہیں سچائی اور سیدھا راستہ ان دونوں کے درمیان ہے۔ زندگی ایک سفر ہے، ہر کوئی اپنی باری پر آتا ہے اور سٹیج پر اپنے حصے کا کردار ادا کرکے رخصت ہو جاتا ہے۔ آپ یاد کریں کبھی آپ بیٹے بھی تھے، آج باپ کا کردار ادا کررہے ہیں۔ اپنے والد صاحب کا رویہ ذہن میں لائیں ان کی تربیت کے انداز یاد کریں، اگر کسی جگہ غلطی نظر آتی ہے تو اب ان غلطیوں سے بچنے کی کوشش کرو۔ اگر کوئی بچپن کی محرومیاں ہیں تو کوشش کرو کہ آپ کے بچے ان محرومیوں کا شکا ر نہ ہوں۔ ول ڈیورانٹ نے خاندان کی کیا اچھی تشریح کی تھی۔ وہ کہتا ہے کہ خاندان تہذیب کا مرکزی نکتہ ہے، انسانی تہذیب کا وجود خاندان کے بغیر ممکن ہی نہیں ہے۔ اگر ہم اس عظیم دانشور کی بات مان لیں تو پھر ہمیں یہ بھی ماننا پڑے گا کہ آج مغرب میں خاندان بکھر رہا ہے تو ان کی تہذیبی اقدار بھی خطرے میں ہیں۔ ہم نے اپنے یار غارشاہ جی کے سامنے یہ مسئلہ رکھا تو انہوں نے بڑے مزے کی بات کی! یار ہم نے بھی بڑا عجیب وغریب قسم کا بچپن گزارا ہے، ہم نے ہمیشہ یہ منظر دیکھا کہ جب بھی والد صاحب گھر آتے تو ان کی تیوری چڑھی ہوتی۔ سب بچے انہیں دیکھ کر سہم جاتے ہم بہن بھائی ایک کونے میں دبک جاتے۔ والد صاحب کی آمد اس بات کا اعلان ہوتا کہ اب ہماری بات چیت ختم، کھیلنے کی آزادی ختم، اگر کسی نے اونچی آواز میں بات کی تو اس کی شامت آجائے گی، ہماری والدہ صاحبہ ان کے آنے سے تھوڑی دیر پہلے یہ اعلان کردیتی کہ بچو والد صاحب کے آنے کا وقت ہو چکا ہے، اب آرام سے بیٹھ جاؤ۔ پھر ہماری طرف جھک کر بڑے رازدارانہ لہجے میںکہنے لگے آپ سے کیا پردہ آج ہم اپنی بیوی کے ماتھے پر بل دیکھتے ہیں تو گھر کا کوئی کونا کھدرا ڈھونڈتے ہیں۔ یہی سوچتے ہیں کہ اب بچوں کے سامنے روز روز کی بک بک اچھی نہیں لگتی اور پھر بچے ہمیں کب خاطر میں لاتے ہیں، ہمارے گھر ہونے یا نہ ہونے سے انہیں کوئی فرق نہیں پڑتا۔ سب کیساتھ اپنی دوستی ہے بچے بھی گھر میں خوش رہتے ہیں آپ تو جانتے ہیں کہ آج کل باہر کا کیا ماحول ہے۔ ہم نے انہیں گھر میں ایسا ماحول دے رکھا ہے کہ وہ بھی سوائے ضروری کام کے گھر سے باہر نہیں نکلتے، سیانے کہتے ہیں کہ جسے گھر میں پیار نہیں ملتا وہ ساری دنیا گھوم کر بھی پیار سے محروم رہتا ہے۔ گھر سے ملنے والا پیار ہی انسان کی شخصیت سازی کا بنیادی نکتہ ہے ورنہ ساری عمر کی محرومیاں مقدر ہوجایا کرتی ہیں۔ نفرت کو نفرت سے ختم نہیںکیا جاسکتا یہ پیار ہی ہے جو ہر قسم کی نفرتیں ختم کردیتا ہے زندگی شبنم کے قطروں کی طرح خوشگوار ہوجاتی ہے۔