اہل اقتدار کے لئے ایک کالم

جس وقت بھٹو دور میں (ذوالفقارعلی بھٹو) نیشنل عوامی پارٹی(نیپ)پر پابندی لگی، نیپ اس وقت پاکستان کے ترقی پسندوں کی جماعت تھی۔ ملک کے چاروں صوبوں میں سیاسی اور دو صوبوں بلوچستان اور صوبہ سرحد (اب خیبرپختونخوا) اور قومی اسمبلی میں پارلیمانی وجود رکھتی تھی۔ سید محمد قسور گردیزی، رائو مہروز اختر، کامریڈ نوازبٹ، نثارالحق عثمانی، ڈاکٹر نذیر احمد اور بہت سی دیگر شخصیات نیپ کے قافلے کا حصہ تھیں۔ نیپ پر پابندی کے بعد سردار شیر باز خان مزاری کی قیادت میں این ڈی پی بنی، یہ جماعت پہلے اپوزیشن اتحاد یو ڈی ایف، پھر پاکستان قومی اتحاد کے9ستاروں میں شامل ہوئی۔ 5جولائی 1977ء کو ملک میں تیسرا مارشل لاء لگ گیا۔ حیدر آباد سازش کیس میں شامل کئے گئے نیپ کے رہنما رہا ہوئے مگر ان کے راستے جدا ہوچکے تھے۔ پشتون رہنما این ڈی پی کا حصہ بنے، بلوچوں نے میرغوث بخش بزنجو کی قیادت میں پاکستان نیشنل پارٹی بنائی، سید محمد قسور گردیزی اور سیدہ عابدہ حسین سمیت پنجاب کے دونوں حصوں کے متعدد رہنما بھی بی این پی میں شامل ہوئے۔ اس دوران نیشنل پروگریسو پارٹی بھی بنی پھر بکھر گئی۔ بعدازاں عوامی نیشنل پارٹی بنی، ایک مرحلہ پر پنجاب اور سندھ کے ترقی پسندوں سے ملکر نیشنل عوامی پارٹی کی بنیاد رکھی گئی۔تمہیدی سطور طویل ہوگئیں عرض کرنے کا مقصد یہ تھا کہ سیاسی جماعت پر پابندی مسئلہ کا حل تھا نہ ہے۔ پابندی نے ایک ملک گیر ترقی پسند جماعت کا کیا حشر کیا یہ ہماری سیاسی تاریخ کا تلخ ترین باب ہے۔ بدقسمتی یہ ہے کہ اس ملک کی عمومی سیاسی تاریخ مرتب نہیں ہوئی، ہم نے اپنے اپنے محبوب رہنما کی آنکھ سے سیاست کو سمجھنے اور تاریخ کو حفظ کرنے کوشش کی، نتیجہ کیا نکلا، میرا سچ آپ کا جھوٹ آپ کا سچ مجھے قبول نہیں۔
یہ ساری باتیں اس لئے یاد آئیں کہ وزیراعظم کے قانون وپارلیمانی امور کیلئے مشیر ڈاکٹر بابر اعوان نے کہا ہے کہ مریم نواز کے ایک بیان کی بنیاد پر مسلم لیگ(ن) پر پابندی لگ سکتی ہے۔ سادہ سا سوال ہے کیا نون لیگ پر پابندی سے تحریک انصاف یا سیاسی عمل محفوظ ہو جائے گا۔ نون لیگ کی عوامی پارلیمانی طاقت ختم ہو جائے گی اور یہ کہ کیا پاکستان مسلم لیگ(ن) اگر پنجاب مسلم لیگ میں تبدیل ہوئی تو کیا ہوگا؟ مسلم لیگ(ن) کی قیادت کے تحفظات، مطالبات اور کچھ شخصیات پر الزامات پر مکالمہ ہونا چاہئے۔ جن شخصیات پر الزامات ہیں انہیں خود اپنی بات کہنی چاہئے ناکہ کرائے کے ترجمان وہ سب کہیں جس کا سارے فسانے میں ذکر نہیں تھا۔ مناسب ترین بات یہ ہے کہ سیاسی عمل کے مخالفین کو ایک دوسرے کیخلاف انتہا پسندانہ طرزعمل اپنانے سے گریز کرنا چاہئے۔2018ء کے عام انتخابات میں سارے انتظامات کے باوجود نون لیگ حاصل کردہ ووٹوں کے حساب سے ملک کی دوسری بڑی پارٹی ہے، جہاں تک مریم نواز کے اس بیان کا تعلق ہے کہ ''فوج سے بات ہوسکتی ہے لیکن پہلے وہ مسلط کردہ حکومت کو گھر بھیجے'' تو اس بیان پر ناپسندیدگی زیادہ ہے۔ تلخ حقیقت یہ ہے کہ یہ بیان جمہوری اقدار کے یکسر منافی تھا لیکن اس بیان کو لیکر یہ کہنا کہ نون لیگ پر پابندی لگ سکتی ہے اس بیان سے بھی بڑا بلنڈر ہے۔
2014ء کے دھرنے کے موسم میں پتہ نہیں جناب ڈاکٹر بابر اعوان کس جماعت میں تھے ورنہ ڈی چوک کے کنٹینر سے روزانہ اس طرح کے بیان دیئے جاتے تھے کہ اگر انہیں بنیاد بنا کر تحریک انصاف پر پابندیوں کا راستہ اختیار کیا جاتا تو لگ بھگ50بار پابندی لگ سکتی تھی۔خود تحریک انصاف اقتدار میں آنے کے دن سے تواتر کیساتھ یہ تاثر دے رہی ہے کہ وہ کس کی رضا سے اقتدار میں آئی۔ آخر وہ کون ہے اور رضا کی ضرورت کیوں؟ عوام نے تو سب سے زیادہ ووٹ تحریک انصاف کو دیئے تھے، وہی قومی اسمبلی میں سنگل لارجسٹ پارٹی بن کر اُبھری، اتحادیوں کیساتھ ملکر اس نے وفاق اور پنجاب میں حکومتیں بنائیں۔ یہ اتحادی کیسے کنٹینر پر سوار ہوئے، کسی نظریاتی ہم آہنگی سے یا''ہانکا''کئے جانے سے اس پر یہاں بحث مقصود نہیں البتہ چند وجوہات ایسی بہر طور ہیں کہ جن سے اس رائے کو تقویت ملتی ہے کہ اسٹیبلشمنٹ پوری طاقت کیساتھ انتخابی عمل پھر پولنگ اور بعدازاں حکومت سازی کے مراحل میں تحریک انصاف کیساتھ کھڑی تھی۔ بہت سارے شواہد ہیں لیکن اگر آپ کو یاد ہو تو2018ء کے انتخابات کے بعد آئی ایس پی آر کے اس وقت کے سربراہ میجر جنرل آصف غفور نے ایک ٹویٹ کیا تھا۔کیا کسی نے کہا کہ ایک ریاستی محکمے کے ذیلی محکمے کے سربراہ کو اس طرح کا ٹویٹ کرنا چاہئے تھا؟ کالم کے دامن میں زیادہ گنجائش نہیں بچی سو مختصراً یہ عرض کرنا ضروری ہے کہ سیاسی جماعت کا مقابلہ سیاست کے میدان میں ہوتا ہے غیرسیاسی رویوں اور ہتھکنڈوں کے نتائج آئندہ نسلوں کو بھگتنا پڑتے ہیں۔ مطلب یہ کہ نون لیگ ایک سیاسی جماعت ہے اس کی شکایات کا ازالہ ہونا چاہئے لیکن اسے سیاسی عمل سے کسی بھی طریقہ سے باہر نکالنے کا مطلب زمینی حقائق سے منہ موڑنا ہوگا۔ اُمید ہے کہ ڈاکٹر بابر اعوان ان معروضات پر غور کریں گے۔