پھر سر اُٹھاتی دہشت گردی

وطن عزیز میں دہشت گردی کے ناسور کو بڑی حد تک اکھاڑ پھینکا جا چکا ہے، اس ناسور کے قلع قمع میں پاک فوج اور سیکورٹی ایجنسیزکی جانب سے کامیابی سے کئے گئے عسکری آپریشن، ضرب عضب اور ردالفساد کا کلیدی کردار ہے مگر کچھ اندرونی وبیرونی محرکات کے باعث دہشت کی ایک اور لہر سر اُٹھاتی محسوس ہو رہی ہے۔ حال ہی میں ہونے والی دہشتگرد کارروائیوں میں کراچی میں دوحملوں کے علاوہ زیادہ تر کارروائیوں کا نشانہ خیبر پختونخوا اور بلوچستان سمیت حال ہی میں ضم شدہ قبائلی علاقوں کو بنایا گیا ہے۔
ان کارروائیوں کے پیچھے متحرک شرپسند عناصر کو دو اقسام میں تقسیم کیا جا سکتا ہے۔ پہلے وہ جو مذہبی انتہا پسند ہیں اور دوسرے وہ جو سیکولر اور علیحدگی پسند گروہ ہیں۔ آئیے ہم قارئین کی رہنمائی کیلئے ان دو اقسام کے گروہوں اور ان کی کارروائیوں پر نظر ڈالتے ہیں۔مذہبی انتہا پسند گروہوں کو اس وقت ایک مرتبہ پھر اکھٹے ہونے کا موقع مل گیا جب تحریک طالبان پاکستان سے چند ٹولیاں افغانستان جاکر ایک مرتبہ پھر متحد ہوگئیں۔ تحریک طالبان کی یہ ٹولی خیبر پختونخوا اور ضم شدہ قبائلی علاقو ںمیں دہشتگردی کی ذمہ دار ہے۔ ان کی آخری کارروائی27اکتوبر کو پشاور رنگ روڈ کے پاس، دیرکالونی میں مسجد پر ہونے والاہولناک دہشت گرد حملے پر مشتمل تھی جس کے نتیجے میں آٹھ طالب علم شہید اور نوے سے زائد افراد زخمی ہو گئے تھے۔ اس حملے میں بال بیرنگز کا استعمال اس کے نقصان کو بڑھانے کیلئے تھا اور اس بارود سے بھرے بستے کو مدرسے کے ہال میں لا چھوڑ دیا گیا تھا۔ اس سے دو دن قبل ہی کوئٹہ میں ہزار گنجی کے مقام پر ایک موٹر سائیکل میں نصب آئی ای ڈی کے سبب دھماکہ ہوا۔ یہ بات بھی دلچسپی سے خالی نہیں کہ ان دھماکوں کی پیشگی اطلاع قومی ادراہ برائے انسداد دہشتگردی نے پہلے ہی مہیا کر دی تھی اور انہوں نے پشاور اور کوئٹہ کی ہی ممکنہ ہدف کے طور پر نشاندہی کی تھی۔ان کی اس اطلاع میں ٹی ٹی پی کا نام تک ظاہر کر دیا گیا تھا اور وقت نے ثابت کیا کہ نیکٹا کی یہ اطلاع سو فیصد درست ہوئی۔
گوکہ ٹی ٹی پی نے سب سے پہلے پشاور اور کوئٹہ میں ہونے والے حملوں کی ذمہ داری قبول کرنے سے انکار کیا تھامگر کالعدم تنظیمیں اکثر اوقات مذہبی نوعیت کی جگہوں پر حملوں یا عورتوں اور بچوں کی ہلاکت کے بعد حملے کی ذمہ داری قبول نہیں کرتے۔ البتہ یہ بات کافی پراسرار معلوم ہوتی ہے کہ ٹی ٹی پی نے کسی حکومتی ایجنسی کی جانب سے اسے نامزد کرنے سے پہلے ہی اپنی تئیں خود کو بری الذمہ قرار دے دیا۔ تحریک طالبان پاکستان کی جانب سے ایک اور حملہ شمالی وزیرستان میں رزمک کے مقام پر ایک فوجی قافلے پر بھی کیا گیا جس کے نتیجے میں ایک کپتان اور چھ فوجی شہید ہوگئے۔ یہ بات اب واضح ہوتی جارہی ہے کہ طالبان کی جانب سے ان سابق قبائلی علاقوں میں اپنا اثر ورسوخ بڑھایا جا رہا ہے۔ ٹی ٹی پی کے وہ شرپسند عناسر جنہوں نے افغانستان میں پناہ لے رکھی تھی، مسلسل شمالی اور جنوبی وزیرستان میں حملوں میں ملوث رہے ہیں۔ یہ حملے سرحدپار کر کے یا وہاں بیٹھ کر اپنے قبائلی اضلاع میں بیٹھے فدائیوں کو استعمال کرتے ہوئے بھی کرائے جاتے رہے ہیں۔
دوسری جانب دولت اسلامیہ (آئی ایس) اپنی بنیاد میں اہل تشیع مکتب فکر کی شدید مخالف ہے۔ انہوں نے اس مخالفت کی آڑ میں کابل شہر میں کئی امام بارگاہوں پر حملے کروائے اور شیعہ علاقوں میں کارروائیاں کروا کر بڑی تعداد میں معصوم شیعوں کا قتل عام کرا یا ہے۔ آئی ایس کی جانب سے شہری آبادیوں کو ہی نشانہ بنایا جاتا رہا ہے۔ اس کے زیادہ تر اہداف تعلیمی ادارے، اسپتال اور عوامی اجتماع کی جگہیں ہوتی ہیں۔ دوسری جانب بلوچ علیحدگی پسند، سیکولر سوچ کے حامل دہشت گرد گروہوں کی تکمیل کرتے ہیں۔ پچھلے کچھ ماہ میں ان کے حملوں میں خاصا اضافہ دیکھنے میں آرہا ہے۔ ان حملوں میں چینی سفارتخانے اور سٹاک ایکسچینج کی عمارت کو نشانہ بنایا گیا تھا۔ بلوچستان میں شرپسند عناصر کی حال ہی میں بنی ایک اور تنظیم، بی آر اے ایس نے او۔جی ۔ڈی۔سی ۔ایل کے اہلکاروں کی حفاظت پر مامور فوجی دستے پر اس وقت حملہ کر دیا جب وہ انہیں قافلے کی صورت گوادر سے کراچی تک تحفظ فراہم کر رہا تھا۔ان تمام تر عسکری تنظیموں کو بڑے پیمانوں پر بیرونی امداد حاصل ہے۔ یہ بیرونی امداد فراہم کرنے والی غیر ملکی تنظیموں میں بھارت کی را اور افغانستان کی این۔ ڈی۔ ایس سر فہرست ہیں۔ ان بیرونی عناصر کی مداخلت اپنی جگہ البتہ کبھی کبھی ان کے عمل دخل کو حقیقت سے کئی گنا زیادہ بڑھا چڑھا کر پیش کیا جاتا ہے۔ اس روئیے کی بدولت ہمارے سیکورٹی اداروں کو ان کے تدارک کیلئے مناسب کاروائی کرنے اور ان کی اصل قابلیت ماپنے میں دشواریاں پیش آتی ہیں۔ ہمیں یہ بات سمجھنا ہوگی کہ اکثر دہشت گرد تنظیموں کی ایک سے زیادہ ملکوں میں موجودگی پائی جاتی ہے اور دہشت گردی کے اس ناسور کو مستقل بنیادوں پر اکھاڑ پھینکنے کیلئے ہمیں خطے اور عالمی سطح پر پُرخلوص اور متحداندازمیں کوششیں کرنا ہوں گی۔
(بشکریہ :پاکستان آبزرور، ترجمہ: خزیمہ سلیمان)