22 نومبر کو پی ڈی ایم کا جلسہ ہوکر رہیگا- پی ڈی ایم کے انفارمیشن سیکرٹریز

ویب ڈیسک (پشاور): پی ڈی ایم کے انفارمیشن سیکرٹریز کی پریس کانفرنس، جلیل جان کا کہنا تھا کہ 22 تاریخ کو پی ڈی ایم کا جلسہ ہوکر رہیگا، میڈیا سے گزارش ہے کہ روایات کے مطابق غیرجانبدارانہ فرائض انجام دے، اس مشکلات پیش آرہی ہیں صوبائی حکومت کی وجہ سے، حکومتی ایما پر ہمارے بینرز بورڈز اتارے جارہے ہیں، ہمیں دھمکیاں بھی دی جارہی ہیں, جلسہ نہ کرنے کے لیے، حکومت میڈیا پر کہتی ہے جلسے میں روکاوٹ نہیں بنیں گے, کر کچھ اور رہے ہیں۔
اختیار ولی نے کہا کہ میڈیا کو جلسے میں کوریج کی باقائدہ دعوت دی جاتی ہے، جلسہ 22 کو ہر صورت ہوگا، تمام جماعتوں کی قیادت جلسے کے فیصلے پر قائم ہے، کل کا مریم بی بی کا جلسہ بھی پی ڈی ایم کے سلسلے کی کڑی ہے، جیل جانے مقدمے بھگتنے سے نہیں ڈرتے، اگر حکومت زور آزمائی کرنا چاہتی ہے تو ہم تیار ہیں، اس حکومت کو رخصت کرنا ضروری ہوگیا ہے، کووڈ 19 سے زیادہ خطرناک یہ حکومت یعنی کووڈ 18 ہے، ہمیں اپنا سیاسی کردار ادا کرنا ہے، اگر عوامی اجتماع پر پرچہ کرنا ہے تو پہلے عمران خان اور محمود خان کے جلسے کرنے پر کیے جائیں، ایسی کمزور حکومت اور ایسا کمزور وزیر اعظم دنیا کی تاریخ میں نہیں آیا، روٹی, آٹا , گھی , چاول سب مہنگا ہوگیا، گھر دینے کا کہہ کر چھت چھینی گئی، نوکریوں کا کہہ کر بے روزگار کیا گیا،
روبینہ خالد کا کہنا تھا کہ 22 نومبر کاجلسہ حکومت کے خلاف ریفرنڈم ثابت ہوگا، حکومت نےراستہ روکنے کی کوشش کی تو بھر پور ردعمل سامنے آئے گا.