جلسے اور دعوئوں سے عوام مطمئن نہیں ہوسکتے

امیر جماعت اسلامی پاکستان سینیٹر سراج الحق نے کہا ہے کہ موجودہ سلیکٹڈ حکومت اور پی ڈی ایم دونوں کا نظریہ کرسی اور لوٹ مار ہے۔ جماعت اسلامی کا دستور اس ملک میں حقیقی اسلامی نظام، عوام کی خدمت، اُن کو روزگار مہیا کرنا اور مہنگائی کا خاتمہ ہے اس لئے جماعت اسلامی نے پی ڈی ایم میں شمولیت اختیار نہیں کی۔ عوام کیلئے مشکل امر یہ ہے کہ وہ کس کی سنیں کس پر یقین کریںیہاں تو خضر کی صورت میں بھی عوام کو رہزنوں ہی سے واسطہ رہا ہے، خاص طور پر خیبرپختونخواکے عوام نے تقریباً ہر سیاسی جماعت کو بدل بدل کر تخت پر بٹھایا لیکن افسوس عوامی مسائل میں کمی نہ آسکی۔ خود جماعت اسلامی بھی خیبرپختونخوا میں دوحکومتوں میں شریک اقتدار رہی ہے لیکن عوامی مسائل کے حوالے سے کوئی قابل ذکر کام نہیں کرپائی، اب تو عالم یہ ہوگیا ہے کہ عوام سیاسی جماعتوں سے مایوس اور تنگ آچکے ہیں جو اس نظام کیلئے ہی خطرے کا باعث ہے۔ سیاسی جماعتوں کوعوام کا نام لیکر اپنا الو سیدھا کرنے کا رویہ ترک کر کے عوام کے مسائل کے حل میں باہم اور حکومت خواہ جس کی بھی ہو ایک دوسرے سے تعاون کرنے کا میثاق کرنا ہوگا جو عوام کے مسائل حل نہ کرسکیں ان کو حکومت میں رہنے کاکوئی حق حاصل نہیں اور سیاسی جماعتوں کا عوام انتخابات میں احتساب کر ہی لیں گے ۔حکومت کوسیاسی جماعتوں کے جلسوں سے خطرہ ہو نہ ہو مہنگائی اور عوام کے مسائل میں روزبروز اضافہ بیروزگاری اور کاروبار کے مواقع میں آئے روز کسی نہ کسی وجہ رکاوٹ اور کمی آنا سنگین مسئلہ ہے جس پر جتنی جلد توجہ دی جائے اتنا بہتر ہوگا۔
بحالی مرکز، فرار سے بے خبر حکام
پشاور کے مختلف علاقوں سے چند روز قبل حراست میں لئے گئے گداگر اور نشے کے عادی 5 درجن سے زائد افراد کا چوکیدار کی آنکھوں میں مرچیں ڈال کر فرار ہونا بحالی مرکز میں حفاظتی انتظامات میںکمی بلکہ نہ ہونے پر دال ہیں۔ فرار ہونے والے افراد کی تعداد80بتائی گئی ہے جنہیں جمعہ کے روز نشے سے نجات کیلئے بحالی مرکز میں لایا گیا تھا، سوشل ویلفیئر کے حکام اتنے لاعلم اور لاتعلق کیسے ہوسکتے ہیں کہ ان کے محکمے میں اتنا بڑا واقعہ رونما ہوا اور ان کو اس کی خبر ہی نہیں یہ اس طرح کے منتظمین ہی ہوتے ہیں جن کی سنگین غفلت اور بد انتظامی کے باعث یہ واقعہ پیش آیا اگر ان کو ادراک ہوتا اور وہ انتظامات کی اہلیت وصلاحیت کے حامل ہوتے تو ممکن ہے اس طرح کا واقعہ رونما ہی نہ ہوتا۔ بہرحال فقیر آباد پولیس سٹیشن سے اس واقعہ کی تصدیق کرتے ہوئے بتایا گیا ہے کہ بحالی مرکز سے80افراد کے فرار ہونے کیخلاف درخواست درج کرا دی گئی ہے۔وزیراعلیٰ خیبرپختونخوااور متعلقہ صوبائی وزیر کو بحالی مراکز کی حالت زار اور اس واقعے کا خاص طور پر سخت نوٹس لینے کی ضرورت ہے متعلقہ حکام سے استفسار ہونا چاہئے کہ پولیس میں رپورٹ درج کرلی گئی اسی افراد فرار ہوئے اور وہ لاعلم رہے۔اس سے یہ پہلو بھی نکلتا ہے کہ سوشل ویلفیئر کے افسران ان بحالی مراکز سے کس حد تک بے نیاز اورلاتعلق رہتے ہیں، شاید یہی وجہ ہے کہ تنگ آمد بجنگ آمد کے مصداق گداگر بھی یہاں ٹھہرنے پر تیار نہیں ہوئے اور بھاگ نکلے۔ نشے کے عادی افراد کو بغیر سخت نگرانی کے اس طرح کھلا چھوڑنا مزید خطرات کا باعث امر ہے۔ سوشل ویلفیئر کے حکام اگر گداگروں اور منشیات کے عادی افراد کو سنبھالنے کے قابل نہیں تو گاڑیاں بھر بھر کے حکومت کے دبائو پریہاں لانے کی بھلا ضرورت ہی کیا تھی کہیں ایسا نہ ہو کہ اس واقعے میں خود محکمے کے اہلکار ملوث ہوں اور ڈرامہ رچایا گیا ہو بہرحال حقائق سے آگاہی اور ذمہ داری کے تعین کا تقاضا ہے کہ اس واقعے کی غیر جانبدارانہ تحقیقات کی جائے جبکہ پولیس اپنے طور پر رپورٹ مرتب کرے۔تفصیلات اور حقائق سے آگاہی کے بعد حکومت کو اس حوالے سے سخت کارروائی کرنی چاہئے اور آئندہ اس طرح کے واقعے کا بروقت تدارک کرنے کے انتظامات کئے جائیں۔بحالی مراکز کو عقوبت خانے نہیں حقیقی معنوں میں بحالی مراکز بنایا جائے اور گداگروں ومنشیات کے عادی افراد کی ذہنی وجسمانی علاج اور ترغیب کے ذریعے ان کو اس لعنت سے چھٹکارے اور معاشرے کا مفید شہری بنانے کے اقدامات پر توجہ دی جائے۔