p613 187

تعلیمی اداروں کی بندش کا معاملہ

وفاقی وزارت تعلیم کی کورونا کی دوسری لہر کے پیش نظر تعلیمی اداروں کی بندش کے حوالے سے صوبوں کو بھجوانے والی تجاویز میں سفارش کی گئی ہے کہ تعلیمی اداروں کو24نومبر سے31جنوری تک بند کردیا جائے۔ 24نومبر سے پرائمری سکولز بند کر دئیے جائیں، 2دسمبر سے مڈل سکولز بند کیے جائیں،15 دسمبر سے ہائر سیکنڈری سکولز بند کیے جائیں۔ تجویز دی گئی ہے کہ اساتذہ اداروں میں حاضری یقینی بنائیں اور آن لائن ایجوکیشن کیلئے تیاری کی جائے، مقامی طور پر ٹیلی اسکول، ریڈیوسمیت آن لائن ایجوکیشن سسٹم کو لاگو کیا جائے۔میٹرک، انٹرمیڈیٹ امتحانات جون2021میں لیے جائیں۔خیال رہے کہ پاکستان میں کورونا کی دوسری لہر میں شدت آنے کے بعد نیشنل کمانڈ اینڈ آپریشن سینٹر نے سرکاری دفاتر میں50فیصد عملہ بلانے کی ہدایت کی ہے۔اس کے علاوہ20نومبر سے انڈور شادی ہالز پر بھی پابندی عائد کی جارہی ہے ۔ وزیراعظم عمران خان کہہ چکے ہیں کہ ملک مکمل لاک ڈائون کا متحمل نہیں ہوسکتا، ماسک پہنیں اور احتیاط کریں تاکہ کاروبار مکمل بند نہ کرنا پڑے۔ دریں اثناء خیبر پختونخوا کے مختلف اضلاع سے کورونا کے مزید237مثبت کیس رپورٹ ہوئے ہیں۔ نئی تشخیص کے بعد صوبے میں کورونا میں تاحال مبتلا افراد کی تعداد2272ہوگئی ہے ۔ گزشتہ چوبیس گھنٹے کے دوران بھی143افراد کی صحت یابی کا دعویٰ کیا گیا ہے ۔اگرچہ کسی قیمت پر بھی بچوں کی تعلیم میں تعطل اور پہلے سے متاثرہ تعلیم کو سکولوں کی مزید بندش کے ذریعے رہی سہی کسر بھی پوری کرنے کی حمایت نہیں کی جاسکتی لیکن جہاں بچوں کی زندگی اور مستقبل کا مشکل سوال آجائے وہاں تعلیم کی قربانی ہی پہلا اور آخری ولازمی امر رہ جاتا ہے ۔موسم میں خنکی آتے ہی کورونا وائرس کیلئے سازگار ماحول میسر آنے کے باعث آمدہ دنوں میں خدانخواستہ اس لہر میں شدت کا امکان ظاہر کیا جارہا ہے۔ ماہرین اس لہر کی شدت کے حوالے سے متفق ہیں، اس طرح کے حالات میں بچوں کی زندگیوں کے تحفظ کیلئے سکولوں کی بندش کی تجویز دی گئی ہے، بہرحال اس حوالے سے حتمی مشاورت باقی ہے جس میں پوری طرح مباحثہ کے بعد صوبائی وزرائے تعلیم کوئی فیصلہ کریں گے جو بھی فیصلہ ہو اتفاق رائے سے اور قومی جذبے کو ملحوظ خاطر رکھ کر کیا جائے تو بہتر ہوگا۔ جہاں تک آن لائن کلاسز اور دیگر ذرائع سے بچوں کی تعلیم جاری رکھنے کا سوال ہے سوائے اس کے کہ اولاً ہم اس کے عادی نہیں، دوم اور سب سے مشکل امر نیٹ کی سہولت ہر طالب علم کو میسر نہ ہونے کا ہے۔ ایک اور سنجیدہ مسئلہ ہر گھر میں ہر طالب کو والدین اور بڑے بہن بھائیوں کی اساتذہ کے برابر کی مہارت وتجربہ اور ان کو پڑھانے اور رہنمائی کی سہولت میسر نہیں۔ یہ سارے سنجیدہ مسائل ہیں اس کیلئے اگر اساتذہ ریٹائرڈ خواتین وحضرات اور طالب علم رضا کارانہ طور پر اپنے ارد گرد کے بچوں کی تعلیم میں مدد کریں جن کے پاس نیٹ کی سہولت موجود ہے وہ اپنے پڑوس کے بچوں کو بھی ان کی کلاسز کے دورانیہ میں ہوم ورک وکلاس ورک ڈائون لوڈ کرنے اور ان کی رہنمائی کو اخلاقی وقومی فریضہ سمجھ کر خوش اخلاقی سے نبھائیں تو یہ بڑا کارثواب اور قومی خدمت ہوگی۔ ہم سمجھتے ہیں کہ وباء کے دن قدرت کی طرف سے ہم سب کا امتحان ہیں اس دوران جتنی بھی نیکی میں تعاون کا مظاہرہ کیا جائے تو مالک کائنات کی رحمت متوجہ ہوگی اور اجتماعی بھلائی کی سوچ اورعمل دینی ودنیاوی دونوں ہی لحاظ سے نافع ثابت ہوگا۔ ہمارے تئیں سب سے زیادہ توجہ میٹرک اور انٹر میڈیٹ کے طالب علموں کی تعلیم پر دینے کی ضرورت ہے، انہی دوجماعتوں کے نمبروں اور تعلیم پر ان کے مستقبل کا دارومدار ہوتا ہے اس لئے ان کے حوالے سے خصوصی انتظامات اور فیصلے کی ضرورت ہے۔جن جن علاقوںمیں انٹر نیٹ کی سہولت میسر نہیں ان کیلئے سرکاری سطح پر اسباق ودروس جماعت کا کام اور گھر کا کام کروانے کا کوئی مربوط نظام وضع کیا جائے تاکہ اس سہولت سے محرومی کے باعث طلبہ کی تعلیم متاثر نہ ہو۔سیلولر کمپنیوں کو سٹوڈنٹس پیکجز متعارف کرانے پر آمادہ کیاجائے اور تعلیمی گھنٹوں کے دوران طالب علموں کو سستے داموںنیٹ کی فراہمی کا بندوبست کیا جائے۔ سکولوں اور کالجوں کو کورس ورک کی فراہمی کیلئے ہنگامی بنیادوں پر انتظامات کئے جائیں اور سرکاری ونجی سکولوں کی سرکاری سطح پر نگرانی وسر پرستی کر کے طلبہ کیلئے گھروں سے تعلیم جاری رکھنے کا عمل آسان بنایا جائے۔